راجیو، آگ کاسمندر اور اشرافیہ

2016 ,دسمبر 18

فضل حسین اعوان

فضل حسین اعوان

شفق

awan368@yahoo.com



 

امریکی ریاست کیلیفورنیا کے بیکرز فیلڈ ہارٹ ہسپتال میں شعبہ اینس تھیسیا کے سربراہ ڈاکٹر راجیو پارتی کی زندگی میں پیش آنے والے حیرت انگیزاورسنسنی خیز واقعہ نے ان کی زندگی کا دھارا بدل کے رکھ دیا۔ ڈاکٹر راجیو پارتی نے اس حیرت ناک داستان کو اپنی کتاب Dying to Wake Up میں تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ ایک بار انہوں نے ایک مریض کو آپریشن کیلئے بے ہوش کیا۔

آپریشن مکمل ہوا تو یہ مریض ہوش میں آیا اور کہنے لگا کہ دوران آپریشن وہ سب کچھ دیکھ رہا تھا۔ اس نے بتایا کہ سرجن کہاں کھڑا تھا اور نرسیں کیا کر رہی تھیں، حتیٰ کہ انکے درمیان ہونیوالی گفتگو بھی من و عن دہرا دی۔ اگرچہ یہ حیران کن تھا لیکن وہ یہ بات ماننے کو تیار نہیں تھے کہ ایک شخص کا دل اور دماغ بند تھا اور اسکے باوجود وہ سب کچھ دیکھ رہا تھا۔ انہوں نے اس مریض کو بھی کئی اور مریضوں کی طرح نظر انداز کر دیا اوراپنے معمولات میں لگ گئے۔

ڈاکٹر راجیوپارتی کا کہنا ہے کہ وہ ایک کامیاب ڈاکٹر اورانتہائی مادہ پرست تھے۔ 1982ءمیں بھارت سے امریکہ منتقل ہوئے۔جہاں انہوں نے بہت بڑا گھر بنایا جس میں گولف کورس اورایک جھیل تک موجود تھی۔گھر میں ایک دوسرے کے ساتھ گفتگو کےلئے آئی فون استعمال کرتے تھے۔بڑی گاڑیوں کا بیڑا تھا۔ زندگی شاہانہ انداز میں گزررہی تھی، پھر ایک دن انکشاف ہوا کہ وہ پراسٹیٹ کینسر کا شکار ہو چکے تھے۔ انکے آپریشن کے دوران کچھ ایسی خرابی ہوئی کہ ان کا مسئلہ بڑھتا چلا گیا۔پانچویں آپریشن کے بعد ایک دن انکی حالت بہت بگڑ گئی تو فوری طور پر ہسپتال میں لے جایا گیا۔یہ 2008ءکا واقعہ ہے، ڈاکٹروں نے انہیں بے ہوشی کی دوا دی اور ان کا آپریشن شروع کر دیا۔ جب سرجن انکے جسم کی چیر پھاڑ کر رہے تھے تو اچانک انہیں محسوس ہوا کہ وہ دھیرے دھیرے اوپر اٹھ رہے ہیں۔ انہیں اپنا آپ انتہائی لطیف محسوس ہوا اور چند لمحوں میں وہ آپریشن تھیٹر کی چھت کے پاس موجود تھے اور نیچے سب کچھ انہیں صاف نظر آرہا تھا۔ انہیں نہ صرف سب کچھ واضح نظر آرہا تھا بلکہ سرجن کی گفتگو بھی سنائی دے رہی تھی۔ اس سرجن نے آپریشن کے دوران ایک لطیفہ بھی سنایا جس پر سب ہنس دیئے۔

پھر انہیں سب کچھ تاریک ہوتا محسوس ہوا اور انکے دائیں طرف شور بلند ہوا اور کوئی طاقت انہیں کھینچتی ہوئی اس طرف لے جانے لگی۔ کچھ ہی دیر بعد وہ آگ کے سمندر کے کنارے کھڑے تھے اور انسانی گوشت کے جلنے کی بو ان کے نتھنوں میں گھس رہی تھی۔ انہیں اس بات میں کوئی شک نہ رہا کہ وہ دوزخ کے کنارے کھڑے تھے۔

وہ اس خوفناک منظر سے پیچھے ہٹنے کی کوشش کرتے تھے لیکن کوئی طاقت انہیں دھیرے دھیرے آگے لیجا رہی تھی۔ اس موقع پر انکی خود غرضی اور مادہ پرست زندگی کے مناظر انکی نظروں کے سامنے گھومنے لگے اور وہ اس بات پر پچھتانے لگے کہ کیوں غفلت میں اپنی زندگی گزاری۔ وہ کہتے ہیں کہ انکے دل سے یہ فریاد بلند ہونے لگی کہ کاش ایک اور موقع مل جائے۔ اسی دوران دھند کے غبار سے انکے آنجہانی والد نمودار ہوئے اور ان کا ہاتھ پکڑ کر دور لے جانے لگے۔ پھر وہ ایک طویل سرنگ میں داخل ہوئے جس میں انہوں نے بے شمار لوگوں کو دیکھا، جن میں انکے دنیا سے گزرجانےوالے عزیزو اقارب بھی موجود تھے۔ ان میں سے کچھ خوش تھے تو کچھ غم و الم کی تصویر تھے اور مدد کی فریاد کررہے تھے۔وہ اس سرنگ کے کنارے تک لائے گئے تو سامنے اتنی روشنی تھی گویا ہزار سورج بیک وقت چمک رہے ہوں۔ یہاں انہیں ایک غیبی آواز سنائی دی ۔” تمہیں لوگوں کی مدد کیلئے مسیحا بنایا گیا لیکن تم نفس کی پیروی میں لگ گئے۔ تم دنیا میں جاﺅ اور دکھی دلوں کا سہارا بنو، انکی راحت کا سامان کرو“۔

