کچرا کندن اور ریڈگولڈ بنا کوڑا

2020 ,فروری 28



مہمان اپنے میزبان کو بتا رہاتھا،ہمارے محلے میں فروٹ فروش آوازیں لگا کر نیند خراب کرتا تھا‘کئی بارروکنے پر بھی نہ ٹلا تو ایک دن اس سے سارا فروٹ چھین لیا۔مہمان بھی کوڑے والے کے ’ہوکے‘ لگانے سے تنگ تھا۔ اسی رات گرم انڈے والے سے انڈے اور اگلے روز اس نے کوڑے والے سے کوڑا چھین لیا،رات کو یہ واقعہ بڑے فخر سے ابا جی کو بتایا تو اس نے کہہ دیا۔”ہوڑمت“ اردو میں اسے سر پھرے اور پاگل کی درمیانی کیفیت کہا جاسکتا ہے۔کوڑے کا درست استعمال شروع ہوگیا تو ایسے ہوڑ مت عقل مند کہلائیں گے۔
آج میڈیا میں پاکستانی نمک کا بڑا چرچا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بھارت کو سرخ نمک کوڑیوں کے بھاﺅبرآمد کیا جاتا ہے۔ کچھ تو اس کا ریٹ 36پیسے کلو بتا رہے ہیں،کچھ 4روپے80پیسے لگا رہے ہیں جبکہ بھارت اسرائیل اور یورپی ممالک کو یہ گلابی نمک 500روپے کلوتک فروخت کرتا ہے۔ بھارت اور پاکستان کے مابین پانی اور نمک کے تبادلے کے معاہدے کی بھی ہوئی اُڑرہی ہے جس رو سے بھارت پاکستان کا پانی بند نہیں کریگا جبکہ پاکستان نمک کی فراہمی جاری رکھے گا۔شنید یہ بھی ہے، ایسا معاہدہ کبھی ہوا ہی نہیں، تاہم بھارت کو نمک کی فراہمی وہ باقاعدہ برآمد کی صورت میں ہو یا سمگلنگ کی شکل میں،یہ ابہام سے مبرا حقیقت ہے۔ پاکستان کے نمک کے اعلیٰ معیاری ہونے میں بھی شبہ نہیں۔ بھارت اسے پراسیس کرکے مہنگے داموں ایکسپورٹ کرتا ہے۔ بھارت میں نمک کی کوئی کان ہے‘ نہ پہاڑ اس کے باوجود دنیا کا ساتواں بڑا ایکسپورٹر ہے۔اس کی سالانہ برآمدات 13کروڑ ڈالر ہیں۔پاکستان میں دنیا کا سب سے زیادہ 22 فیصد نمک پیدا ہوتا ہے مگر ہمارا ورلڈ اٹلس کے مطابق بیس ایکسپورٹرممالک میں بھی نام نہیں۔ بھارت ”ہمالیہ کا نمک“ کا ٹیگ لگا کر ایکسپورٹ کرتا ہے، اسی کو ہم کہتے ہیں کہ وہ پاکستان کا نام استعمال کررہا ہے۔ پاکستان کے سرخ نمک کے معیار کا پوری دنیا میں نمک نہیں پایا جاتا۔دنیا میں نمک کے سب سے زیادہ اور بڑے ذخائر پاکستان میں ہیں۔صرف ایک کھیوڑارینج 300 میل لمبی، 19میل چوڑی اور110 میٹر گہری ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق ان ذخائر میں قدرتی طور پر اضافہ جاری رہتاہے۔ کبھی ختم نہ ہونے والے ذخائر ہماری دسترس میں ہیں۔ ذخائر سے بھی زیادہ اہمیت ان کے استعمال اور زیادہ سے زیادہ فوائدکے حصول کی ہے۔ بھارت کو فوری طور پر برآمد روکنے کے مطالبات زور پکڑ رہے ہیں۔ بھارت پہلے اپنی شرائط پر امپورٹ کرتا تھا، اب وہ پاکستان کی شرائط ماننے پر مجبور ہوگامگر سمگلنگ!وہ مافیاز کے کنٹرول میں ہے،جو متعلقہ اداروں کے حرام خوروں کے بغیر ممکن نہیں۔بھارت اگر 500روپے کلو اسرائیل اور یورپ کو فروخت کر رہا ہے تو پاکستان سے 300روپے خریدتے ہوئے بھی اسے موت نہیں پڑےگی۔ آپ ساتھ ساتھ بھارت کو ایکسپورٹ کم اور دیگر ممالک کو بتدریج زیادہ کرسکتے ہیں۔ کیا آپ میں یہ سب منیج کرنے کی صلاحیت اورسو ارب سالانہ ایکسپورٹ سنبھالنے کی اہلیت ہے یا ”پھوکے فائر“ ہی داغ رہے ہیں۔
