جنس تبدیلی کے بعد احساسات اور سہیلیوں میں کیا تبدیلیاں آتی ہیں؟ ایسی شخصیت کی زبانی جواب جو اس عمل سے گزر چکی ہیں

2017 ,مئی 22



کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) اکثر اوقات ایسی خبریں اخبارات کی زینت بنتی رہتی ہیں کہ فلاں جگہ اتنے سالہ لڑکی آپریشن کے بعد لڑکا بن گئی۔ پاکستان میں ایسے کئی واقعات پیش آ چکے ہیں اور لوگ متجسس رہتے ہیں کہ اس بارے میں جانا جائے کہ جس شخص کی جنس تبدیل ہوئی ہے اس کے آپریشن کے بعد تاثرات اور دونوں طرح کی زندگیوں میں کیا فرق ہوتا ہے۔ کچھ لوگ یہ سوال کرتے بھی پائے جاتے ہیں کہ بطور لڑکی مذکورہ شخص کی دوستی بھی صنف نازک سے رہی ہوگی لیکن آپریشن کے بعد اس کی دوستیوں کا کیا ہوتا ہے! روزنامہ پاکستان نے کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک ایسے ہی 20 سالہ نوجوان عبداللہ کا انٹرویو کیا اور ان سوالات کا جواب جاننے کی کوشش کی ہے۔ 
روزنامہ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے عبداللہ (سابق لڑکی) نے بتایا کہ اس کاگزشتہ ماہ اپریل میں لانڈھی کے ایک ہسپتال میں آپریشن ہوا اور وہ لڑکی سے لڑکا بن گیا۔ لڑکی بننے سے پہلے اس کی دوستی شازیہ، عاصمہ، زارا اور ثنا سے تھی لیکن جنس تبدیل ہونے کے بعد جب وہ اپنی شادی شدہ اور بال بچے دار سہیلیوں سے ملنے گیا تو انہوں نے اسے بھائی کہہ کر مخاطب کیا ۔ پہلے بطور لڑکی وہ اپنی سہیلیوں سے گلے لگ کر ملا کرتا تھا لیکن اب وہ لڑکیاں اس سے دور سے ہی سلام دعا کرتی ہیں۔عبداللہ نے بتایا کہ جنس کی تبدیلی سے پہلے اس کا نام کنول سدرہ تھا ، اس کے احساسات، آواز، کپڑے اور بال بھی لڑکیوں جیسے تھے لیکن لڑکا بننے کے بعد اس کے احساسات میں کافی تبدیلی آئی ہے اور اس کی آواز بھی لڑکوں جیسی ہوگئی ہے۔ 
ایک سوال کے جواب میں عبداللہ نے بتایا کہ کنول سدرہ کا ایک بوائے فرینڈ بھی تھا جس سے وہ رات رات بھر فون پر باتیں کیا کرتی تھی لیکن جس دن اس کا آپریشن ہونا تھا اس سے دو روز پہلے اس کے بوائے فرینڈ کی شادی ہوگئی۔ چونکہ اسلام بھی مردوں کی مرد سے شادی کی اجازت نہیں دیتا جبکہ اس کے خود بھی احساسات مردانہ ہو چکے ہیں اس لیے اب اسے اپنے سابق بوائے فرینڈ میں مزید دلچسپی نہیں ہے۔جنس تبدیل ہونے والی شخصیت نے بتایا کہ بطور کنول سدرہ وہ اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ بھی خوش تھی لیکن اگر اسے زندگی میں کبھی بھی موقع ملتا تو وہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سے شادی کرنے کو ترجیح دیتی۔ اگر بطور عبداللہ احساسات کو دیکھا جائے تو وہ فلم سٹار میرا سے شادی کرنا چاہتا ہے، عبداللہ میرا جی کو نہ صرف خوش رکھے گا بلکہ اس کا گھر کے کام کرنے کا تجربہ بھی کام آئے گا جس سے ایک اچھا گھرانہ تشکیل پائے گا۔ 

متعلقہ خبریں