انصاف، منصف ملزم

2017 ,اپریل 2

فضل حسین اعوان

فضل حسین اعوان

شفق

awan368@yahoo.com



”وہ صدر زرداری کے احسانات کو نہ بھولیں، جب مشرف دور میں میاں نواز شریف کو پی سی او عدلیہ نے پھانسی دینے کا سوچا تو صدر آصف علی زرداری نے یہ پیغام بھجوایا تھا کہ نواز شریف سندھ کے مہمان ہیں، انہیں کچھ ہوا تو کسی کو نہیں چھوڑیں گے۔“ یہ بیان دس اکتوبر 2011ءکو سید خورشید شاہ کی طرف سے دیا گیا۔ ان دنوں وہ وزیر مذہبی امور تھے۔ نواز شریف نیا پاکستان بنانے کے نعرے کے ساتھ پیپلز پارٹی کی حکومت سے قوم کو نجات دلا کر اسکی جگہ لینا چاہتے تھے۔ یہ تحریک کامیاب ہوتی تو خورشید شاہ کی وزارت کی لٹیا بھی ڈوب جانی تھی، اس لئے وہ نواز شریف کو باور کرا رہے تھے کہ یہ زندگی زرداری کی دی ہوئی ہے اس لئے ان کو حکومت کرنے دیں۔زرداری نے نواز شریف کو پھانسی لگنے سے کیسے بچایا؟ 12 فروری2013کو صدرآصف زرداری نے بلاول ہاﺅس لاہور میں جیالوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ نواز شریف نے میری طرف سے اپنے بھائی عباس شریف کی وفات پر تعزیت کیلئے ملاقات کی خواہش قبول نہیں کی حالانکہ میں ہی وہ شخص ہوں جس نے جنرل پرویز کے ہاتھوں نواز شریف کو تختہ دار پر لٹکنے سے بچایا، جنرل پرویز مشرف، نوازشریف کوسزا دلوانے کا فیصلہ کر چکے تھے۔ جنرل پرویز مشرف نے طیارہ سازش کیس میں نواز شریف کوسزا دلوانے کیلئے انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے اس وقت کے جج جسٹس (ر) رحمت حسین جعفری پر بہت دباو¿ ڈال رکھا تھا۔ جیل میں نواز شریف سے میری دوستی ہو چکی تھی، عدالت میں پیشی پر بھی ان سے ملاقات ہو جاتی تھی، میں توجیل میں بیٹھ کر بھی اگر کچھ کہہ دیتاکہ ایسا ہوگا تو وہ ہوتا تھا۔ یہ حقیقت ہے کہ آرمی چیف جنرل مشرف کا طیارہ اغوا کرنے کے کیس میں جسٹس جعفری نے نوازشریف کے سوا معزول وزیراعلیٰ شہبازشریف سمیت تمام ملزموں کو بری کردیا تھا اور دہشتگردی اور طیارہ اغوا کی دفعات لگنے کے باوجود نوازشریف کو عمرقید سنائی گئی۔ زرداری صاحب پر جن قتلوں کے الزامات تھے ان میں ایک جسٹس نظام اور انکے بیٹے کا قتل بھی تھا۔ اس قتل میں زرداری صاحب باعزت بری ہوئے تھے۔

