نوجوان لڑکی سے عصمت دری ,جج نے بااثر ملزم کو باعزت بری کر دیا وجہ ایسی جیسے جان کر آپ کو بھی شدید غصہ آئے گا

2017 ,مارچ 31



میکسیکوسٹی (مانیٹرنگ ڈیسک) جس معاشرے میں بے انصافی عام ہوجائے وہاں قانون کس طرح دولت اور طاقت والوں کے تلوے چاٹتا ہے، اس کی ایک انتہائی شرمناک مثال میکسیکو کی ایک عدالت کے فیصلے کی صورت میں دیکھی جا سکتی ہے۔ ملک کی اعلٰی عدالت نے ایک نوعمر لڑکی کی عصمت دری کرنے والے امیر زادے کو یہ کہہ کر بری دیا ہے کہ چونکہ اسے لڑکی کی عصمت دری کا ارادہ نہیں تھا لہٰذا اسے سزا دینے کی کوئی وجہ نہیں بنتی۔ 
دی گارڈین کی رپورٹ کے مطابق 21 سالہ ڈیاگو کرز ان چار امیرزادوں میں سے ایک ہے جو میکسیکو کے سوشل میڈیا پر خصوصی شہرت رکھتے ہیں اور بچہ بچہ ان کے نام سے واقف ہے۔ انہوں نے نیوایئر کے موقع پر سکول کی طالبہ کو اغوا کرنے کے بعد اس کی عصمت دری کی۔ پیر کے روز سنائے گئے فیصلے میں جج انوار گنزالز کا کہنا تھا اگرچہ ملزم نے متاثرہ لڑکی کے ساتھ بدفعلی کی لیکن اس نے یہ کام جسمانی خواہش کے تحت نہیں کیا تھا لہٰذا وہ قصور وار نہیں ہے۔میکسیکو میں پہلے ہی یہ تاثر عام پایا جاتا ہے کہ دولت اور سیاسی روابط رکھنے والے لوگ قانون سے بالا تر ہیں، لیکن اس عدالتی فیصلے کے بعد تو یہ تاثر اپنی انتہا کو پہنچ گیا ہے۔ انسانی حقوق کارکن ایستفانیا ویلا باربا نے عدالت کے فیصلے پر حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے سوال کیا ”اس نے لڑکی کی عصمت دری کی، لیکن چونکہ اسے لطف نہیں آیا لہٰذا یہ جنسی جرم نہیں ہے؟ اگر یہ جسمانی خواہش کے لئے نہیں کیا گیا تھا تو بھی لڑکی کی توہین اور تذلیل تو کی گئی ہے، لیکن عدالت کے خیال میں اگر ملزم کا ارادہ نہیں تھا تو یہ جنسی جرم ہی نہیں ہے۔“ 
 ملزم ڈیاگو کرز لڑکی کی عصمت دری کے بعد سپین فرار ہوگیا تھا۔ ہسپانوی حکومت نے تو اسے ملزم قرار دیتے ہوئے واپس میکسیکو بھجوایا، لیکن میکسیکو کی عدالت نے اسے باعزت بری کر کے دنیا کو حیران کر دیا۔ اور سوچ میں ڈال دیا کہ اگر قانون ایسا رہا تو ہم لوگ انساف کے لیے کہاں جائیں گے۔

متعلقہ خبریں