موت کی کھائی

2019 ,اگست 29



صدر نے اپنے وزیر کا ہاتھ تھاما تین قدم ہمقدم رہے، چوتھا قدم اٹھا کروزیر نے یونہی فرش رکھا جو دراصل ایک تختے پر پڑا جو الیکٹرانک کنٹرول تھا، قدم کا لمس محسوس کرتے ہی پھٹہ اپنی جگہ سے ہٹ گیا اور صدر کے بااعتماد وزیر کھائی میں جا گرے۔ اس موقعہ عبرت کو عوام پر افشا کرنے کیلئے میڈیا بھی موجود اور موت سا سکوت تھا۔ شمالی کوریا میں وزیر کو کرپشن پر موت کی سزادی گئی۔اسی ملک میں جاسوسی پر وزیر دفاع کو توپ کے منہ سے باندھ کر اُڑا دیا گیا تھا۔ وزیر کے موت کی کھائی میں گرنے کے صرف تین : ایک دو تین سیکنڈ بعد دھوئیں کی ہلکی سی لکیر نمودار ہوئی اور پھٹہ اپنی جگہ پر آ گیا۔اسی ملک میں وزیر دفاع کو جاسوسی پر توپ سے باندھ کر اڑادیا گیاتھا۔چین میں بھی کرپشن پر زیرو ٹالرنس ہے مگر ہمارے ہاں کرپشن کے خاتمے اور کڑ ے احتساب کی باتیں تو بہت ہوتی ر ہیں مگر....
آج کہا جا رہا ہے ہمیں پکڑ لیا فلاں کو کیوں نہیں؟۔ چین اور شمالی کوریا کی طرح قوانین بنائیں، ان پر عمل کریں، آپ کو اس کے بعد تیسرا کرپٹ فرد نظر نہیں آئیگا۔ کرپٹ لوگوں کے لیے جیلوں میں آرام دہ ماحول، ملاقاتیوں سے گپ شپ، سیاسی حکمت عملیوں کے مشاورت کی سہولیات ، تمام ترآسائشات، مراعات دستیاب ہونگی تو یہ لوگ جیل سے باہر آنے کے لیے بارگین بھی اپنی شرائط پر کرینگے۔ بارگین کیوں؟ جس کی لوٹ مار چوری ڈکیتی ثابت ہو، اس سے ا یک ا یک پائی وصول کرنے کے ساتھ ، جرمانہ اس کے اثاثے قرق کر کے وصول کیا جائے، یہ تجویز ہر ایک کے دل کو لگتی ہے مگر لاگو کرنے کے حوالے سے رائے اپنی اپنی ہے۔ آج سیاسی ماحول میں سیاسی جماعتوں کے ”علم بردار“بلکہ غلام ذہنیت کے شاہکار کارکن اور لیڈر اپنی اپنی سیاسی قیادت کو اس سے مبرا کرانا چاہتے ہیں جبکہ فریق مخالف کی کرپٹ لیڈر شپ کو کڑی سزا کا مستوجب گردانتے ہیں جبکہ ایسی لیڈر شپ کے خون کے رشتوں کو کس سے پیار ہے؟ اس حوالے سے پھر ایک واقعہ میجر ریٹائرڈ نذیر فاروق نے سنایا:
 فیصل آباد اُن دنوں لائلپور کے نواحی گاﺅں سے بھینس چوری ہو گئی۔ یہ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری اور ان کے کزن رانا ثناءاللہ کاجھنگ فیصل آبادحد کے سنگم پر واقع گاﺅں ہے ۔ چور احمدی لک پکڑا گیا، اس کی ”کھنب“ بری طرح سے ٹھپی گئی۔ پولیس آگئی۔بھرتی ہونے قبل میجر صاحب اس رات اسی گاؤں میں تھے۔ اِدھر تھانیدار سٹاف کے ساتھ پہنچا ، اُدھر دو بچے روتے اور چلاتے ہوئے ڈیرے پر آ گئے۔ ایک کی عمر نو دوسرے کی 11 سال تھی۔ یہ اسی چور کے بیٹے تھے جو اپنے ابے کے پکڑے جانے پر قریبی گاﺅں سے آئے تھے۔ انہوں نے چلاتے اور کہرام مچاتے ہوئے آسمان سر پر اٹھالیا تھا ”چوری ہم نے کی ہے، ابے نے ہماری جان بچانے کے لیے الزام خود پر لیا ہے، اسے چھوڑیں ہمیں گرفتار کریں“، ڈیرے پر موجود ہر کوئی حیران اور ششدر تھا مگر سچ یہی تھا کہ چوری ان کے ابے نے ہی کی تھی۔ یہ بچے خاموش ہونے میں نہیں آ رہے تھے۔ کچھ لوگوں کی بچوں کی باپ سے اس قدر محبت کا جذبہ دیکھ کر آنکھیں پرنم ہو گئیں ۔ نمبردار یا بڑے چودھری نے تھانیدار سے چور کی معافی کے لیے بھینس کی قیمت کے برابر جرمانہ ڈالنے کی درخواست کی تھانیدار کو بھی بچوں پر ترس آ گیا“ ۔
 اب ذرا اس واقعہ کو ہماری لیڈر کی اولاد کے کردار کے تناظر میں دیکھیں۔ میاں نواز شریف جیل میں مریم نواز جیل میں، حسین اور حسن برطانیہ میںہیں، والدہ کو قبر میں اتارنے بھی نہ آئے۔ پاکستان کی برکت سے لندن میں لگرژی محلات کے مکین ہیں۔ یہ محلات جائز ناجائز دولت سے خریدے گئے ،اس کی بحث میں سردست نہیں پڑتے۔ یہ سب کام کامیابیاں، کاروبار، جائیدادیں پاکستان ہی کی مرہون ہیں۔ وہ پاکستان آتے خود ”چور کے بچوں“ کی طرح پیش کرتے، ابا جی بے قصور ہم چور ہیں کہتے ہوئے سزا کے لیے تیار ہونے کی بات کرتے تو ان کے لیے بھی عوام اور خواص میں جذبہ ترحم یقیناً پیدا ہوتا۔مگر....وہ کہہ رہے ہیں ہم تو پاکستانی ہی نہیں ہیں۔
