چین نے یورپ تک ایکسپریس ریل کے منصوبے کا اعلان کر دیا

تحریر: فضل حسین اعوان

| شائع اکتوبر 14, 2016 | 17:44 شام

بیجنگ (شفق ڈیسک) چین کے ریاستی منصوبہ بندی کمیشن نے ایک ایسا پانچ سالہ منصوبہ تیار کیا ہے، جسکے تحت ملک کے تیز رفتار ریلوے رابطوں کو توسیع دے کر یورپ تک پھیلا دیا جائیگا۔ یہ منفرد منصوبہ چین کی ون بیلٹ، ون روڈ‘ پالیسی کا حصہ ہے۔ میڈیارپورٹس میں بتایا گیا کہ چین میں سرکاری منصوبہ سازوں کیمطابق اس پلاننگ کے تحت چائنہ ایکسپریس ریلوے کو کسٹمز کلیئرنس اور بنیادی ڈھانچوں کے شعبوں میں مزید ترقی دیتے ہوئے اسکا دائرہ کار یورپ تک پھیلا دیا جائے گا۔ بیجنگ حکومت کے 2016ء سے لے کر 2020ء تک کے منصوبہ

بندی پروگرام کیمطابق یہ منصوبہ چین کی ون بیلٹ، ون روڈ‘ نامی اس پالیسی کا انتہائی اہم جزو ہے، جسکے تحت صدر شی جن پنگ اپنے ملک کے باقی ماندہ یوریشیا کیساتھ رابطوں اور مختلف شعبوں میں تعاون میں اضافے کی مہم پر عمل درآمد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ چین کے قومی ترقیاتی اور اصلاحاتی کمیشن نے اپنی ویب سائٹ پر بتایا کہ یہ پلان بیجنگ کے مجوزہ کوریڈور کو عملی شکل دینے سے متعلق پہلی اعلیٰ سطحی سکیم ہی نہیں بلکہ اس منصوبے میں چینی پیداواری اور کاروباری اداروں کی دلچسپی بھی مسلسل زیادہ ہوتی جا رہی ہے کیونکہ اسطرح چین سے یورپ تک برآمدی مصنوعات کی مال برداری کیلئے درکار وقت بہت کم ہو جائیگا۔ چین کے مختلف علاقوں کی مقامی حکومتیں ایسی 39 سے زائد ریل سروسز کا اجراء کر چکی ہیں، جنکے ذریعے مثال کے طور پر چونگ چِنگ جیسے چینی شہروں کو جرمنی، پولینڈ اور ہالینڈ میں مختلف شہروں سے جوڑا جا سکے گا۔ اس سلسلے میں ایک اہم پیش رفت یہ بھی ہوئی کہ بیجنگ حکومت نے اسی سال ایسے علاقائی نیٹ ورکس کو اپنے کنٹرول میں لے لیا اور انہیں ملا کر مسافر بردار اور مال بردار ریل گاڑیوں کے ایک نئے برانڈ چائنہ ایکسپریس ریلوے کا نام دے دیا۔ چین کے نیشنل ڈویلپمنٹ اینڈ ریفارمز کمیشن کیمطابق اس نئے نیٹ ورک کو ہوائی اور سمندری راستوں سے اس مال برداری کے متبادل نظام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جسکا ایک بڑا منفی پہلو اس پر اٹھنے والی بے تحاشا لاگت ہے۔ کمیشن کیمطابق فضائی اور سمندری راستوں سے مال برداری کے اس نظام کو طلب اور رسد میں عدم توازن کا سامنا بھی ہے اور اس حوالے سے مروجہ ریاستی ضابطوں میں بہتری کی بھی ضرورت تھی۔ این ڈی آر سی کی ویب سائٹ کیمطابق چین کے سٹیٹ پلانرز اس منصوبے کے تحت اپنی توجہ زیادہ تر تین راستوں پر مرکوز رکھیں گے، جن پر 43 ٹرانزٹ مراکز بھی قائم کئے جائینگے اور جن راستوں پر سروسز اور انفراسٹرکچر کو بھی خاص طور پر بہتر بنایا جائیگا۔