چور اور کتی

تحریر: فضل حسین اعوان

| شائع دسمبر 12, 2016 | 08:16 صبح

معروف سکالر اور کالم نگار پروفیسر توفیق بٹ نے اپنی ایک پوسٹ میں بڑی دلچسپ بات کی ہے وہ کہتے ہیں میرے ایک دوست کا نام "عادل" ھے ، ھم لاڈ پیار سے اُسے " کُتی" کہتے ہیں ، میں اکثر اُسے اچھا سمجھنا شروع کر دیتا ھوں ، وہ اکثر ثابت کرتا ھے وہ انتہائی ، بزدل ، نااھل ، کاہل ، لالچی اور کمینہ انسان ھے ، پچھلے دنوں ایک بار پھر میں نے اسے اچھا سمجھنا شروع کردیا ، ایک صاحب نے میرے گھر چوری کی ، مگر وہ مانتےنہیں تھے ، حالانکہ میرے پاس اس کے پورے شواہد تھے ، میں نے یہ شواہد اپنے دوست &q

uot;عادل" عرف کُتی کے سامنے رکھے ، اس نے کہا اگر تم مجھے فیصلہ کرنے دو میں ان صاحب کو سزا نہ بھی دے سکا کم از کم تمہارا مال ضرور واپس دلوا دوں گا ، میں اس کی باتوں میں آگیا ، حالات کے مطابق اب یوں محسوس ھوتا ھے " کُتی" چوروں سے مل گئی ھے ، مجھے بتائیں میں کیا کروں ؟