یہ آسماں یہ پہلی اڑان کچھ بھی نہیں

2017 ,نومبر 19

بنتِ ہوا

بنتِ ہوا

تہذیب

bintehawa727@gmail.com



بغداد کا دروازہ سامنے تھا, یہاں پہنچ کر معین الدین چشتی رحمت اللہ علیہ کے دل میں ایک اور خیال نے جنم لیا. والد گرامی غیاث الدین رح کا مزار بھی اسی شہر میں تھا, اور ماموں شیخ عبد القادر جیلانی رحمت اللہ علیہ بھی اسی شہر میں موجود ہیں, ایک لمحے کو جی چاہا کہ تھوڑی دیر ملاقات کر لیں لیکن اپنے مرشد حضرت عثمان ہرونی رحمت اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہو کر بیعت ہونے کی اتنی جلدی تھی کہ کہیں اور جانا مناسب نہ سمجھا.
حضرت عثمان رح کا آستانہ بغداد سے ایک دو میل کے فاصلے پر تھا, طلب صادق تھی اور فاصلہ ہی کتنا تھا, تھکن اتارنے کے لیے بھی بغداد نہ رکے اور سیدھا ہرون پہنچ گئے.
بھای حضرت عثمان کا آستانہ کدھر ہے ایک راہگیر سے دریافت کیا.
یہاں سے سیدھے جا کر بائیں مڑ جائیے سامنے جو دروازہ آے گا وہی آپ کا آستانہ ہے.
آپ نے راہگیر کے مشورے پر عمل کیا, ایک پرانی عمارت سامنے تھی, کتنی منزلوں کا سفر طے کرنے کے بعد اس عمارت کا دیدار نصیب ہوا تھا. آنکھیں دیواروں کو چومنے میں مشغول ہو گئیں, اس خیال سے بدن پر کپکپی تاری ہو گئی کہ دیوار کے پیچھے ایک ایسی بزرگ ہستی موجود ہے جس کے کشف و کرامات کے چرچے بخارہ و سمرقند تک پہنچے ہوے ہیں. کیا خبر میری حاضری بھی قبول ہوتی ہے یا نہیں.
عمارت کے باہر کھڑے کتنی دیر گزر گئی خود بھی خبر نہ ہوی. ہوش تب آیا جب عمارت سے ایک شخص باہر آیا.
"حضرت خواجہ اندر تشریف فرما ہیں آپ اندر جا سکتے ہیں" یہ کہہ کر وہ آگے نکل گیا.
معین الدین کو ایسے محسوس ہوا جیسے باریابی کی اجازت مل گئی ہے. جیسے منزل نے انہیں خود آواز دی ہو. انہوں نے جوتے باہر ہی چھوڑے اور ڈرتے ڈرتے اندر داخل ہوے.
ایک کشادہ کمرے میں کچھ لوگ حلقہ بناۓ بیٹھے تھے, درمیان میں ایک بزرگ تشریف فرما تھے جن کے چہرے سے نور برس رہا تھا, کسی سے پوچھنے کی ضرورت ہی نہ پڑی کی حضرت عثمان ہرونی کون ہیں.
آپ جیسے ہی اس تنہائ میں مخل ہوے تو بزرگ نے نظریں اٹھا کر آپ کی طرف دیکھا, نظریں چار ہوئ.
"بیٹا ہم تمہارا ہی انتظار کر رہے تھے" حضرت خواجہ نے کہا.
ان الفاظ کا ادا ہونا تھا کہ شراب معرفت نے اپنا اثر دکھایا, حضرت معین الدین رح والہانہ آگے بڑھے اور مرشد کے قدموں میں گر گئے. خواجہ صاحب نے آپ کی کمر پر دست شفقت رکھا اور اٹھا کر اپنے پاس بٹھایا.
"مجھے معلوم تھا کہ تم ایک دن ضرور آو گے اور اپنی امانت جو میرے پاس محفوظ ہے آ کر حاصل کرو گے".
