امریکیو! اب واپس چلے جائو

2017 ,اکتوبر 13

فضل حسین اعوان

فضل حسین اعوان

شفق

awan368@yahoo.com



اگر کسی اور قوم کی قید میں ہوتی تو میرا حال گوانتاناموبے او رابو غریب جیل کے قیدیوں جیسا ہوتا، مجھے اسلام کی دشمنی افغانستان لے گئی، مگر اسلام میری آخری تمنا بن گیا۔“ یہ الفاظ ہیں لندن کے اخبار”سنڈے ٹائمز“ کی خاتون صحافی ایوان ریڈلی کے ہیں جو 28 ستمبر2000ءکو خفیہ طور پر افغانستان میں داخل ہوتے ہوئے طالبان کی قید میں چلی گئی تھیں ۔ 10 دن تک طالبان کی قید میں رہی۔قید سے آزاد ہونے کے بعد انہوں نے اسلام کا مطالعہ کیا اور عیسائیت کو ترک کرکے اسلام قبول کر لیا۔ آج کل وہ اسلام اورامت مسلمہ کے مسائل کی انتہائی سرگرم ترجمان ہیں، وہ کہتی ہیں کہ میں چاہتی ہوں جدھر بھی جاو¿ں اسلام کی روشنی پھیلا دوں اور اسلام کے لیے لوگوں نے جو تعصب کی آ گ پھیلا دی ہے اسے بجھادوں۔ان کیساتھ جو دس دن میں سلوک کیاگیا وہ اسلام قبول کرنے کی ترغیب ثابت ہوا۔ جب امریکی وبرطانوی فوج کی طرف سے افغانستان پر حملہ ہونے والا تھا تو رپورٹنگ کے لیے انہوں نے اپنے اخبار کو افغانستان جانے کی پیش کش کی۔پاکستان پہنچنے کے بعد انہوں نے افغانستان کا ویزا حاصل کرنے کی کوشش کی، مگر کامیابی نہ ملی، لیکن انہوں نے افغانستان جانے کا پختہ ارادہ کر لیا تھا، اس لیے ایک افغانی کی مدد سے جعلی شناختی کارڈ بنواکر وہ افغانستان میں داخل ہوگئیں۔ ان کا گائیڈ جب ان کو اپنے گاو¿ں لے کر گیا تو وہاں کے لوگوں نے بڑی محبت سے ون ریڈلی کا استقبال کیا۔ گاو¿ں والوں کو جب یہ پتا چلا کہ ریڈلی ایک مغربی عورت ہے تو وہ ڈر گئے، کیوں کہ وہاں بلا اجازت غیر ملکیوں سے رابطہ رکھنا جرم تھا لیکن اپنی روایتی میزبانی نے ان کو ریڈلی کے ساتھ اچھا برتاو کرنے پر مجبور کر دیا۔ ان کی میزبانی سے فارغ ہو کر ریڈلی اپنے گائیڈ کے ساتھ وہاں سے آگے روانہ ہو گئیں۔ کچھ دور وہ دونوں پیدل چلے، اس کے بعد گائیڈ نے ون ریڈلی کو خچر پر سفرکرنے کو کہا۔ ریڈلی نے سوچا پہاڑی راستے پر چلنے سے بہتر ہے کہ وہ خچر پر بیٹھ جائیں۔ ان کے خچر پر بیٹھتے ہی وہ بد کا اور اس نے دوڑ لگا دی اورکچھ دور جاکر رک گیا۔ریڈلی نے دیکھا کہ وہاں مقامی لباس میں ملبوس ایک مسلح شخص کھڑا ہے، وہ ایک خوب صورت نوجوان تھا، جس کے چہرے پر داڑھی تھی ، وہ ریڈلی کے گلے میں جھولتے کیمرے کو دیکھ کر سمجھ گیا کہ وہ ایک صحافی ہیں۔ اس شخص جس کا مجھے کچھ دیر بعد علم ہوا کہ وہ طالبان فوجی ہے نے کیمرہ ان سے لے لیا اور خچر سے اترنے کو کہا ، اسی اثنا میں وہاں پر اور بھی مسلح طالبان آگئے۔ ایوان ریڈلی کہتی ہیں کہ ” میں نے سوچا اس وقت میں دنیا کے سب سے ظالم اور شیطان طالبان کی قید میں ہوں ، اب پتہ نہیں وہ میرا کیا حشر کریں گے؟ “ مسلح لوگ ان کے گرد جمع ہو گئے، لیکن نہ کسی نے انہیں ہاتھ لگایا اور نہ کسی نے ان سے کوئی بات کی۔ پھر ان کو اپنے پیچھے آنے کا کہہ کر وہ آگے بڑھے۔ ایک مقام پر رک کر کھڑے ہو گئے ، وہاں پر بہت سے پتھر پڑے ہوئے تھے۔ ریڈلی نے سوچا شاید ان کو سنگسار کیا جائے گا۔ اتنے میں شور اٹھا، ایک آدمی ایک خاتون کے ساتھ ادھر ہی آرہا تھا۔ اس عورت نے آتے ہی ون ریڈلی کے جسم کو ٹٹولنا شروع کیا۔ پتہ چلا کہ یہ لوگ یہاں رک کر اسی عورت کا انتظار کر رہے تھے کہ وہ آکر اس کی تلاشی لے سکے۔۔۔
ریڈلی کہتی ہیں کہ اس وقت میں نے سوچا کہ میں دنیا کے مہذب ترین ملک کی شہری ہوں، لیکن وہاں کسی عورت کی جامہ تلاشی کے لیے اس بات کا خیال نہیں رکھا جاتا، یعنی عموماً مرد سیکورٹی اہلکار ہی خواتین کی جامہ تلاشی لیتے ہیں اور یہ دنیا کے سب سے جاہل اور ظالم فوجی اس بات کا خیال کر رہے ہیں کہ ایک عورت کی جامہ تلاشی مرد نہ لے، بلکہ ایک عورت ہی لے۔ تلاشی کے دوران ون ریڈلی نے اپنے کپڑے اوپر اٹھا دیے تو وہاں موجود تمام لوگ اپنا چہرہ دوسری طرف کرکے کھڑے ہو گئے۔ گرفتاری کے بعد ون ریڈلی نے اس گروہ کے ایک فرد سے سٹیلائٹ فون کا مطالبہ کیا، تاکہ وہ اپنے گھر اور دفتر والوں کو اپنی گرفتاری کی اطلاع دے سکیں۔ ان کے انکار پر ریڈلی نے بھوک ہڑتال کر دی۔ ون ریڈلی کا خیالی تھا کہ دنیا کی سب سے ظالم فوج کو ان کی بھوک ہڑتال کی کیا پروا ہو گی؟ لیکن وہ لوگ اس کی بھوک ہڑتال سے پریشان ہو گئے اور طرح طرح سے ان کی بھوک ہڑتال ختم کرانے کی کوشش کرنے لگے ، پھر ایک بزرگ آئے ، وہ ون ریڈلی کو انگریزی میں سمجھانے لگے اور ان کے کھانے سے مسلسل انکار پروہ رونے لگے۔ بھوک ہڑتال کے دوران ایک دن ان کی طبیعت خراب ہو گئی تو ان کے لیے فوراً ڈاکٹر کو بلایا گیا۔ جس فوج کے بارے میں ون ریڈلی نے سن رکھا تھا کہ یہ دنیا کی سب سے ظالم اور شیطانی فوج ہے، ان کے اس رویے سے وہ بہت حیران تھیں۔۔
ایک دن ان کا ترجمان ان کے پا س آیا ،جو انگریزی جانتا تھا، اس نے ان سے کہا کہ ایک بہت بڑی شخصیت ان سے ملنے آرہی ہے ، ترجمان نے ان سے یہ بھی کہا کہ ان سے کوئی بدتمیزی نہ کرنا۔ اس کے جانے کے تھوڑی دیر بعد دروازہ پردستک ہوئی۔ یہ بھی ایک عجیب بات تھی کہ وہ ایک قیدی تھیں، لیکن دروازہ کھولنے کا اختیار اور چابی انہیں کے پاس تھی ، ون ریڈلی نے آگے بڑھ کر دروازہ کھولا، سامنے کھڑی شخصیت کو دیکھ کر وہ تھوڑی خوف زدہ ہو گئیں ، وہ ایک طویل القامت شخص تھا، اس کی لمبی داڑھی تھی اور اس نے لمبا چغہ پہن رکھا تھا، اس کے چہرے سے جیسے ایک نور نکل رہا تھا۔ وہ شخص اجازت لے کراندر داخل ہوا اور ریڈلی کا حال واحوال پوچھنے کے بعد اس نے اس سے اسلام کے بارے میں پوچھا۔ ریڈلی نے سوچا اگر اس کے سوال کا جواب نہ دوں گی تو رہائی مشکل ہو جائے گی، لہٰذا اس نے درمیانی بیان دیا کہ اسلام بہت اچھا مذہب ہے ، اسلام امن اورسلامتی کامذہب ہے۔ اس پر اس شخص نے کہا کہ تم اسلام کیوں قبول نہیں کر لیتیں ؟ ایوان ریڈلی نے سوچا کہ ابھی اسلام قبول کیا تو سمجھیں گے کہ دباو¿ میں اسلام قبول کیا ہے، اس لیے اس نے چالاکی سے کہا کہ اگر مجھے رہا کر دو تو میں وعدہ کرتی ہوں کہ اسلام اور قرآن کا مطالعہ کروں گی۔ جاتے وقت اس شخص نے کہا، تم ان شاءاللہ جلد گھر چلی جاو¿ گی۔ اگلی صبح کچھ فوجی آئے اور اسے لے کر چلے۔ ون ریڈلی نے سوچا شاید اسے رہاکیا جارہا ہے، مگر وہ اسے خواتین کے قید خانے میں لے گئے۔

جب وہ وہاں داخل ہوئیں تو اس نے دیکھا کہ وہاں کچھ یورپی خواتین دائرہ بنائے با آواز بلند بائبل کا مطالعہ کر رہی ہیں۔ انہیں ان کی عبادت سے کوئی نہیں روک رہا تھا، کیوں کہ اسلامی مملکت میں غیر مسلموں کو اپنی عبادت کرنے کی مکمل آزادی ہے، البتہ وہ اپنے دین کی تبلیغ نہیں کرسکتے۔ایوان ریڈلی نے سگریٹ پینا چاہا تو ان خواتین نے بتایاکہ نو اسموکنگ ایریا ہے، یہاں مرد اور عورت کوئی سگریٹ نہیں پیتے۔ ایک دن ون ریڈلی نے ایک افسر کے سامنے تھوک دیا، افسروں کو برا بھلا کہنا تو اس کا معمول تھا، ون ریڈلی کو لگا کہ تھوکنے کی وجہ سے اسے سزائے موت ضرور دے دی جائے گی۔ ایک شخص نے کہا کہ تم نے ہمارے لیڈر کے ساتھ بدتمیزی کی ہے، جس کی سزا تمہیں ضرور ملے گی اور تمہاری سزا یہ ہے کہ آج سبھی قیدی اپنے اپنے گھر فون کریں گی، مگر تمہیں فون کرنے کی اجازت نہیں ملے گی۔ دنیا میں مشہور ”ظالم“ حکومت نے یہ سزا اسے دی تھی۔ ون ریڈلی اپنی قید کے دوران ہوئے ایک دلچسپ واقعہ کو اس طرح سناتی ہیں کہ ” ہماری جیل میں مرد کم ہی آتے تھے، بس قید خانہ کے دروازہ پر مرد پہرے دار رہتے تھے۔ ایک بار میں نے اپنا زیر جامہ دھو کر سکھانے کے لیے قید خانے کے ایک حصے میں پھیلا دیا۔ کچھ دیر بعد ایک افسر میرے پاس آیا اور زیر جامہ وہاں سے ہٹانے کو کہا، میں نے ہٹانے سے صاف انکار کر دیا، اس پر انہوں نے ایک کپڑا اس کے اوپر ڈالوا دیا، لیکن مجھے انہیں پریشان کرنے میں مزا آتا تھا، میں نے وہ کپڑا اوپر سے ہٹا دیا اور کہا ، تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے، اگر ان کے اوپر کپڑاڈال دو گے تو یہ خشک کیسے ہو گا؟ کچھ دیر بعد میں نے دیکھا ایک شخص میرے پاس آیا، تعارف کرایا گیا کہ یہ افغان نائب وزیرخارجہ ہیں۔ انہوں نے بھی مجھ سے میرے زیر جامہ وہاں سے ہٹانے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ یہاں ہمارے پہرے دار ہوتے ہیں، اس کی وجہ سے انہیں فاسد خیالات آسکتے ہیں۔ اس وقت میں سوچتی رہی کہ یا خدا! یہ کیسے لوگ ہیں؟ چند گھنٹوں بعد امریکا وبرطانیہ بھرپور طاقت کے ساتھ ان کے ملک پر حملہ کرنے والے ہیں اور یہ صرف اس خوف سے مجھ سے میرے کپڑے ہٹانے کے لیے گفتگو کرنے آرہے ہیں کہ کہیں ان کے پہرے داروں کے دل میں فاسد خیالات نہ آجائیں۔ امریکی حملے کے دوسرے روز طالبان فوجی ریڈلی کے پاس آئے اورکہا کہ ہم تمہیں حفاظت کے ساتھ پاکستان پہنچا دیتے ہیں۔ریڈلی حیران تھیں کہ یہ کیسے لوگ ہیں،موت ان کے سروں پر کھڑی ہے اور یہ اسے حفاظت سے یہاں سے باہر نکالنے کی فکر میں ہیں؟ اس کے بعد وہ بحفاظت ا±سے سرحد تک لائے اور پاکستانی حکام کے حوالے کر دیا۔ اگر کسی اور قوم کی قید میں ہوتی تو میرا حال گوانٹاناموبے اور ابو غریب جیل کے قیدیوں جیسا ہوتا۔ 
ریڈلی نے قید کے دوران طالبان سے وعدہ کیا تھا کہ رہا ہونے کے بعد قرآن کریم کا مطالعہ کریگی اس لیے آزادی نصیب ہونے کے بعد انہوں نے قرآن کریم کا مطالعہ شروع کیا، ساتھ ہی اسلام میں انسانی حقوق اور عورت کے مقام کو بھی جاننا شروع کیا، طویل مطالعہ کے بعد انہیں معلوم ہوا کہ اسلام وہ واحد دین ہے جس نے عورتوں کو سب سے زیادہ حقوق دئیے ہیں۔ایوان ریڈلی جون2002ءمیں کلمہ شہادت پڑھ کر اسلام کے دائرے میں شامل ہو گئیں۔
اب پاک فوج نے امریکہ کی طرف سے فراہم کردہ بروقت انٹیلی جنس اطلاع کی بنیاد پر کرم ایجنسی میں کارروائی کرکے پانچ غیر ملکیوں کو بازیاب کروایا ہے۔ ان کو، افغانستان سے کرم ایجنسی منتقل کیا جا رہا تھا۔ کینیڈین شہری جوشوا بوئلے اور اس کی امریکی بیوی کیٹلان کولمن کو 2012 میں افغانستان سے اغوا کیا گیا تھا۔ امریکی خفیہ ادارے ایک عرصہ سے ان کی تلاش میں تھے مگر ناکامی سے دوچار ہوئے۔ جوشواکے والدین نے پاک فوج کاشکریہ اداکیا ۔ جوشوا کے والدین بیٹے کی بازیابی پر خوش ہیں والدہ نے کہا ہمیں آج شاندار خبر ملی ۔یقینا یہ انسانیت کے لئے بہت بڑی خبر ہے ،اتنی بڑی کہ اس پر صدرٹرمپ بھی جھوم اٹھے۔اس خبر کا حیران کن پہلو یہ ہے کہ اس جوڑے کے ہاں قید کے دوران تین بچے بھی پیدا ہوئے ۔فائیو ان ٹو ۔۔۔اس بازیابی پر پاک فوج سے انسانیت بھی خوش اور مطمئن ہے۔
اب طالبان کی قید سے کینیڈین شہری، اس کی اہلیہ اور ان کے تین بچے پاک فوج نے بازیاب کرائے ہیں۔ یہ میاں بیوی جوڑا یعنی دو اغوا ہوئے تھے پانچ بازیاب ہوئے۔ یہ حسین اتفاق تب ہوا جب پاکستان امریکہ تعلقات خرابی کی انتہا پر ہیں۔ بگاڑ میں سدھار نظر نہیں آتا تھا۔اغوا بذات خود ایک جرم ہے۔ افغان طالبان اپنے وطن پر غیر ملکی قبضے کے خلاف برسرِ پیکار ہیں۔ ان کی امریکہ، افغان انتظامیہ اور امریکی اتحادیوں کے ساتھ کھلی جنگ ہے۔ دونوں ایک دوسرے کے مفاد کو نقصان پہنچانے کے لئے کسی بھی حد تک چلے جاتے ہیں۔ایسے اغواکی ایسی وارداتوں کی حوصلہ افزائی تو کیا حمایت بھی نہیں کی جاسکتی۔ایک قبیح فعل ضرور ہوا مگراس کے بعد اغوا کاروں کے مغویان سے حسن سلوک پر نظر ضرورہونی چاہیے۔ امریکی تو طالبان کو بم اور گولی سے اڑا دیتے ہیں۔
