20 سالہ لڑکی حبیبہ اور اسکی بہن کی آبرو ریزی، درد ناک کہانی

2016 ,نومبر 27



چٹا گانگ (شفق ڈیسک) برما کی حکومت ملک سے مسلمانوں کا خاتمہ کرنے کیلئے منصوبہ بندی کے تحت انکی نسل کشی کر رہی ہے۔ برمی فوج کے ہاتھوں روہنگیا مردوں کے قتل عام اور خواتین کی اجتماعی آبرو ریزی نے انہیں ہجرت پر مجبور کر دیا ہے اور ان کی اکثریت بنگلہ دیش کا سفر اختیار کر رہی ہے۔ برما سے ہجرت کرکے بنگلہ دیش کے پناہ گزین کیمپ میں پہنچنے والی 20 سالہ لڑکی حبیبہ اور اس کی بہن کی دردناک کہانی نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کیمطابق برما کے بارڈر سے چند کلومیٹر دور بنگلہ دیش میں قائم اس پناہ گزین کیمپ میں گفتگو کرتے ہوئے حبیبہ کا کہنا تھا کہ ’’برمی فوج ہمارے گاؤں میں داخل ہو گئی۔ فوجیوں نے ہمارے باپ سمیت درجنوں مردوں کو قتل کر دیا اور گھروں میں گھس کر خواتین کیساتھ اجتماعی زیادتی کی۔ کچھ فوجی ہمارے گھر میں بھی گھس آئے۔ انہوں نے مجھے اور میری بہن، 18سالہ سمیرا کو بیڈ کے ساتھ باندھ دیا اور اجتماعی زیادتی کا نشانہ بناتے رہے۔ اسکے بعد انہوں نے ہمارے گھر کو آگ لگا دی اور جاتے ہوئے ہمیں وارننگ دی کہ اگر ہم انہیں دوبارہ یہاں نظر آئے تو انہیں بھی قتل کر دیا جائے گا۔ سمیرا کا کہنا تھا کہ فوجیوں نے ہمارے گاؤں ’’اوڈنگ‘‘ (Udang) کے تمام گھروں سے قیمتی سامان لوٹ لیا اور انہیں نذر آتش کر دیا۔ انہوں نے ہمارے علاوہ گاؤں کی درجنوں نوجوان لڑکیوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا۔ رپورٹ کیمطابق واقعے کے بعد دونوں بہنیں اپنے بھائی ہاشم اللہ کے ہمراہ برما سے فرار ہو کر اس پناہ گزین کیمپ میں آ گئیں۔ گفتگو کرتے ہوئے ہاشم اللہ کا کہنا تھا کہ یہاں ہم فاقوں سے مر رہے ہیں لیکن اتنا ہی بہت ہے کہ یہاں ہمیں جان و آبرو کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔ گزشتہ دنوں اقوام متحدہ کے ایک سینئر عہدیدار نے بھی تصدیق کر دی ہے کہ برمی حکومت فوج اور پولیس کو مسلمانوں کی نسل کشی کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ وہ اپنے ملک سے مسلمانوں کا مکمل خاتمہ کرنا چاہتی ہے۔

متعلقہ خبریں