ڈاکٹر راجیوپارتی کہتے ہیں کہ اسکے بعد انہیں پھر سے ایک شدید جھٹکا لگا اور جب دوبارہ حواس بحال ہوئے تو پتا چلا کہ وہ آپریشن تھیٹر میں پڑے تھے اور رفتہ رفتہ ہوش سنبھال رہے تھے۔ جب انکی حالت کچھ سنبھلی تو انہوں نے سرجن سے اپنے ساتھ پیش آنیوالا حیرت انگیز معاملہ بیان کرنا شروع کیا، لیکن جس طرح وہ اپنے مریضوں کے تجربات کو نظر اندازکر دیا کرتے تھے اسی طرح اس سرجن نے بھی انکی بات کو نظر انداز کرنے کی کوشش کی۔ جس طرح کبھی وہ خود کیا کرتے تھے۔

ڈاکٹر راجیو اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ انہوں نے اس واقعہ کے بعد اپنا محل نما گھر اور شاندار گاڑیاں بیچ ڈالیں۔ انکی اہلیہ اور بچوں نے بھی ان کا ساتھ دیا اور وہ ایک چھوٹے سے گھر میں منتقل ہو گئے۔ اب وہ دنیا داری کے تمام مشغلے ترک کر چکے ہیں اور خود کو پوری طرح دکھی انسانیت کی خدمت اور مدد کےلئے وقف کر دیا ہے۔اگست 2016ءکو انہوں نے فوکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ مادہ پرستی سے دور ہونے اور دکھی انسانیت کی خدمت کیلئے میرے جیسے تجربے سے گزرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

آج ملک میں پانامہ لیکس کابڑا غوغا ہے‘ معاملہ عدالت میں ہے۔ پاکستان کے منصف اعظم انور ظہیر جمالی نے قوم کو دنوں میں اس کیس کے فیصلے کی امید دلائی مگر ایسا ممکن نہ ہوسکا۔ انہوں نے کیس کو ملتوی کرکے اپنے جاں نشین کے کندھوں پر بار ڈال دیا۔

اس کیس کی سماعت کے آخری روز جب میاں نوازشریف کے وکیل نے کہا کہ انکے کلائنٹ کے پاس جائیدادوں کا ریکارڈ نہیں کیونکہ اس دور میں کاروبار پرچیوں پر ہوتے تھے۔ انہوں نے وزیراعظم کی تقریروں میں تضاد پر کہا کہ وہ سیاسی تقریریں تھیں۔ اسکے بعد سماعت میں وقفہ ہوا‘ سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو اسے ایک مہینے تک ملتوی کردیا گیا۔ جسٹس جمالی نے اپنے اعزاز میں دیئے گئے ریفرنس میں کہا کہ انسان سے غلطیاں ہوسکتی ہیں تاہم انہوں نے فیصلے ضمیر کے مطابق کئے‘ ان پر انہیں کوئی پشیمانی نہیں۔ دو روز قبل قومی اسمبلی کا ہنگامہ خیز اجلاس ہوا جس میں اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے وزیراعظم نوازشریف کی تقریر میں تضادات کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

انہوں نے کہانواز شریف نے ایوان میں جھوٹ بولا قوم سے معافی مانگیں، کہا جارہا ہے ہمارا جج آرہاہے۔ انکے آخری جملے آبِ زر سے لکھنے والے ہیں۔” سلطنت تباہ ہوجاتی ہے دولت کسی کے کام نہیں آتی، ایک وقت ایسابھی آجاتا ہے کہ وہی حاکم خود چار کندھوں کا محتاج بن جاتا ہے، دنیا میں دولت باقی رہتی ہے نہ ہی سلطنت باقی رہتی ہے، انسان کی کی ہوئی نیکی اور عوام کی خدمت دنیا میں انسان کے نام کیساتھ جڑ کر باقی رہ جاتی ہے“۔

ان پر نوازشریف ہی نہیں خود خورشید شاہ‘ انکے لیڈر آصف زرداری اور تمام سیاسی و غیر سیاسی اشرافیہ کو غور کرنے کی ضرورت ہے۔راجیو پارتی کو سدھرنے کا ایک موقع مل گیا جوہرکسی کو نہیں ملتا۔

 

متعلقہ خبریں