دشمن سر پر, بحران در پر

2017 ,جون 14



کئی طرف سے دشمن سر پر اور ہر طرح کا بحران در پر کھڑا ہے۔ وزیراعظم کو جے آئی ٹی نے طلب کر رکھا ہے۔ وہ جے آئی ٹی جو طاہرالقادری جیسے نابغہ روزگار حضرات کے الزام اور میاں محمد نوازشریف کے خیرخواہوں کے دشنام کی زد پر ہے۔ جے آئی ٹی پانامہ کیس میں انصاف کیلئے کام کر رہی ہے اور خود بھی سپریم کورٹ سے انصاف کا طلب گار ہے۔ اسکی طرف سے سپریم کورٹ میں دھمکیوں اور کام میں رکاوٹیں ڈالنے کی درخواست دی گئی ہے۔ جے آئی ٹی کے اعلیٰ عہدیدار اس شخص کی تفتیش کرینگے جو انکے باسز کا باس ہے۔ جے آئی ٹی کہتی ہے کہ حسین نواز پہلے روز آئے تو ریکارڈ ساتھ نہیں لائے تھے۔ سوالوں کے جواب بھی نہیں دیئے۔ اس روز حسین نواز کا وکیل ساتھ تھا۔ وزیراعظم جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونگے۔ ابھی تک تو تاثر یہی ہے کہ وہ اصالتاً پیش ہونگے۔ وکالتاً بھی پیش ہو سکتے اور استثنیٰ کا آپشن بھی موجود ہے۔ وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کہتی ہیں کہ وزیراعظم نے پہلے جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے کا فیصلہ کیا‘ سمن بعد میں موصول ہوا۔ وزیراعظم کی پیشی کو احتساب کی اعلیٰ مثال کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ جے آئی ٹی کہہ رہی ہے حکومتی ادارے ریکارڈ میں ردوبدل کر رہے ہیں۔ کس کے کہنے اور کس کے ایما پر‘ کیوں اور کس کو بچانے کیلئے کر رہے ہیں؟ وزیراعظم ملزم بلکہ سپریم کورٹ کے پانچ میں سے 2 ججوں کی طرف سے ’’خائن‘‘ قرار دیئے جانے کے بعد نیم مجرم بن چکے ہیں۔ ان سے انکے ماتحت اداروں کے افسر تفتیش کرینگے تو دنیا کیلئے یہ کتنی ’’عمدہ‘‘ مثال ہو گی۔ امام ابوحنیفہ نے محض الزام سے بچنے کیلئے جہاز پر سفر کرتے ہوئے چار سو درہم کی تھیلی سمندر میں پھینک دی تھی۔

شریف آدمی تو روزن اور درز سے جھانکنے کے الزام پر ہی ’’مَر مُک‘‘ جاتا ہے۔ چہ جائیکہ اربوں کی کرپشن منی لانڈرنگ ایسے الزام لگیں مگر کوئی فکر و پریشانی نہ ہو‘ بلکہ اتراہٹ اور فخر سے گردن میں مزید اکڑاہٹ آ جائے۔ ایسے حوصلہ مند لیڈر ہمارے ہاں ہی دستیاب ہو سکتے ہیں۔

بات دشمن کے سر پر اور بحرانوں کے در پر ہونے کی ہونے سے شروع ہوئی تھی۔ انڈین اور افغان سرحد پر آگ برستی ہے‘ ایرانی بارڈر پر بھی شبنم افشانی نہیں ہوتی۔ تیسری طرف سمندر ہے جس کی فطرت سکون اور سکوت ہے چوتھی جانب چین ہے جہاں سے اگر ٹھنڈی ہوا نہ آئے تو بگولے بھی نہیں اٹھتے۔ دہشت گردی کا سلسلہ تھمنے میں نہیں آ رہا۔ گو دہشت گردی میں کمی آئی ہے۔ دہشت گردی کا الاؤ بجھا محسوس ہوتا ہے مگر چنگاریاں کسی بھی وقت امن کو خاکستر کر سکتی ہیں۔ کلبھوشن کیس کو حکومت نے گلے کی چھچھوندر بنا لیا۔ یہ بحران اس نے خود مصلحتوں کے باعث کھڑا کیا۔ عرب ممالک کے ساتھ تعلقات پہلے بھی قابل رشک نہیں تھے۔ سعودی عرب اور قطر تنازع نے پاکستان کو پھر آزمائش کے دوراہے پر کھڑا کر دیا ہے۔ وزیراعظم نوازشریف‘ جنرل قمر باجوہ کو لے کر ثالثی کیلئے گئے‘ بتایا یہی گیا ہے۔ آگے اللہ جانے کے پانامہ کیس بھی دو دھاری تلوار بنا نظر آتا ہے۔ سعودی عرب کا دورہ ثالثی کیلئے تھا یا برے وقت کی اماں کیلئے۔ ثالثی صرف ایک ملک جا کر نہیں ہوتی۔ بہرحال دشمن سر پر اور بحران در پر ہیں۔ ان حالات میں حسین نواز کی تصویر کو پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ کسی اہلکار کا کارنامہ تھا مگر ن لیگ اور پی ٹی آئی ایک دوسرے پر تصویر لیک کرنے کے الزامات لگاتی رہیں۔ ان کے باقی الزامات کی حقیقت بھی ایسی ہی ہو گی۔