مردِ حُر اگر جیل میں بیٹھ کر عدالت پر اثرانداز ہو سکتا ہے تو پھر ایوانِ صدر میں موجود ہو کر کہاں تک اپنی منوا سکتا ہے؟ آج سندھ میں انکی حکومت ہے تو بہت کچھ کرنے کی پوزیشن میں ہیں، کر بھی رہے ہیں۔ کہا جاتا ہے سندھ کی عدلیہ زرداری پنجاب و مرکز کی ن لیگ کے زیر اثر ہے۔ ملک قیوم کا فون پر ہدایت لے کر کیا جانیوالا فیصلہ عدالتی سسٹم کی ساکھ پر سوالیہ نشان رہا ہے۔ اس فیصلے کےلئے ڈکٹیشن کی ٹیپ نے سب راز کھول دیا، ایسے کتنے کیس ہونگے جو ملفوف اور مخفوف رہے۔ عدلیہ کے ماتھے کا جھومر تو بہت سے فیصلے ہونگے تاہم بھٹو کی سزائے موت کا فیصلہ آج بھی عدلیہ کے ماتھے پر ایک داغ ہے۔ اگر عدالتیں ایسے فیصلے نہ کرتیں جو اسکی بدنامی کا باعث بنے تو کیا ہوتا۔ جسٹس صفدر شاہ نے بھٹو کی سزائے موت سے اختلاف کیا تو انکے خلاف ضیاءالحق حکومت سرگرم ہو گئی ان کو ملک سے فرار ہونا پڑا تھا۔ جسٹس سجاد علی شاہ کی عدالت کو مسلم لیگ ن کی قیادت اور کارکنوں نے دشمن کا بیس کیمپ سمجھ لیا تھا۔ جسٹس نظام کے قتل کا تذکرہ اوپر ہو چکا ہے۔

آج کیا حالات بدل چکے ہیں یا ہم ماضی میں جلائے چراغوں کی روشنی میں منزل کو تلاش کر رہے ہیں؟ الیکشن کی تیاری ہو رہی ہے۔ گٹھ جوڑ شروع ہو چکے ہیں۔ سیاسی صف بندیاں ہو رہی ہیں۔ نواز زرداری جمہوریت کےلئے عمران خان خطرہ ہیں۔ ”باری“ کی سیاست پر وہ سنگ باری کر رہے ہیں، جواب بھی تو آنا ہے، عمران کی سیاست کو خیبر پی کے سے بھی دیس نکالا دینے کے منصوبے بن رہے ہیں۔ نواز شریف کے گرد پاناما کیس کا گھیرا تنگ ہو چکا ہے۔ زرداری کی ضرورت نہ ہو تو نواز شریف ملاقات سے انکار کر دیتے ہیں ضرورت ہو تو گلے ملتے ہیں، رائیونڈ میں دعوت کرتے ہیں۔ اب پانامہ کیس میں شدت سے ضرورت ہے تو قربتیں نظر آتی ہیں۔ زرداری کی اینٹ سے اینٹ بجانے کے بیان کے بعد جلاوطنی اور پھر جنرل باجوہ کی پوزیشن کو کمزور سمجھ کر واپسی ایسے ہی نہیں ہو گئی۔ ایان علی کو ضمانت مل گئی نام ای سی ایل سے نکل گیا۔ شرجیل میمن دندناتے ہوئے 5ارب روپے کی کرپشن کا تاج سجائے واپس چلے آئے، ان کو اسلام آباد سے ضمانت ملی۔ ڈاکٹر عاصم کی ضمانت بڑی آسانی سے ہو گئی جس کی ضمانت مقصود نہ ہو اس پر کوئی نیا کیس ڈال دیا جاتا ہے۔حامد سعید کاظمی پوتر ہوگئے۔ ملک میں دو پارٹی نظام تھا اب بھی ہے اور آئندہ بھی شاید نہ صرف رہے بلکہ مضبوط تر بھی ہو جائے۔ مگر پہلے ن لیگ اور پی پی بڑی پارٹیاں تھیں، اب پی پی پی کو تحریک انصاف ری پلس کر چکی ہے۔ پہلے والی پوزیشن برقرار رکھنے کےلئے پی پی پی، ن لیگ کسی بھی حد تک جا سکتی ہیں۔ ن لیگ اور پی پی پی کسی ایک لیڈر پر تکیہ نہیں کرتی جبکہ تحریک انصاف اب تک تو اول و آخر عمران خان کا نام ہے، وہ ہٹ گئے یا ہٹا دئیے گئے تو رہے نام اللہ کا....

