روش

2017 ,اگست 6



کیپٹن طارق رحیم کو گولی مار کر اسکی نعش کو اغوا شدہ جہاز سے نیچے پھینکنا ایک سنسنی خیز اور ہولناک منظر تھا۔ کیپٹن طارق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے اے ڈی سی تھے۔ یہ خوبصورت اور خوبرو نوجوان تھا۔ ذوالفقار علی کی حکومت کا تختہ الٹے جانے اور پھانسی کے بعد مرتضیٰ بھٹو اور شاہ نواز بھٹو نے انتقام لینے کیلئے الذوالفقار تنظیم بنائی جس نے 1981ءمیں پی آئی اے کا مسافر طیارہ اغوا کیا، اسے افغانستان لے جایا گیا۔ اس طیارے میں کیپٹن طارق رحیم بھی سفر کررہے تھے جو ان دنوں سفارتکار تھے۔ باقی مسافروں کی رہائی کے بدلے الذوالفقار نے جیلوں میں بغاوت کے مقدمات میں قید 54 رہنماﺅں اور کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ کیا جو جنرل ضیاالحق نے تسلیم کرلیا۔ طیارہ اغوا کاروں میں ارشد علی‘ ناصر جمال اور سلام اللہ ٹیپو ملوث تھے۔ طارق کو ٹیپو نے بے رحمی سے گولی ماری اور سفاکیت سے جسد خاکی جہاز سے نیچے پھینک دیا۔ مرتضیٰ بھٹو کو بتایا گیا تھا کہ کیپٹن طارق ذوالفقار علی بھٹو کیخلاف فوجی بغاوت میں فوج کے ساتھ ملا ہوا تھا۔ اس نوجوان کی نعش آبائی شہر پشاور لائی گئی۔ فطری بات ہے کہ گھر میں ماتم ہونا اور کہرام مچنا ہی تھا۔ عینی شاہد کے مطابق ایک خاتون کی فرط غم اور جذبات سے چیخیں تو عرش کو ہلائے دے رہی تھیں۔ اس نے وہاں موجود کیپٹن طارق کے رشتہ داروں سے پوچھا کہ یہ خاتون کون اور کیا کہہ رہی ہے؟ یہ متوفی کی پھوپھی ہے اور خدا سے فریاد کر رہی ہے جس نے ہمارے ساتھ یہ ظلم کیا اس کا حشر بھی ایسا ہی ہو۔ شاید اس خاتون کی بددعا لگی ،یا لکھا ہوا ہی ایسا تھا۔ سلام اللہ ٹیپو کو پل چرخی جیل میں مبینہ طور پر مرتضیٰ بھٹو نے قتل کرادیا اور خود کراچی میں اپنی ہمشیرہ وزیراعظم بےنظیر کی حکومت کے دوران ماہر نشانہ بازوں کی اندھی گولیوں کا نشانہ بن گیا۔ بینظیر بھٹو کی اس قتل پر آہ و بکا دنیا کوہنوز یاد ہے مگر بینظیر بھٹو کی زبان سے یہ نہیں سنا گیا کہ جس نے مرتضیٰ کو قتل کرایا اس کا حشر بھی ایسا ہی ہو! ویسے تو جنرل ضیاالحق نے بھی بھٹو کو عدالت کے ذریعے تختہ دار پر پہنچا کر دم لیا اور پھر خود بھی جہاز کے اندر بارود کی آگ میں جل گئے۔ اگر یہ مکافات عمل ہے تو کیا یہ دو واقعات تک ہی محدود ہے؟ یقیناً ایسا نہیں ہے۔ مکافات عمل جاری رہتا اور تاریخ بھی اپنے آپ کو دہراتی رہتی ہے۔

آپ اپنے اردگرد ذرا نظر دوڑائیں تو کئی کیس ایسے مل جائینگے کہ خواتین کو مخالفین سے انتقام لینے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ اِدھر مَردوں میں لڑائی ہوئی اُدھرایک فریق کی خاتون نے اپنے کپڑے پھاڑے اور تھانے میں رپورٹ کردی۔ کئی کرائے کی عورتوں کو مخالفین کیخلاف گواہی کیلئے کھڑا کردیا جاتا ہے۔ مختاراں مائی اجتماعی زیادتی کیس کو بڑی شہرت ملی۔ مختاراں مائی کو اس کیس نے شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا ۔آج اس کا شمار پاکستان ہی نہیں عالمی شخصیات میں ہوتا ہے۔ اسکے ساتھ زیادتی کے ملزم بری ہوچکے ہیں۔ اگر عدالتی فیصلے پر جائیں تو مختاراں مائی کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہوئی۔ گزشتہ دنوں ملتان کے قریب مظفر آباد میں پنچایت نے ایسی لڑکی کو بے آبرو کرا دیا جس کے بھائی نے گاﺅں کی ایک لڑکی سے زیادتی کی تھی۔ اب 20 پنچ جیل میں ہیں اور اعتراف جرم کرچکے ہیں۔