پاکستانی نمک کو اس کی اہمیت، معیار اور دنیا میں مانگ کے حوالے سے سرخ سونا، گلابی ہیرا، پنک ڈائمنڈ کا نام دیا جاتا ہے۔ پاکستان وسائل سے معمورو بھرپور سرزمین ہے۔ اسکے کوئلے کی بھی اہمیت ہے۔ پاکستان میں کوئلے کے بھی لامتناہی ذخائر ہیں، اسے بھی بلیک گولڈ کہا جاتا ہے۔ بلیک گولڈ، ریڈ گولڈ اور پنک گولڈ کی بات تو وہ کریں جن کے پاس سونے کی کمی ہو، ہمارے ہاں تو سونے کے بھاری ذخائر ہیں، مگر عقل سے عاری حکمت عملیوں نے ان کو’ککھوں‘سے بھی ہلکا کردیا۔ ہم چلے تھے سونے کے پہاڑ کھود کر ترقی کی معراج کو چھونے مگر بد اعمالیوں سے 6 سو کروڑ ڈالر جرمانہ کرابیٹھے۔سونے ،زمرد، یاقوت چاندی جپسم، نمک اور کوئلے پر ہی کیا موقوف اگر تدبیر سے کام لیا جائے تو ہماراکچرا اور کوڑا بھی کُندن ہے۔
گزشتہ دنوں پاکستان میں جیپ ریلی ہوئی، مقام وہی ہر سال کی طرح بہاولپورکا قلعہ دیراوڑ تھا۔قلعہ کے قریب قبرستان میں چار صحابہ کرام ؓکی ایک چھت تلے پہلو بہ پہلو قبریں ہیں۔نخلستان اور صحرائے چولستان کے سنگم پر جیپ ریلی کا اہتمام ہوتا ہے جس میں خواتین سمیت غیرملکی ماہر ریسر شریک ہوئے۔ ہم دوسرے دن پہنچے ، رونقیں عروج پر تھیں۔ میلے کاسماں تھا۔ ڈھول تاشے بج رہے تھے۔ ریگستان میں خوشی کے نغمے گونج رہے تھے۔میلو ںمیں چہل پہل تھی۔ جنگل میں منگل ، ہر طرف رنگ برنگے پرچم لہراتے ہیں۔ صحرا اور پھر جم غفیر، چند منٹوں میں انسان دھول مٹی سے اَٹ جاتے ہیں حالانکہ دھول پر کافی حد تک جوس کے ڈبوں‘ کولڈ ڈرنک کی بوتلوں‘ آوارہ پوسٹروں نے قابو پایا ہوتا ہے۔ کچھ سال قبل جیپ ریلی کے ایڈمنسٹریٹر میجر طاہر مجید تھے‘ ان سے اب بھی ملاقات ہوئی وہ بتا رہے تھے،ریلی کے بعد مزدور لگا کر کچرا سمیٹ کر فروخت کیا ۔ مزدوری اور گاڑیوںکے کرائے کی ادائیگی کے بعد دو لاکھ روپے وصول ہوئے،جو مقامی مسجد میں دیدیئے۔ کباڑیے نے کہا اگر لوہا‘ لکڑی‘ کاغذ‘ پلاسٹک الگ الگ کر دیا جاتا تو یہی ڈبل قیمت پر ہم خرید لیتے۔ان کو ری پراسس کر کے چار گنا منافع کمایا جاسکتا ہے۔ ہمیں کوڑے کچرے کی بھی قدر نہیں‘ جن کو ہے وہ ترقی کے ساتھ انسانیت کی بھی منزلیں طے کررہے ہیں۔ ہم بیروزگاری کا رونا روتے ہیں۔ گھلتے رہتے ہیں‘ مرتے رہتے ہیں خواہش ہوتی ہے تیلا بھی دُہرا نہ کرنا پڑے۔ سینے پر پڑا بیر بھی کوئی اور ہی منہ میں ڈال دے مگرجو ہمت کرتے ہیں وہ پھل بھی کھاتے ہیں۔ 
