کسٹڈی: ضمیر کی آواز پر بے ضمیری

2022 ,مارچ 18



پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے پیچھے ٹرک کی بتی کی طرح سپرٹنٹ لگانے والے چودھری پرویز الہٰی نے دو فکس انٹرویوز کے دوران یہ بھی کہا کہ تحریک انصاف کے12ایم این ایز اپوزیشن کی کسٹڈی میں ہیں۔ حکومت کو نہیں معلوم کہ وہ کہاںہیں۔ ان کے بارے میں پتہ چلا کہ وہ اسلام آباد کے سندھ ہاؤس میں ہیں۔ عمران خان نے سوات میں جلسہ کے دوران کہا تھا کہ الیکشن کمیشن اس ہاؤس ٹریڈنگ کا نوٹس لے۔ سندھ ہاوس میں نوٹوں کی بوریاں لے کر ضمیر خریدے جا رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے اس ہارس ٹریڈنگ کا تو نوٹس نہیں لیا البتہ عمران خان کو ایک اور نوٹس جاری کر دیا کہ انہوں نے یہ جلسہ کیوں کیا ہے ہم نے ضابطہ اخلاق کے تحت وزیر اعظم اور وزراءکو جلسوں سے منع کیا تھا۔ حکومت کی طرف سے آرڈی نینس جاری ہو چکا ہے۔جس کے تحت وزیر اعظم اور وزرائے اعلیٰ انتخابی جلسوں میں شرکت کر سکتے ہیں۔ وزیر اعظم ہاؤس ٹریڈنگ پر الیکشن کمیشن سے متحرک ہونے کی توقع نہ رکھیں۔ سندھ ہاؤس میں پی ٹی آئی کے بارہ ممبران کو ”کسٹڈی“ میں رکھا گیا۔ یہ ایک خفیہ مہم یا اپریشن تھا۔ رات گئے دو ایم این حضرات دُھت ہو کر شور شرابا کرنے لگے تو ان کے مقامِ حفاظت کی قلعی کھل گئی۔ ان ممبران میں تین خواتین ممبران بھی ہیں ۔ان سب کو میڈیا رپورٹس کے مطابق 50کروڑ فی نگ ادائیگی کی جانی ہے۔ ان ممبران کی حفاظت پر سندھ پولیس مامور ہے۔ جو اب خود کسٹڈی میں آگئی ہے۔ سندھ پولیس کے لیے سندھ ہاؤس سے نکلنا ایف آئی اے نے ناممکن بنا دیا ہے۔ 28مارچ کو عدم اعتماد پر ووٹنگ ہونی ہے۔ حکومت پہلے22مارچ کو یہ معاملہ نمٹادینا چاہتی تھی مگر فیصلہ اپوزیشن کو دوڑا کر تھکانے کاکیا گیا۔28مارچ کو بھی یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ ووٹنگ ہو پائے گی۔ سپیکراس معاملے کو قانون اور اپنے اختیارات کے تحت مزید آگے لے جا سکتے ہیں۔اس لیے سندھ ہاؤس سے پی ٹی آئی حکومت کو اپنے لوگ بازیاب کرانے کی زیادہ جلدی نہیں ہے۔ عمران خان اپنے ممبران کو کہہ چکے ہیں کہ وہ پیسے بھی پکڑ لیں اور ان کو ووٹ بھی نہ دیں مگر زرداری جو مبینہ طور پر پیسے بانٹ رہے ہیں انہوں نے بھی کچی گولیاں نہیںکھیلی ہوئیں۔ انہوں نے ادائیگی 5ہزار کے نوٹوں کی صورت میں کی ہے۔ ہر نوٹ کو درمیان سے کاٹ کر ایک حصہ اپنے پاس رکھ لیا ہے جو اس ممبر کو ووٹ عمران خان کے خلاف دینے کے بعد دیا جائے گا۔راجہ ریاض سندھ ہاﺅس میں پناہ گزین ایم این ایز کی سربراہی کررہے ہیں اور ضمیر کی آواز پر بڑی دیانت داری سے بے ضمیر کررہے ہیں۔

متعلقہ خبریں