امانت لینے والا آ گیا تھا لہازا منتقلی میں دیر کی گنجائش نہیں تھی. دوسرے ہی دن حضرت خواجہ رح انہیں لے کر بغداد میں مسجد جنید پہنچ گئے. اس وقت وہاں اولیاۓ کرام موجود تھے گویا رسم بیعت کی ادائیگی کا وقت آ گیا تھا.
معین الدین تازہ وضو کر کے دو رکعت نماز ادا کرو. آپ نے حکم کی تکمیل کی. پھر ارشاد ہوا قبلہ رخ بیٹھ کر سورت بقرہ تلاوت کرو. جب پڑھ چکے تو پھر 21 بار سبحان اللہ پڑھنے کا حکم ملا.
اس مرحلے سے گزر چکے تو حضرت خواجہ رح نے آپ کا ہاتھ پکڑا " آؤ تمہیں اللہ ذوالجلال تک پہنچا دوں"
پھر آپ کے سر پر کلاہ چہار ترک رکھی اور فرمایا بیٹھ جاؤ.
جب بیٹھ گئے تو فرمایا ہمارے سلسلے (چشتیہ) میں ایک رات دن کا مجاہدہ ہے لہازا آج رات ذکر و عبادت میں گزارو. حکم ملنے کی دیر تھی آپ گوشہ تنہائ میں بیٹھ گئے اور ذکر ازکار میں مشغول ہو گئے.
اگلے دن حسب حکم مرشد کی خدمت میں حاضر ہوے اور دوزانو بیٹھ گئے.
اوپر دیکھو اور بتاؤ کہاں تک نظر جاتی ہے
حکم کی تعمیل کی اور عرض کیا "تحت الثری تک"
حضرت خواجہ رح کا تصوف رنگ دکھا رہا تھا, وہ جو دکھانا چاہ رہے تھے دکھائ دے رہا تھا.
"ایک ہزار مرتبہ سورت فاتحہ پڑھو" مرشد کے لبوں کو جنبش ہوئ.
جب یہ عمل پورا ہوا تو ارشاد ہوا "پھر آسمان کی طرف دیکھو"
آپ آسمان کی طرف دیکھ رہے تھے کہ کان میں آواز آئ "کہاں تک دیکھ سکتے ہو"
"حجاب عظمت تک" آپ نے بے خودی میں جواب دیا.
"اب اپنی آنکھیں بند کرو"
آپ نے آنکھیں بند کر لیں. کچھ دیر بعد تعمیل حکم میں آنکھیں کھولی تو مرشد نے اپنی دو انگلیاں آپ کے سامنے کیں.
"کیا دیکھتے ہو"
"یا حضرت اٹھارہ ہزار عالم آپ کی دو انگلیوں کے درمیان دیکھ رہا ہوں"
اللہ اکبر
(سورت فاتحہ میں "رب العالمین" کی تفسیر میں آتا ہے کہ اٹھارہ ہزار عالم تخلیق فرماۓ ہیں اللہ نے جن کا وہ رب ہے, تفسیر ابن کثیر)
"بس معین الدین تمہارہ کام پورا ہو گیا" مرشد نے فرمایا "اب کچھ عرصہ ہمارے پاس رہو".
ہرون میں عبادت کے لیے آپ کو ایک الگ کمرہ دے دیا گیا, اور کچھ وظائف دے دیے گئے. حضرت خواجہ معین الدین چشتی سلوک کی پہلی منزل پر قدم رکھ چکے تھے, عرش اعظم, حجاب عظمت اور تحت الثرا کا مشاہدہ کر چکے تھے لیکن ہاتف غیبی مسلسل آواز دے رہا تھا
ابھی تو اور بہت آسماں دیکھنے ہیں
یہ آسماں یہ پہلی اڑان کچھ بھی نہیں

نوٹ:اگر آپ بھی اپنا کوئی کالم،فیچر یا افسانہ ہماری ویب سائٹ پر چلوانا چاہتے ہیں تو اس ای ڈی پر میل کریں۔ای میل آئی ڈی ہے۔۔۔۔

bintehawa727@gmail.com

ہم آپ کے تعاون کے شکر گزار ہوں گے۔

متعلقہ خبریں