ایوان ریڈلی کو طالبان حکومت کے دوران گرفتار کیا گیا مگر اب طالبان بکھرے ہوئے۔ ریڈلی دس دن قید میں رہی۔ یہ جوڑا پانچ سال ”اغوا کاروں“ کے ہتھے چڑھا رہا۔ اندازہ کریں اس دوران جوشوا بوئل اور کٹلین کے ہاں تین بچے بھی پیدا ہوئے۔ مغویوں کو کس شان سے رکھا اور زچکی جیسا بھی اہتمام کیا گیا۔ مقبوضہ ملک میں مفروروں کے ہاں اس قدر سہولیات کا ہونا قابض فورسز کی بے بسی کا اظہار اور اغوا کاروں کی طاقت کا غماز ہے۔
دہشتگرد دہشتگرد ہوتے ہیں۔ ان میں اچھے اور برے کا امتیاز نہیں مگر جسے آپ نے دہشتگرد کہہ دیا ضروری نہیں کہ وہ دہشتگرد ہو۔ افغان طالبان سے اقتدار چھینا گیا ان کو ان کی نسلوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی کوشش کی گئی۔ وہ تہیہ¿ انتقام کئے ہوئے ہیں مگر ان کے اندر سے انسانیت نہیں مر سکی جس کا زندہ ثبوت ایوان ریڈلی کا قبول اسلام اور جوشوا کا پانچ سال ان کی حراست میں باسہولت قیام ہے۔ اچھے بُرے دہشتگردوں میں فرق نہیں ہو سکتا مگر اچھے برے طالبان میں امتیاز ضرور ہے۔ جو طالبان بن کر دشمن کے ہاتھوں میں کھیلتے ہیں۔ بے گناہوں کی جان لیتے ہیں اے پی ایس،مساجد اور مزاروں‘ درباروں پر حملے میں ملوث ہیں۔ ان کا انسانوں اور انسانیت سے کیا ناطہ ہو سکتا ہے۔ ان کا وہی انجام ہے جس سے پاک فوج ان کو دو چار کر رہی ہے۔ ملکی سلامتی کے خلاف کوئی طالبان کے روپ میں ہو‘ علما کے لباس میں ہو یا سیاسی بہروپ میں ہو قابل معافی نہیں ہے۔ پاکستان کا بلاشبہ افغان طالبان کے ساتھ کسی سطح پر بھی تعاون نہیں ہے مگر رابطے ضرور ہیں۔ سپورٹ اور رابطوں میں زمین و آسمان کا بُعد ہے۔ اسے امریکیوں نے بغض بنا لیا ہے۔ امریکہ کو افغانستان کے سنگلاخ پہاڑوں سے سر ٹکراتے 16 سال ہو گئے جس دشمن سے مقابلہ ہے اس کے ہاں ریڈلی قید ہو کر مسلمان ہو جاتی ہے جوشوا اور کٹلین تین بچے پیدا کر لیتے ہیں جبکہ امریکہ عافیہ صدیقی کو 86 سال کے لئے قید کر دیتا ہے اس سے کسی کو رابطہ نہیں کرنے دیتا جوشوا پرجو گزاری وہ کچھ دنوں میں شاید اس کا اظہار کرے‘ ہو سکتا ہے وہ اور اس کی امریکن اہلیہ مسلمان ہو چکے ہوں۔ ریڈلی اوریہ جوڑا جن لوگوں کے پاس رہا ایسے دشمن کو تسخیر کرنا امریکہ کے لئے ناممکن ہے اس لیے بہتر ہے کہ وہ جو عزت بچی ہے سمیٹ کر واپس چلا جائے۔

متعلقہ خبریں