چنن پیر

2022 ,فروری 9



حضرت عمادین المعروف چنن پیر کے متعلق کئی روایات اور قصے کہانیاں منسوب ہیں۔ جن میں ایک یہ مشہور ہے کہ معروف صوفی بزرگ حضرت جلال الدین سرخ پوش بخاری کا اس علاقے سے گزر ہوا تو یہاں ایک بے اولاد بادشاہ سادھارن کی حکومت تھی۔ سادھارن کو آپ کی کرامات کا علم ہوا تو آپ سے اولاد کے لیے دعا کی درخواست کی۔ درویش نے دعا مانگی تو بادشاہ کے ہاں شہزادہ پیدا ہوا جو اتنا خوبصورت تھا کہ لوگوں نے اس کو چاند سے تشبیہ دی اور چنن پکارنے لگے۔ چنن جب بولنے کی عمر کو آیا تو کلمہ پڑھنا شروع کیا اور رعایا میں مشہور ہوا کہ بادشاہ کا بیٹا غیر مذہب کا نام لیوا ہے تو سادھارن نے اپنے بیٹے کے قتل کا حکم دے دیا ادھر ملکہ نے اپنے بیٹے کی جان بخشی کی درخواست کی جو اس شرط پر قبول کی گئی کہ اب چنن محل کی بجائے صحرا میں رہے گا اور روتی بلکتی ملکہ نے چنن کو صحرا میں ایک ٹیلے پر چھوڑ دیا۔ لوگوں نے دیکھا کہ ایک ہرنی چنن کو دودھ پلا رہی ہے۔ یہ خبر ملکہ تک پہنچی تو وہ محل چھوڑ کر صحرا میں آگئی اور پھر بادشاہ نے چنن کے قتل کا حکم صادر کر دیا لیکن روایت کے مطابق جب شاہی محافظ ٹیلے پر پہنچے تو چنن غائب ہو چکے تھے۔ ایک اور روایت کے مطابق ایک مرتبہ مرتبہ حضرت جلال الدین سرخ بخاری جیسلمیر کے علاقے سے گزرے۔ آپ نے لوگوں سے پوچھا یہاں کوئی کلمہ گو موجود ہے۔ جواب نفی میں ملا۔ آپ نے دعا کی اور بعد دعا لوگوں کو بتایا کہ راجا جیسلمیر کے ہاں ایک لڑکا تولد ہوگا جوصاحب ایمان ہوگا۔ راجا جو حضرت جلال الدین کے روحانی کمالات کی شہرت سن چکا تھا ان کی پیش گوئی پر یقین کر لینے کے باعث پریشان رہنے لگا۔ وہ جانتا تھا مسلمانوں کی برگزیدہ ہستیاں جو بات کہہ دیتی ہیں وہ پوری ہو جاتی ہے۔ اتفاق سے رانی کے ہاں لڑکا پیدا ہوا راجا نے ذہن میں پہلے سے موجود خدشات کے تحت مستقبل میں پیش آنے والی باقی باتوں کے ظاہر ہونے سے پہلے ان کا ازالہ کرنا چاہا اور حکم دیا کہ بچے کوختم کر دیا جائے۔ مامتا نے زندگی کو سنجال دیا۔ ملکہ نے بچے کو جھولے میں ڈال کر اس مقام پر کنیزوں کے ذریعے پہنچا دیا جو مزار کی موجودہ جگہ ہے ایک روایت ہے کہ مامور کرده سپاہیوں کو زروجواہر دے کر کہا کہ دوسری سلطنت میں چھوڑ آئو مگر قتل نہ کرنا۔ بچہ بڑا خوبصورت تھا۔ کہتے ہیں کہ اس کے چاند سے مکھڑے کی وجہ سے اس کا نام چنن پڑ گیا۔ (چاند والا ) ایک روایت ہے کہ جس جھولے میں آپ کو ڈالا گیا وہ صندل کی لکڑی کا بنا ہوا تھا۔ سرائیکی میں صندل کو چنن کہتے ہیں ۔ لوگوں نے جب آپ کو صندل کے جھولے میں دیکھا تو چنن پیر پکارنے لگے۔ کسی کو معلوم نہ تھا کہ آپ راجکمار ہیں۔ بڑے ہو کر آپ سے کرامات کا ظہور ہوا تو سب آپ کی بڑائی کو جان گئے۔ لاکھوں انسانوں کو آپ کی وجہ سے ہدایت ملی۔ آپ ہر وقت جذب کی کفیت طاری رہتی تھی مگر پھر بھی سفر کرتے تو دور دراز کے علاقوں میں چلے جاتے۔ آپ کی دعائیں مستجاب ہونے لگیں تو صحرا میں آپ کا چرچا ہو گیا۔ ذکر کرام میں درج ہے کہ چنن پیر کے والدین بھٹی قوم کے ہندو تھے۔ آپ کی وفات کے بعد آپ کا بھائی میہن آپ کا جانشین ہوا جس کی اولاد اب تک موجود ہے۔ ایک اور عام روایت یہ ہے کہ اُچ شریف میں دفن مشہور صوفی بزرگ،حضرت جلال الدین سرخ پوش بخاریؒ (متوفی1291ء) ایک بار علاقے میں تشریف لائے۔اس وقت علاقے میں سندھیا نامی ہندو راجا کی حکومت تھی۔ حضرت جلال الدینؒ کی ملاقات راجا سے ہوئی ،تو انھوں نے پیشن گوئی کی کہ اس کی راجدھانی میں جلد پہلا مسلم بچہ جنم لینے والا ہے۔ تب رانی ہی علاقے میں واحد حاملہ تھی چناںچہ خدا کا کرنا یہ ہوا کہ اس کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا۔ خوبصورتی کی وجہ سے اس کا نام چنن رکھا گیا (چاند جیسا) کہا جاتا ہے کہ وہ پہلے دن ہی قرآن کی تلاوت کرنے لگا۔ راجا نے بیٹے کو اجنبی زبان بولتے سنا ،تو اسے حضرت جلال الدینؒ کی پیش گوئی یاد آ گئی۔راجا بڑا خائف ہوا کیونکہ سرداروں کو پتا چلتا کہ ولی عہد مسلمان ہو چکا ،تو وہ اس کی حکومت ختم کر سکتے تھے۔ اس لیے راجا بیٹے کو ایک غیر آباد ٹیلے پہ چھوڑ آیا تاکہ وہاں بھوک و پیاس اس کا خاتمہ کر ڈالیں،لیکن بچہ غیبی مدد کے سہارے نہ صرف زندہ رہا بلکہ پل بڑھ گیا۔ چنن پیر حضرت جلال الدینؒ کے ممتاز مرید،حضرت جہانیاں جہاں گشتؒ سے بیعت ہوئے ۔ انھوں نے واپس اپنے علاقے پہنچ کر سیکڑوں ہندئوں کو مسلمان کیا اور وہاں اسلام پھیلایا۔ جب فوت ہوئے ،تو پیروکاروں نے انھیں اسی ٹیلے میں دفن کر دیا،جہاں انھیں لاوارث چھوڑا گیا تھا میلہ بہاول پور سے تقریباً 60 میل دور صحرائے چولستان میں قلعہ ڈیراور اور دین گڑھ کے درمیان پنجاب کی رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑی تحصیل یزمان سے ذرا آگے چنن پیر کا مزار ہے۔ تقریباً 600 سال قدیم اس مزار پر ہندو اور مسلمان یکساں ایمان سے آتے ہیں۔ حضرت عماد الدین المعروف چنن پیر کا عرس پاکستان میں اپنی نوعیت کا واحد عرس ہے جو مسلسل سات ہفتے یعنی فروری کی آخری جمعرات بمطابق ہندی مہینے چیت سے شروع ہو کر اپریل کی اوائل جمعرات تک جاری رہتا ہے۔ مسلسل سات جمعرات تک جاری رہنے والا یہ میلہ پانچویں جمعرات کو اپنے عروج پر پہنچ جاتا ہے۔ اس دن ضلع بہاول پور میں بھی عام تعطیل ہوتی ہے۔ حضرت چنن پیر کے ہندو اور مسلمان یکساں معتقد ہیں۔ ہندو لوگ مجاور مزارکے ہاتھ سے تبرکات لیتے ہوئے کوئی پرہیز نہیں کرتے ۔ لوگ خصوصاً مڑیچہ ہندو یہاں زیادہ حاضری دیتے ہیں اور دیگر غیر مسلم اقوام بھی حاضری دیتے ہیں۔ جہاں حضرت چنن پیر چولستان روہی کے اس علاقہ کی شناخت ہیں اور بہت بلند نام ہیں وہاں یہ مزار امن و آشتی کے لیے بھی نمونہ ہے۔ کرامات اہم بات یہ ہے کہ چنن پیر کا مزار ریت کے ایک بہت بڑے ٹیلے پر واقع ہے اور جب بھی اس پر عمارت قائم کرنے کی کوشش کی گئی تو ہمیشہ ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا مزار کے احاطے میں ایک درخت ہے جس کے بارے میں مشہور ہے کہ چنن کی والدہ یہاں مدفون ہیں۔ زائرین حاجت بیان کرنے کے بعد اس درخت سے کپڑے کی کترنیں باندھ کر چلے جاتے ہیں۔ اگر مناجات پوری ہوجائیں تو کترن کھل جاتی ہے اور پھر زائرین عرس پر نیاز چڑھانے آتے ہیں۔ روہی والوں کے نزدیک چنن پیر کی حیثیت خوشی کے دیوتا کی سی ہے روحانیت کے اس مرکز کو مسرت و شادمانی کا سرچشمہ سمجھتے ہیں۔ یہاں ان کی ہر منت پوری ہوتی ہے۔ غموں کا مداوا اور خوشیوں کا سامان فراہم ہوتا ہے۔ بے اولادوں کو اولاد، بن بیاہوں کو دلہنیں نصیب ہوتی ہیں۔ آپ کے مزارپر جو لوگ اولاد مانگنے آتے ہیں اگر ان کی منت پوری ہو جائے تو وہ مرد نسوانی چولی گھگرہ پہن کر رقص کرتا ہوا مزار پر حاضری دیتا ہے۔ کچھ دن قیام کرنے ، خیرات کرنے کے بعد لوٹ جاتے ہیں۔مزار پر چھت نہیں ہےروایت ہے کہ جب بھی چھت بنائی گئی وہ گر جاتی ہے۔

متعلقہ خبریں