رمضان اور ہمارے رویئے

2017 ,جون 7

فضل حسین اعوان

فضل حسین اعوان

شفق

awan368@yahoo.com



رمضان المبارک رحمتوں اوربرکتوں والا مہینہ صبر، برداشت اور تحمل کا درس دیتا ہے مگر معاشرتی رویوں اور سیاسی ماحول سے لگتا ہے کہ ہم اس ماہِ مقدس کے ثمرات سمیٹنے سے محروم ہیں۔ ہمارے ساتھی کالم نگار طارق امین لندن میں مقیم ہیں، وہ بتا رہے تھے کہ گزشتہ رمضان کے آغاز پر ایک بڑے سٹور پر خریداری کیلئے گئے تو خصوصی کئی ریکس میں بہت سے آئٹمز موجود تھے۔ ان سب کی قیمت نہایت کم تھی۔ سٹور کی طرف سے یہ مسلمانوں کو رمضان المبارک کے باعث رعایت دی گئی تھی۔ یہ سٹور کسی مسلمان کا نہیں، ایک یہودی کا ہے۔ اس میں دالیں، چاول، فروٹ، سبزیاں، کھجوریں، کپڑے، جوتے الغرض بڑی سے معمولی ضروریات زندگی کی تقریباً ہر چیز موجود تھی۔ برطانیہ میں ایک عام مزدور کم از کم اڑھائی لاکھ روپے فی ماہ کماتا ہے۔ پاکستان میں مزدور کی حالیہ بجٹ میں تنخواہ 15 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔ طارق امین بتا رہے تھے کہ انکی اہلیہ نے کلکولیٹر سے حساب لگانے کو کہا۔ پاکستان سے ہم لوگ ہمیشہ رابطے میں ہوتے ہیں۔ یہودیوں کے سٹور میں رمضان المبارک میں مسلمانوں کیلئے قیمتیں سوچنے کی حد تک کم تھیں۔ ہم نے حساب لگایا کہ لندن کے سٹور پر دستیاب ”رمضان پیکیج“ کے تحت فروخت ہونےوالی اشیاءکی قیمتیں پاکستان میں دستیاب نرخوں سے بھی کم ہیں۔ حالانکہ آمدنی میں زمین کو آسمان کا تفاوت ہے۔ مثلاً پاکستان میں سیب 100 روپے کلو ہے تو اس سٹور پر متبادل کرنسی میں 90 روپے کلو ہے۔ لندن میں عام مزدور کی آمدنی کم از کم اڑھائی لاکھ روپے پاکستان میں 15 ہزار روپے ہے۔ یہ تو حکومت کی طرف سے طے کردہ معاوضہ ہے، کئی آجر تو انسانوں کا خون چوستے ہیں۔ پانچ سے آٹھ ہزار عمومی معاوضہ ہے۔ پرائیویٹ سکولوں میں کہیں تین چار ہزار روپے تنخواہ بھی ہے۔

مطلوب وڑائچ کینیڈا میں ہوتے ہیں، انہوں نے اپنے کالم میں لکھا تھا کہ رمضان میں کینیڈین وزیراعظم نے مسلمانوں کے نام ویڈیو پیغام جاری کرکے رمضان کی مبارک باد دی جبکہ کینیڈا کے سپر سٹورز پر ”باامتیاز“ مسلمانوں کےلئے اشیاءکے نرخ مقرر کئے گئے۔ غیر مسلموں کے سٹورز پر سستا رمضان پیکیج ہے جبکہ انڈین اور پاکستانی اہل اسلام کے سٹورز پر نرخ بڑھا دیئے گئے۔

رمضان میں شیطان قید ہوتا ہے اور وہ قید ہونے سے قبل مہنگائی، ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کا ایک طوفان برپا کردیتا ہے۔ حکومت مہنگائی پر قابو پانے کے بہتیرے جتن کرتی ہے، اداروں کو متحرک کرتی ہے، اہلکاروں کو ہانکا جاتا ہے مگر انکی چال میںکوئی فرق نہیںپڑتا ہے کیونکہ چلن بگڑ گیا ہے۔ مقدس ماہ میں لگتا ہے شتونگڑے شیطان کے قائم مقام ہو جاتے ہیں۔ اسی معاشرے میں ان لوگوں کی کمی بھی دیکھنے میں نہیں آتی جو اللہ کی راہ میں دل کھول کر خرچ کرتے ہیں۔ پاکستان میں سینکڑوں ادارے مخیر حضرات کے دم قدم سے چل رہے ہیں۔ دنیا ایسے ہی پارسا پرہیزگار اور متقی لوگوں کے دم قدم سے آباد ہے۔ خیرات لینے والوں میں فراڈیئے بھی شامل ہوگئے ہیں جو مستحق افراد کا حق کھا جاتے ہیں مگر مخیر حضرات کے اجر میں اللہ کے ہاں اضافہ ہی ہوتا ہے۔ عمومی مشاہدہ ہے کہ جس نے گزشتہ سال ایک لاکھ کی خیرات کی، اس سال وہ دس لاکھ کی استطاعت کے قابل ہوگیا۔ دس روپے والے کو سو کی توفیق ہوگئی۔