سرگودھا کی بارہ سالہ زیمل نے ’زی بیگ‘ ایجاد کئے۔ وہ پرانے اخبارات وکاغذات کو پراسس کرکے خوبصورت اور رنگین لفافے بناتی ہیں جنہیں بیچ کررقم خیراتی اداروں کو عطیہ کر دی جاتی ہے۔وہ سال میں چار سے پانچ لاکھ کے لفافے بیچ لیتی ہیں۔ لاہورکی روبینہ شکیل نے انسانیت کی خدمت کیلئے کچرے اور کوڑے کا جو استعمال کیا وہ لازوال داستان کی ہے۔وہ امیر گھرانوں میں کام کرنے والی ملازم خواتین کی اولادوں، بھکاری اور خانہ بدوش بچوں میں فری علم بانٹ رہی ہیں۔ یہ خاتون نادار بچوں کی تعلیم پر اٹھنے والے اخراجات پورا کرنے کیلئے لوگوں کے گھروں سے کچرا جمع کرواتی ہیں، اسے ری سائیکلنگ کے بعد فروخت کر کے حاصل ہونے والی آمدنی سے تعلیمی ادارے چلا رہی ہیں۔اس وقت لاہور سرگودھا اور واہ کینٹ میں قائم دس سکولوں میں 3600 سے بچے پڑھ رہے ہیں۔ 7000 سے زائد گھروں اور دفتروں سے ہر ہفتے 9 لاکھ مالیت کا 13 ٹن خشک کچرا اور پرانی قابل استعمال اشیاء جمع کروائی جاتی ہیں۔
 کوڑے کچرے کا ہر ذرہ کام میں لایا جا سکتا ہے جو بالکل بے کار نظر آئے اس کو پریس کرکے گھروں‘ دکانوں‘ مکانوں‘ پلازورں کی بھرتی کے کام لایا جا سکتا ہے۔ کوڑے کرکٹ کو آگ لگا کر گیس بنائی جا سکتی اور بجلی پیدا کی جا سکتی ہے۔ آلودگی کنٹرول کرنے کیلئے فوگ سموگ اور سموک الیمی نیٹر ایجاد ہو چکے ہیں۔کچرے کا معاشرے میں صحیح استعمال کا سلیقہ طریقہ اور قرینہ آجائے بعید نہیں اس پر بھی جھگڑے ہوا کریں۔
ایک کچرا ہماری سیاست میں بھی ہے۔اس کچرا سیاست نے ریاست کو کوڑا دان بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔اب بہتری کی امید پیدا ہوئی ہے۔ذرا کوڑا مائنڈ سیٹ دیکھئے پاکستان سے جنگلات کا خاتمہ کردیا گیا۔اس دوران حکمران خاموش رہے۔ کیا مافیا سے وصولی کرتے رہے یا آزادی عام ذبحہ  اشجارکیلئے چُپ رہے۔کندیاں میں دس ہزار ایکڑ پر محیط جنگل اجاڑ دیا گیا،اب وزیر اعظم عمران خان اس جنگل کو آباد کرنے کیلئے کوشاں ہیں۔چھانگا مانگا جنگل کا حال بھی بد حال کردیا گیا۔خیبر پی میں بھی خیر نہیں کی گئی۔تاہم پی ٹی آئی کی حکومت بنی تو لوگ کہتے تھے،عمران بندہ کاٹنے والے کو تو چھوڑ سکتا ہے درخت کاٹنے والے کوکبھی نہیں۔آج پورے ملک میں جنگلات لگانے، دس ارب درخت اُگانے کی مہم جاری ہے گو یہ کاردارد ہے،روزانہ 55 لاکھ پودے لگیں تو ہدف پورا ہوگابہر حال اس کیلئے نو من تیل کی ضرورت نہیںرادھا ایسے ہی ناچے گی۔ہم پاکستانی ایک ایک پودا مناسب جگہ لگا کر کارِ خیر میںاپنا حصہ ڈال سکتے ہیں،مناسب جگہ وہ جہاں اوپر تاریں اورنیچے سیوریج نہ ہو۔میرے کچھ دوستوں نے عرصہ سے کھجور،مالٹا،آم جامن ،سیب آڑو وغیرہ کھانے کے بعد ان کے بیج نہر کنارے یا قبرستان میں پھینکنے کو معمول بنایا ہوا ہے۔ 

متعلقہ خبریں