ایک ہی سجدہ کرلیں

2016 ,دسمبر 4

فضل حسین اعوان

فضل حسین اعوان

شفق

awan368@yahoo.com



 

انسان جیل میں حتیٰ کہ تنگ و تاریک کوٹھڑی میں رہے تو اسکے در و دیوار سے بھی انسیت ہو جاتی ہے۔ پاکستان میں آرمی چیف اور آرمی ہائوس کو طاقت، اختیار اور اقتدار کا منبع اور سمبل سمجھا جاتا ہے۔ جسکے پاس یہ اختیار آئے وہ اسے چھوڑنے پر آمادہ کیسے ہوتا ہو گا۔ کئی تو آرمی چیف کے عہدے سے ایسا چپکے اور آرمی ہائوس میں ایسے گڑھے کہ ان کو حالات نے جکڑا یا موت نے پکڑا۔

جنرل پرویز مشرف نے جہانگیر کرامت کی سبکدوشی کے بعد آرمی ہائوس میں سکونت اختیار کی۔ نواز شریف کی حکومت پر شب خون مارا، اختیارات سے ایسے لیس ہوئے کہ عدلیہ اور پارلیمنٹ نے بھی انکی آئین شکنی کو مسیحائی قرار دیدیا۔ جرنیل کی طاقت اسکی وردی میں سمائی ہوتی ہے۔ مشرف اسی لئے بے وردی ہونے کے اپنے اعلان اور وعدے سے مُکرگئے، کہنے لگے وردی میری کھال ہے جو بہرحال ان کو اتارنا پڑی تو جنجال میں پھنسے،نڈھال اوربے حال ہوگئے۔مشرف کی کھال انکے اقتدارمیں آنے کے تھوڑے عرصے بعدقوم کیلئے وبال بن گئی تھی۔وہ اسے اپنی ڈھال سمجھا کرتے تھے ،جب یہ گئی توانکااپنا تراشا ہواآرمی چیف بھی گلے کو آگیا۔جنرل کیانی 2008ء کے الیکشن میںجنرل مشرف کی من مانی کرنے کی راہ میں رکاوٹ بن گئے۔ اختیارات سے تہی دست دیکھ کر میاں محمدنواز شریف اور آصف علی زرداری نے چلتا کیا۔ وہ وردی میں رہتے تو جنرل محمد ضیاء الحق کی طرح دنیاسے کوچ نہ کر چکے ہوتے تو آج بھی آرمی ہائوس میں ہوتے۔ ایوان صدر بھی انکی دسترس میں تھا تاہم آرمی ہائوس انکی پسند یدہ جائے رہائش تھی۔ انہوں نے آرمی چیف کا اکتوبر 2007ء میں عہدہ چھوڑنے کے بعد بھی اٹھارہ ماہ آرمی ہائوس میں گزارے۔

مشرف نے 18 ماہ تک آرمی ہائوس میں بلاجواز قیام رکھا دوسری طرف جنرل راحیل شریف نے اپنی ریٹائرمنٹ سے 18 روز قبل آرمی ہائوس خالی کر دیا۔ انہوں نے اس وقت آرمی ہائوس خالی کیا جب انکے جاں نشین اورآرمی ہائوس کے نئے مکین کا فیصلہ بھی نہیں ہوا تھا۔ پاکستان میں کرپشن کا دوردورہ اور چرچہ رہا اورہے۔ کئی جرنیل بھی اس حمام میں سیاستدانوں جیسے ہیں،ان میں پلاٹوں کی بھی بندر بانٹ دیکھی گئی ہے تاہم نیک سیرت لوگ بھی ہرطبقے میں موجود ہیں۔ جنرل راحیل شریف نے اپنے تین پلاٹ شہدا فائونڈیشن اور خیراتی اداروں کو دے دیئے۔ ان تین پلاٹوں میں ایک انکے ذاتی قطعہ اراضی پر مشتمل ہے۔ ان پلاٹوں کی قیمت آٹھ کروڑ روپے بنتی ہے۔ اسکے بعد کیا وہ بھوکے مر جائینگے؟ مشرف کا چک شہزاد والا محل سائیں سائیں کر رہا ہے۔ نواز شریف کے ماڈل ٹائون والی رہائش گاہ، بھائیں بھائیں کر رہی ہے جبکہ زرداری کا سرے محل سائِیں سائِیں کہتا رہا جس سے پہلے تومردِ حرنے لاتعلقی ظاہر کی پھر ملکیت تسلیم کر کے بیچ دیا۔ پیرس کا وائٹ کوئین محل بھی ان کو سائیں سائیں کہہ کر پکار رہا ہے۔