آج عائشہ گلالئی وزیر کے عمران خان پر الزامات کا بڑا شہرہ ہے۔ عائشہ گلالئی کے الزامات شدید، سنگین اور تحقیقات طلب ہیں۔ مگر مسلم لیگ (ن) کے لیڈروںکی توپوں کا رخ عمران خان کی طرف ہے لیکن اب تک صورت واضح نہیں۔ تحقیقات کے بعد پتہ چلے گا کہ عائشہ گلا لئی جو ایک پڑھے لکھے خاندان سے تعلق رکھتی ہیں‘ والد پروفیسر ہیں وہ کسی کیلئے استعمال ہوئی ہیںیا ستم ظریف ہیں۔اکابرین سیاست و صحافت دور کی اور اپنے اپنے مطلب کی کوڑی لائے ہیں۔ کسی نے کہا عائشہ گلا لئی کو پانچ کروڑ دیئے گئے‘ کوئی رقم کی مالیت 20اور کوئی 50 کروڑ بتا رہا ہے۔ اگر تینوں نہیں تو دو تو یقینا غلط بیانی کررہے ہیں۔الزامات در الزامات کا سلسلہ دراز ہورہا ہے۔ عمران خان نے اس پر کہا ہے گلالئی کے پیچھے شریف اور میڈیا کا گاڈ فادر ہیں۔ یہ لوگ کرپشن چھپانے کیلئے اس قسم کی گھٹیا حرکتیں کرتے آئے ہیں جس کا شکار نصرت بھٹو‘ بےنظیر بھٹو‘ سیتاوائٹ اور جمائما بھی رہی ہیں۔ گلا لئی نے تازہ ترین بیان میں کہا کہ ”عمران خان نے گندے پیغامات بھیجے‘ اکیلے ملنے کو کہا‘ شادی کا اشارہ بھی دیا“ مکمل تحقیقات تک گلا لئی کو سچا قرار دیا جاسکتا ہے نہ عمران خان پرجھوٹے ہونے کا فتویٰ صادر ہوسکتا ہے۔ جن لوگوں کی نظر میں گلا لئی سچ کہہ رہی ہے‘ وہ اس بیان پر کہ ”ن لیگ کرپٹ ہے اس میں شامل نہیں ہوسکتی“ کیا کہیں گے۔ سنا ہے مسلم لیگ ن ٹیریان کو عدالت کے روبرو لاکر عمران خان کیلئے اہلیت کی آزمائش کھڑی کرنا چاہتی ہے۔ ٹیریان سے زیادہ حسین حقانی موثر ہوسکتا ہے جس نے بےنظیر بھٹو اور نصرت بھٹو کی بے ہودہ تصاویر بنوا کر لاہور اور پنڈی میں جہاز کے ذریعے گرائی تھیں مگر کس کے کہنے پر؟