پاناما کیس اور متوقع فیصلے کے آج بڑے چرچے ہیں۔ فیصلے میں ایک ایک دن کی تاخیر سے چہ میگوئیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ لوگ تاریخ ساز فیصلے کی توقع کرتے ہیں شاید اسی لئے جج حضرات باریک بینی سے نکات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ کچھ ماہرین کہتے ہیں وزیراعظم نواز شریف کا ڈی سیٹ ہونا ٹھہر گیا ہے، یہ کم از کم سزا ہے، اسکے ساتھ بھی بہت کچھ ہو گا۔ کچھ کا خیال اسکے برعکس ہے۔ اب دیکھیں کیا ہوتا ہے۔ سیاسی پارٹیوں کے ہاکس قیادت کے سامنے سرخرو ہونے کی آرزو لئے عاقبت، آخرت اور قیامت کو بھول چکے ہیں وہ سمجھتے ہیں جان پارٹی، عہدے، مراعات اور فنڈ دینے والے لیڈر کو دینی ہے۔ مشاہد اللہ کو سنیٹر ان کی اپنی لیڈر شپ سے فرمانبرداری کے باعث بنا کر وزیر بھی لگا دیا گیا تھا۔ وہ امیر کے غریب رشتہ دار کی طرح جائز تنقید پر بھی متحارب فریق کی لاہ پاہ کر دیتے تھے۔ آج وہ لندن میں زندگی و موت کی کشمکش میں ہیں۔ اللہ ان کو صحت دے مگر ایک دن اس دنیا سے کوچ کرنا ہے اور جان اللہ کو دینی اور اپنی قبر میں اپنا حساب دینا ہے، سب نے، بڑے لیڈر نے اور چھوٹے کارکن نے بھی۔ ججوں جرنیلوں اور جرنلسٹوں سے بھی یہ حقیقت ایمانداری سے فرائض کی بجاآوری کا تقاضہ کرتی ہے۔

پی پی پی اور ن لیگ ایک دوسرے کی کرپشن سے صرف نظر کر رہی ہیں۔ راحیل شریف کرپشن اور دہشت گردی کا گٹھ جوڑ توڑنے کا عزم دہراتے تھے مگر انکے مصلحت کوش دوستوں نے ایسا نہیں کرنے دیا۔ اب کرپشن کا گٹھ جوڑ مضبوط ہو گیا 479ارب روپے کی کرپشن کیس میں 50 لاکھ روپے کی ضمانت کے مچلکے؟

اگلے الیکشن تک کرپشن کا ایک اندھیر اور طوفان نظر آئےگا جس کا بس چلتا ہے وہ گنگا اشنان کر رہا ہے۔ جنرل راحیل شریف سے سیاستدان خائف تھے۔ قمر باجوہ کو اپنے لئے بے ضرر سمجھ کر چیف بنایا گیا۔ جنرل ضیاءاور جنرل مشرف کے بارے میں بھی متعلقہ وزرائے اعظم کا یہی گمان تھا۔ جنرل باجوہ کی سادگی و شرافت کو دیکھتے ہوئے ڈان لیکس رپورٹ دب چکی ہے۔ جنرل باجوہ نئے آئے ہیں، معاملات کو دیکھ اور سمجھ رہے ہیں۔ اگلے الیکشن تک انکی آدھی مدت ختم ہو چکی ہو گی اور وہ حالات سے مکمل طور پر باخبر ہونگے۔ آج سے ایک سال بعد قمر باجوہ اگر اس عہدے پر رہے تو ایک مضبوط آرمی چیف بن چکے ہونگے۔ لوگ ان سے بھی قدم بڑھانے کے مطالبات کر رہے ہونگے اور پھر کچھ بھی ہو سکتا ہے مثلاً دو تین سال کیلئے عبوری احتسابی حکومت کی تشکیل کی تجویز کو پذیرائی مل سکتی ہے۔ بالفرض جنرل قمر جاوید باجوہ جنرل راحیل شریف کی طرح طاقتور آرمی چیف نہیں ہوتے تو جنرل کیانی کی طرح کمزور بھی نہیں ہونگے۔ جنرل کیانی نے 2008ءکے فری اینڈ فیئر الیکشن کرا دئیے تھے۔ اپنے پیشرو، سینئر، استاد اور محسن جنرل مشرف کی ایک نہیں چلنے دی تھی کم از کم جنرل باجوہ جنرل کیانی سے بہتر الیکشن کرانے کی پوزیشن میں ہوں گے۔

 

متعلقہ خبریں