گزشتہ ماہ ماﺅں کا دن منایا گیا ، کسی نے ایک زبردست پوسٹ کی تھی ”شوکت خانم اور صغریٰ شفیع ہسپتال ماں سے محبت کی لازوال یادگار ہے۔“ شوکت خانم کینسر ہسپتال کا سالانہ خرچ دس ارب روپے ہے۔ اس ہسپتال میں 75 فیصد مریضوں کا علاج مفت ہوتا ہے۔ عمران خان سیاست میں حصہ لیتے ہیں، آجکل حکومت کے ناک میں دم کررکھا ہے۔ عمران خان باہر سے جو پیسہ لائے اس میں سے کچھ ہسپتال پر لگا دیا، ہسپتال کے فنڈز پر وہ لوگ انگلیاں اٹھا رہے اور بہتان لگا رہے ہیں جو اپنا پیسہ باہر لے گئے۔ رائے عامہ کو گمراہ کرکے فنڈنگ روکنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ زرداری، شریف خاندان اور ہزاروں لوگ عمران خان سے کہیں زیادہ امیر ہیں۔ جو عمران کے مخالف ہیں وہ سماجی خدمات میں عمران خان کو ناک آﺅٹ کریں۔ سندھ میں پیپلز پارٹی، مرکز اور پنجاب میں مسلم لیگ ن کی حکومت ہے۔ حکمرانوں، ساتھیوں، اتحادیوں اورحمایتیوں کو عمران خان ماتھے سے دُکھتے ہیں۔ پاکستان میں جہاں جہاں شوکت خانم ہسپتال اور لیبارٹریز ہیں، انکے سامنے ایسے ہی ہسپتال، مراکز صحت، ڈسپنسریاں اور لیبارٹریاں بناکر عمران کے منصوبے فیل کردیں۔ ایدھی کیخلاف بھی بہت کچھ کہا گیا جس سے فنڈنگ متاثر ہوئی۔ کئی بلاعلاج مر گئے ہونگے۔ پراپیگنڈا کرنے والے تو ان مرنے والوں کے جنازے پر بھی نہیں گئے ۔ عمران خان کے ہسپتال کی فنڈنگ پر اثر پڑتا ہے تویقینا کئی مریضوں کا علاج ممکن نہیں ہو سکے گا تو کیا خواجہ آصف، دانیال عزیز اور طلال چودھری جیسے عظیم سیاستدان ان مریضوں کو متبادل راستہ دکھائیں گے؟

پاکستان میں صحت اور تعلیم کے بے شمار ادارے بروئے عمل ہیں۔ لاہور میں ڈاکٹر اے کیو خان ہسپتال ہے، منہاج ویلفیئر فاﺅنڈیشن، ایدھی اور سندس جیسے ادارے عوامی تعاون سے خدمت خلق انجام دے رہے ہیں۔ تعلیمی اداروں میں زیارت میں الہجرہ ریذیڈنشل کالج ہے جس میں بلوچستان کے ہر ضلع سے 2 پسماندہ خاندانوں کے بچے میرٹ پر لئے جاتے ہیں ۔آپ اپنے اردگرد نظر دوڑائیں گے تو انفرادی طور پرکئی مستحق نظر آئیں گے۔ اجتماعی مفادات کیلئے کام کرنےوالی تنظیمیں مصروف عمل ہوں گی جو آپ کے تعاون کی صحیح حقدار ہیں۔

رمضان میں اگر کسی کی صحت پر کچھ اثر نہیں ہوا تو وہ ہماری عمومی سیاسی ایلیٹ ہے جسے اپنے مفادات کی ناک سے آگے کچھ نظر نہیں آتا۔ جو انکے مفادات کی راہ کھوٹی کرتا ہے وہ قابل گردن زدنی ہے۔ الزام دشنام اور تہمت و بہتان کاایک طوفان اٹھا ہوا ہے۔ امیر کے غریب رشتہ دار کی طرح جے آئی ٹی میں حسین نواز کی حاضری پر سینیٹر نہال ہاشمی غصے سے بے حال ہوکر عدلیہ اور جے آئی ٹی کو دھمکانے لگے۔ ایسے جوشیلے انداز میں کوئی فلم ایکٹر بھی کیا ڈائیلاگ بولے گا۔ بڑھک میں سلطان راہی، ایکشن میں سلویسٹر سٹالن اور جذبات میں اداکارہ بہار کو بھی پیچھے چھوڑ گئے۔ سپریم کورٹ نے ایکشن لیا تو معافی کے طلب گار ہیں۔ ن لیگ نے استعفیٰ لے لیا تو بڑے مدبرانہ پن سے دے دیا۔ اسکے بعد کایا پلٹ تبدیلی دیکھنے میں آئی۔ اب استعفیٰ واپس لینے کیلئے پر تول رہے ہیں۔ حکومت عدالت کے مقابلے میں انکے ساتھ کھڑی ہو گئی۔ ہاکس عدالت اور جے آئی ٹی پر برس رہے ہیں۔ حسین نواز کی دوران تفتیش کی تصویر لیک ہوئی جسے ن لیگ ڈان لیک سے بڑا ایشو بنا رہی ہے۔ ایسی ہی ایک تصویر میاں صاحب کی ”رونی صورت“ میں سلاخوں کے پیچھے مشرف دور میں میڈیا میں لا کر عوامی ہمدردیاں حاصل کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ اب حسین نواز کی مظلومیت واضح کی جا رہی ہے۔ فائدہ کس کو ہو رہا ہے، بدنام کون ہو رہا ہے؟ اس پر غور کریں تو پتہ چل جاتا ہے کہ یہ کارستانی کس کی ہے۔ اب حالات اس طرح لگتے ہیں کہ عدالت کی خیر نہیں۔ کل تک لگتا تھا فوج کی خیر نہیں، خیر وہ معافی تلافی ہو ئی۔ اب شاید حکومت کی خیر نہیں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ‘سیاسی اشرافیہ اور سسلیئن مافیا کو رمضان المبارک کی برکات سے استفادہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

 

متعلقہ خبریں