وہ شہر جہاں بچوں کی مائیں ہی ان کے ساتھ ایسا کام کرنے لگیں کہ جان کر ہر شہری کا دل دُکھی ہو جائے

2017 ,مئی 20



لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) خواتین کے خلاف جنسی جرائم اور ہم جنس پرستی کی لعنت ایک طرف، دنیا میں ایسے درندوں کی بھی کمی نہیں جو بچوں میں جنسی رغبت رکھتے ہیں اور انہیں اپنی ہوس کا نشانہ بناتے ہیں۔ برطانوی نشریاتی ادارے نے اپنی ایک ڈاکومنٹری میں اس حوالے سے ایسا انکشاف کیا ہے کہ انسانیت ہی شرما کر رہ جائے۔  بی بی سی تھری کی رپورٹر سٹیسی ڈولی ایک عرصے سے بچوں کی جبری مشقت اور ان کے خلاف جنسی جرائم پر تحقیقات کر رہی ہے اور اکثر اس موضوع پر اس کی بنائی گئی ڈاکومنٹری فلمیں بی بی سی تھری پر نشر ہوتی رہتی ہیں۔ حال ہی میں سٹیسی نے فلپائن کا سفر کیا اوروہاں ایک ہوم لینڈ سکیورٹی ایجنٹ کے ساتھ مل کر بچوں کے خلاف جنسی جرائم کے متعلق تحقیقات کیں، جن میں یہ انسانیت سوز انکشاف ہوا کہ فلپائن میں اکثر مائیں خود اپنے بچوں کو رقم کے عوض ایسے درندوں کے حوالے کرتی ہیں جو بچوں میں جنسی رغبت رکھتے ہیں۔
یہ مائیں اپنے بچوں کی فحش ویڈیوز بنا کر انٹرنیٹ پر پوسٹ کرتی ہیں جہاں سے بچوں میں جنسی رغبت رکھنے والے ان سے رابطہ کرکے انہیں رقم دیتے اور بچوں کو اپنی درندگی کا نشانہ بناتے ہیں۔مائیک نامی فلپائنی ہوم لینڈ سکیورٹی ایجنٹ اور سٹیسی نے بھیس بدلا اور بچوں کے خریدار بن کر ایسی کئی ماﺅں سے رابطہ کیا اور پھر انہیں گرفتار کر لیا۔ جب ان سے تفتیش کی گئی تو معلوم ہوا کہ وہ اب اپنے کئی بچوں کو اس طرح فروخت کر چکی ہیں۔ ان بچوں میں بعض کی عمر محض 5سال تک تھی۔ ان خواتین نے گرفتار ہونے پر الٹا اپنے بچوں پر الزام دھر دیا اور کہا کہ وہ خود یہ کام کرتے ہیں۔ ان خواتین نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ان کے پاس آنے والے خریدار زیادہ تر امریکی اور برطانوی باشندے ہوتے ہیں۔ سٹیسی کی فلپائن میں کی گئی ان تحقیقات کی دستاویزی فلم بی بی سی تھری پر نشر ہوئی جس نے دنیا میں ہنگامہ برپا کر رکھا ہے۔

متعلقہ خبریں