جس سیاست کو ہمارے سیاستدان عبادت کہتے ہیں یہ سب کچھ اسی سیاست میں ہورہا ہے۔ پانامہ معاملہ سامنے آیا تو عدالت جاﺅ، عدالت جاﺅ، عدالت جاﺅ کے درس کی گونج تھمتی نہ تھی۔ عدالت کے فیصلے کو من و عن تسلیم کرنے کی یقین دہانی ہر فریق نے کرائی۔ اب اس فیصلے کا حشر، نشر ہورہا ہے اگر فیصلہ اسکے برعکس آتا تو دوسرے فریق نے یہی کچھ کہنا اور کرنا تھا جو فیصلے کی زد میں آکر کرنے والے کہہ رہے ہیں اور کررہے ہیں۔یہی ہماری روش اور رویہ ہے۔ یہ فیصلہ چیف جسٹس پاکستان جناب ثاقب نثار کی عدالت نے کیا ہے۔ وہ جب چیف جسٹس بنے تو پانامہ کیس کے حوالے سے ایک ہیجان برپا تھا۔ جسٹس ثاقب نثار نے اپنے پیشرو کی طرح قوم کو لالی پاپ نہیں دیا۔ قانون اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق سب کچھ کیا اور خود بنچ کا حصہ نہیں بنے۔ یہ فیصلہ 5 صفرنہیں گیارہ صفر سے ہوا ہے۔ جے آئی ٹی کے 6 ممبران کی رپورٹ بھی متفقہ تھی۔ فیصلے سے قبل اور ازاںبعد کہا گیا یہ ملکی ترقی کیخلاف سازش اور سی پیک کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ہے۔ اقتدار مسلم لیگ ن کے ہاتھ میں ہے، کیا یہ بھی اس سازش کا حصہ بن جائےگی؟ اداروں کو فیصلے کا ماسٹر مائنڈ قرار دیا جاتا ہے۔ ادارے تھوڑا سا بھی متحرک ہوتے تو ن لیگ متحد نہ رہ سکتی ہے۔ ن لیگ کو اداروں نے منتشر نہیں ہونے دیا۔مگر کابینہ میں ان لوگوں کو بھی شامل کرلیا ہے جو فوج کو للکار اور عدلیہ کو لتاڑ رہے ہیں۔ پہلے فوج کو متنازعہ بنایا جاتا تھا اب عدلیہ پر وار ہورہے ہیں باقی کیا بچے گا؟ بھٹو کیس کے حوالے دیئے جارہے ہیں جس میں فیصلہ آمر کی مرضی کے تحت آیا اب وہ کون سی طاقت ہے جو دو تہائی اکثریت کی حامل حکومت سے زیادہ طاقتور ہوگئی؟ یہ پاکستان میں ہے نہ روئے زمین پر۔یہ عرش والے کے فیصلے ہیں جو فرش والوں کی عبرت کیلئے ہیں۔ سپریم کورٹ نے پانامہ کیس منطقی انجام تک پہنچانے کا عہد کیا‘ یہ ابھی تکمیل کے مراحل میں ہے۔ نیب کی طرف سے فائنل ہونے پر مکمل ہوگا۔ کہا جارہا ہے نیب پر سپریم کورٹ نگران کیوں؟ کورٹ نگران نہ ہو تو نیب میں یہ کیس ٹھنڈا ہوکے غیرمعینہ مدت تک پڑا رہے۔ سپریم کورٹ کے بارے میں خاک زیادہ ہی اڑا دی گئی ہے۔ یہ گرد بیٹھے گی تو نہال ہاشمی کا فیصلہ سامنے آئیگا۔ جن لوگوں نے جے آئی ٹی کی جعلی رپورٹ شائع کی انکی جواب دہی بھی ہونی ہے۔ سپریم کورٹ کے سامنے کوئی بھی طاقتور اور مادر پدر آزاد نہیں ہے۔ ملک میں انصاف کی عملداری کیلئے اگر عدلیہ فعال ہوتی ہے تو یہ خدا کی رحمت ہے۔ دعا ہے کہ عدلیہ غیرجانبدار رہے‘ شفافیت اس کا اولین مقصد ہو،کسی سے زیادتی نہ ہو۔

مسلم لیگ ن اپنی آئینی مدت پوری کرتی نظر آرہی ہے۔ خود کو انتشار سے بچانا اسکی پہلی ترجیح ہونی چاہئے۔ شہبازشریف کو مسلم لیگ ن کا صدر بنایا جارہا ہے نوازشریف قائد ہونگے۔ ”پارٹی قائد“ لفظ کو الطاف نے خوف کا استعارہ بنا دیا ہے۔ یہ گاڈ فادر کے مترادف لگتا ہے۔ ن لیگ کی قیادت عموماً فیصلے پہلے کرتی ہے سوچتی بعد میں ہے۔ شہبازشریف کو وزیراعظم نامزدکرکے اب سوچوں کے طوفان سے نکل نہیں پارہی۔ یہ مشن 2018ءتک مو¿خر ہوسکتا ہے۔ اگر پالیسی نوازشریف کی چلانی ہے تو خاقان عباسی میں کیا کمی ہے؟ سیماب یا شہباز مسلم لیگ ن کے دوسرے صوبوں کے گراف میں بڑا تغیر اور طلاطم پیدا کرسکتے ہیں۔

بہرحال مکافات عمل جاری رہتا ہے جو بیجاکاٹنا پڑتا ہے‘ روش بدل جائے تو شاید اوپر سے فیصلے بھی بدل جاتے ہیں مگر ہماری سیاست کی روش نہیں بدلتی۔ بینظیر بھٹو کیخلاف بڑی بدزبانی کی گئی۔ مریم نوازشریف کے بارے میں ہرزہ سرائی ہوتی ہے‘ ریحام کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرنے کی کوشش کی گئی۔ عائشہ گلالئی وزیر اگر خود شکایات اور تحفظات لے کر سامنے آتی ہیں تو دور ہونے چاہئیں اگر کوئی انہیں اپنی سیاست اور مقاصد کیلئے استعمال کررہا ہے تو خدا کا خوف کرے۔ یہ روش بھی مکافات عمل بن سکتی ہے۔ بیٹیوں کے معاملے میں اللہ مکافات عمل سے سب کو محفوظ رکھے تاہم دیگر معاملات میں کیپٹن طارق رحیم جیسا مکافات عمل تو اٹل حقیقت ہے جس میں ماڈل ٹاﺅن کیس کے ماسٹر مائنڈ دنیا کی عدالت سے بھاگ سکتے ہیں اللہ کی عدالت سے نہیں بچ سکتے۔

 

متعلقہ خبریں