اُدھر بلاول ہیں جو ایک زبان سے کشمیر کی بات کرتے ہیں اُسی زبان سے اپنے ابے کو جیل میں حکومت کے قتل کرنے کے منصوبے کی نقاب کشائی کرتے ہیں۔ جب بھی کوئی سانحہ ہوتا ہے تو عموماً یہ کہا جاتا ہے اس کا فائدہ کس کو ہوا، اس تناظر میں ذمہ داری بھی عاید کی جاتی ہے۔ بینظیر بھٹو قتل ہوئیں تو سب سے زیادہ فائدہ کس کو ہوا؟ زرداری صاحب کو کچھ ہوتا ہے تو فائدہ کس کو ہو گا۔ میاں نواز شریف جیل میں ہیں ، مریم نواز کی میاں نواز شریف کی صحت کے حوالے ان کے خود جیل میں ہونے کے باعث توپیں خاموش ہیں مگر میاں شہباز شریف نے طویل خاموشی کے بعد یہ کہتے ہوئے بمباری کی ہے کہ نواز شریف کو کچھ ہوا تو ذمہ دار عمران خان ہونگے؟ کیا عمران نے میاں نواز شریف کو گرفتار کیا ہے۔ بڑے میاں صاحب کو کچھ ہوتا ہے جس کی شاید کچھ اپنوں کی بھی خواہش ہو بہرحال ”بینفشری“ کون ہو گا؟ آج کشمیر ایشو مودی کی حماقت سے پوری دنیا میں نمایاں ہوا ہے،اس لیے حکومت کے ہاتھ مضبوط کرنے کے بجائے اپوزیشن حکومت کیخلاف کشمیر کی سودے بازی کا واویلا کر رہی ہے؟ آپ دنیا کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟ یہ تنقید بھی ہو رہی ہے کہ عمران خان نے مقبوضہ کشمیر میں مجاہدین کی حوصلہ شکنی کی ہے۔ ان حالات میں مجاہدین بھیجے جانے چاہئیں تھے۔ کیا عمران خان پوری دنیا کو بتائے کہ پسِ پردہ کیا ہو رہا ہے۔ محب وطن تسلی رکھیں کشمیر کاز پر بہت کچھ پسِ منظر میں اندازوں سے بڑھ کر ہو رہا ہے جس کے بارے میں سوچا ہی جا سکتا ہے۔ باقی مسلم ممالک اگر پاکستان کے ساتھ اس طرح کھڑے نہیں ہوئے جس کی توقع تھی تو ہمیں توقعات پر نظرثانی کرنی چاہئے۔ آپ نے یمن میں فوج بھیجنے کی سعودی عرب کو پیشکش کی اور پھر ”جواب دیدیا“ اس کے باوجود کہ یمن وار سے کچھ روز قبل سعودی عرب نے ڈ یڑھ ارب ڈالر میاں نواز شریف کو گفٹ کئے تھے۔ یہ وہ واحد بڑی رقم ہے جو بغیر ٹی ٹی کے آئی جس کی منی ٹریل میاں صاحب کے پاس موجود ہے۔ عرب ممالک کسی بھی ملک کے ساتھ تعلقات دوستی اور تجارت کے معاملات میں ہماری طرح آزاد ہیں۔ مودی کو ایوارڈ دیں ، یار بنائیں ،یا ہار پہنائیں یہ ان کی صوابدید ہے۔ اِدھر ہم لوگ اس اقدام کے خلاف دُم پر کھڑے ہو کر کہہ رہے ہیں اسرائیل کو تسلیم کر لیں۔ اس سے عربوں کی صحت پر کیا اثر پڑے گا۔ کیا ہم عرب ممالک کی وجہ سے اسرائیل کو ناسور قرار دیتے ہیں؟ نہیں ہرگز نہیں۔ اسرائیل سے نفرت کی وجہ اس کے فلسطینی مسلمانوں پر مظالم ہیں۔ ہماری تکلیف کی وجہ وہ ارشاد پاک ہے جس میں مسلمانوں کو ایک جسد سے تشبیہ دی گئی ہے۔ اگر مسلم ممالک کو کشمیریوں پر مظالم کی تکلیف نہیں ہوتی تو اللہ کے حضور وہ جوابدہ ہونگے۔ 
ایک بڑے اینکر نے پاک فوج کی پُرکشش مراعات شمار کراتے ہوئے ملکی معیشت کی زبو حالی کا پاک فوج کو ذمہ دار قرار دیا ہے۔ بلاشبہ پاک فوج کو ہوشربا مراعات حاصل ہیں جو کوئی بھی پاکستانی پاک فوج میں شامل ہو کر حاصل کر سکتا ہے۔ اب تو لڑکیوں کو بھی بھرتی کیا جاتا ہے۔ آپ سڑنے کڑھنے اور رائے عامہ کو گمراہ کرنے کے بجائے اپنی بیٹیوں اور بیٹوں کو فوج میں بھرتی کرائیں اور تاحیات بلکہ مرنے کے بعد لواحقین کے لیے بھی مراعات پائیں۔ آپ آرمی چیف کے عہدے تک بھی پہنچ سکتے ہیں اور اب تو دُہری توسیع کی روایت بھی جڑ پکڑ رہی ہے۔ 

متعلقہ خبریں