ہونان شہر کے پہاڑوں میں اکیس سو سال پرانی لاش

تحریر: فضل حسین اعوان

| شائع دسمبر 04, 2016 | 19:38 شام

بیجنگ (شفق ڈیسک) انسانی لاشوں کو حنوط کرنے کے فن میں قدیم مصریوں کو استاد مانا جاتا ہے۔ لیکن چین میں ہزاروں سال قبل حنوط کی گئی ایک ایسی لاش دریافت ہو گئی کہ جسے دیکھ کر ماہرین مصریوں کو بھی بھول گئے ہیں۔ مصر سے آج تک سینکڑوں ممیاں دریافت ہوئی ہیں۔ لیکن حیرت کی بات ہے کہ چین سے دریافت ہونیوالی اس ایک ممی نے ہی دنیا میں دھوم مچا دی ہے۔ قدیم ہان مملکت کے دور کی ممی ’’لیڈی آف ڈائی‘‘ تقریباً 2100 سال پرانی ہے لیکن آج بھی اس کے تمام بال اور بھنوئیں محفوظ ہیں، اسکی جلد نرم ہ

ے اور حتیٰ کہ اس کے بازو اور ٹانگیں مڑ سکتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب شین یوئی نامی اس شہزادی کی موت ہوئی تو وہ بلڈ پریشر، موٹاپے اور ذیا بیطس جیسی بیماریوں کا سامنا کر رہی تھی اور اسکی دل کی حالت بھی اچھی نہیں تھی۔ اسکا مقبرہ چینی کارکنوں نے اس وقت دریافت کیا جب وہ ہونان شہر کے پہاڑوں میں پناہ گاہ تلاش کررہے تھے۔ اس ممی کی حیرتناک حد تک اچھی حالت نے دنیا بھر کے سائنسدانوں کو حیران کردیا۔ اسکے تمام اندرونی اعضاء بھی موجود ہیں اور حتیٰ کہ اس کے ٹائپ A بلڈ گروپ کا بھی پتہ چلایا جا چکا تھا۔ سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ اس نے آخری بار تربوز کھایا، جس کی باقیات کا اس کے جسم سے پتہ چلایاگیا ہے۔ اس حنوط شدہ لا ش کے ساتھ مقبرے میں خالص ریشم کے 100 سے زائد ملبوسات، 160 مجسمے اور میک اپ کی درجنوں اشیاء دریافت ہوئیں۔ شہزادی کی لاش ریشم کی 20 تہوں میں لپیٹی گئی تھی اور اسے چار تہوں پر مشتمل تابوت میں رکھا گیا تھا۔