جے آئی ٹی نے تحقیق کر کے تصویر لیک کرنیوالے کا سراغ لگا لیا۔ وہ گھر کا بھیدی نکلا جس نے لنکا ڈھا دی۔ جے آئی ٹی کہتی ہے کہ اسے واپس اسکے ادارے میں بھیج دیا ہے۔ یہ انکشاف بھی سامنے آیا کہ 24 گھنٹے میں ’’مجرم‘‘ کا سراغ مل گیا تھا۔ اس کا اظہار اب کیا جا رہا ہے۔ جب تصویر کو لے کر ایک ہیجان برپا تھا‘ جے آئی ٹی پر حکومتی پارٹی سنگ باری کر رہی تھی۔ جب سب کچھ سنا جا رہا تھا اس وقت کچھ کہا ہوتا۔ مولانا فضل الرحمن کافی دنوں سے خاموش تھے۔ شاید رمضان کی وجہ سے گوشہ نشیں تھے مگر سیاست کو بھی وہ عبادت سمجھتے ہیں اس لئے مقابلہ حسن بیان و زباں میں شریک ہو گئے فرماتے ہیں یہ کرپشن کے خاتمے کی جنگ ہے یا وزیراعظم کے۔ کئی وزراء کہہ رہے ہیں کہ شریف فیملی سے انتقام لیا جا رہا ہے۔ دنیا جہان میں ایسے بیانات پہلی بار سننے کو مل رہے ہیں جن میں حکمران جماعت اپنے خلاف انتقام کی بات کرتی ہے۔ وزیراعظم بہرحال مطمئن ہیں اپنے معمولات جاری رکھے ہوئے ہیں۔ کچھ لوگ جے آئی ٹی اور حکومت کے مابین چپقلش کو نورا کشی قرار دیتے ہیں، عدلیہ بھی عدم اعتماد کا اظہار ہوتا ہے۔ اس معاشرے میں ایسا ہونا فطری امر ہے جس میں زرداری صاحب کہیں کہ انہوں نے تین سال‘ ہم نے ہمیشہ رہنا ہے اور پھر کہیں کہ میرا بیان فوج کے خلاف نہیں تھا اسے توڑ مروڑ کر شائع کیا گیا۔ نہال ہاشمی پہلے مکُھیا بنے اب وہ بھی کہتے ہیں کہ ان کا بیان سیاق و سباق سے ہٹ کر نشر کیا گیا۔ پہلے استعفیٰ دیا‘ پھر واپس لیا یہ نہال کا کمال ہے۔ اب ن لیگ پارٹی نکالا دے دیا۔ ن لیگ جمع خاطر رکھے، نواز شریف کو کچھ نہیں ہو گا وہ اپنی مدت پوری کریں گے۔ اگر کچھ ہوا تو ان کے نام پر مر مٹنے کا عزم ظاہر کرنیوالے بھی گو نواز گو کہتے نظر آئیں گے۔

ن لیگ تصویر کے لیک ہونے کو حسین نواز کی توہین‘ تذلیل اور تضحیک قرار دیتی ہے۔ اس تصویر میں کون سا توہین آمیز پہلو ہے؟ جس میں حسین نواز ایک کرسی پر تشریف فرما ہیں‘ اسی طرح تو ریلوے سٹیشن پر لوگ گاڑی کے انتظار میں بیٹھے ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر کے کمرے کے باہر باری کا انتظار بھی اسی طرح کیا جاتا ہے۔ بلکہ عموماً ان جگہوں پر کرسی نہیں بنچ ہوتا ہے اور انتظار کرنے والوں کا کھوے سے کھوا چھلتا ہے۔

رمضان المبارک برکتوں اور رحمتوں والا مہینہ ہے۔ رحمتیں اور نعمتیں سمیٹنے والے لوگ بلاشبہ موجود ہیں مگر اس ماہ میں ملاوٹ‘ چور بازاری اور نوسربازی کرنیوالے بھی کم نہیں‘ سیاست میں بھی یہ سارا کچھ معاشرے میں ہونیوالے کمالات کے تناسب ہی سے ہوتا ہے۔ بہت سے ادارے اور افراد سیاست عمومی منفی معاشرتی رویوں سے دور بہت دور رہ کر اپنا کام کر رہے۔ تعلیم و صحت کے ادارے اہل دل کے تعاون سے چل رہے ہیں۔ غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ پاکستان کے پسماندہ علاقوں میں تعلیم کے فروغ کیلئے کوشاں ہے۔ شوکت خانم ہسپتال کے سالانہ اخراجات دس ارب روپے ہیں۔ ان میں پانچ ارب عطیات زکوٰۃ اور صدقات سے اکٹھے ہوتے ہیں۔ عمران خان سیاست کیساتھ ساتھ فنڈ ریزنگ بھی کر رہے ہیں۔

رمضان میں افطاریوں کا سیزن بھی خوب رہتا ہے۔ جماعت الدعوہ نے افطار کرایا مگر حافظ سعید کی شدید کمی محسوس ہوئی۔ ان کو جرم بے گناہی میں نظربند کیا گیا ہے۔ وہ بھارت کی نظروں میں دہشت گرد ہیں‘ کچھ عالمی طاقتوں کو بھی بھارت نے ایسا باور کرا دیا۔ ان طاقتوں کے دباؤ پر حکومت نے حافظ صاحب کو نظربند کر دیا۔ بھارت حریت پسند کشمیریوں کی تحریک کو دہشت گردی اور ان کو دہشت گرد قرار دیتا ہے۔ حافظ سعید چونکہ جہاد کشمیر کے حامی ہیں اس لئے بھارت کی نظر میں دہشت گرد ٹھہرے۔ ہماری حکومت نے کس خوشی میں حافظ سعید کو دھر لیا۔ ان کو کشمیریوں کی جدوجہد آزادی سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ حکومت کس طرح کشمیر کے حوالے سے اپنے مؤقف سے بیک آؤٹ کر سکتی ہے مگر بھارت کے سرپرستوں کے خوف اور دباؤ پر ایسا ہو چکا ہے۔

متعلقہ خبریں