جنرل راحیل شریف نے تین سال میں اپنے جاں نشیں کیلئے اعلیٰ معیارات قائم کئے ہیں۔ ایسے ہی معیارات وزیراعظم اور بھی قائم کر سکتے ہیں۔ جس انسان نے ملازمت کی، اس نے بشرط زندگی ریٹائر بھی ہونا ہے۔ جو انسان دنیا میں آیا اس نے آخر کار مرنا ہے۔ ان حقائق کو جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ جنرل راحیل شریف نے تین سال میں نیک نامی کمائی، وطن کا وقار بلند کیا، دہشتگردوں کو نکیل ڈالی، کرپشن کے خاتمہ کی وہ بات ضرور کرتے رہے مگر اس میدان کے وہ شہسوار ثابت نہ ہو سکے۔ انہوں نے اپنے آخری خطاب میں بھی کہا کہ ملکی ترقی و خوشحالی کیلئے کرپشن کا خاتمہ ضروری ہے۔ آج کل سپریم کورٹ میں کرپشن کے حوالے سے سب سے بڑے کیس کی سماعت ہو رہی ہے۔ چوری کرنیوالے سینہ زوری کا مظاہرہ بھی کر رہے ہیں۔ عمران خان ضرورت سے زیادہ خوش اور مطمئن ہیں۔ چوری پر کسی کو شک نہیں مگر فیصلہ ثبوتوں پر ہونا ہے۔ اس کیس میں وہی ثبوت، ثبوت ہو گا جسے عدالت بھی ثبوت کہے گی۔ مسلم لیگ ن کے وزراء کے دعوئوں میں کوئی کنفیوژن اور شک نہیں کہ ’’ فیصلہ وزیراعظم نواز شریف کے حق میں آئیگا‘‘۔

جنرل راحیل شریف کے دہشتگردوں اور کراچی میں امن کے دشمنوں کیخلاف اقدامات کو تاریخ وزیراعظم نواز شریف کے کریڈٹ میں ڈالے گی۔ یہ سب کچھ وزیراعظم نواز شریف کے دور میں ہوا مگر کرپشن انکے نام کا حصہ بن چکی ہے، تاریخ میں یہ داغ انکے دامن میں ہمیشہ داغدار کئے رکھے گا۔ بالکل آصف زرداری کی طرح۔ لاکھ کہہ لیں زرداری پر کوئی کرپشن، کوئی جرم ثابت نہیں ہوسکا۔ جرم ثابت کرنے کیلئے صرف کورٹ کا فیصلہ ہی درکار نہیں ہوتا، ہر دل میں بھی ایک عدالت ہے۔ بھٹو کی موت کو کتنے دلوں کی عدالت جائز سمجھتی ہے۔

آصف زرداری شہرہ آفاق شخصیت کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یوسف رضا گیلانی کے جاں نشیں کیلئے اس آدمی کو سامنے لائے جن پر کرپشن کے سب سے زیادہ کیسز تھے۔ ڈاکٹر عاصم کرپشن پر زیر حراست ہیں، ان کو کراچی ڈویژن پی پی پی کا صدر بنا دیا۔ کل عشرت العباد سے ملے ان پر قتل و غارت گری جیسے الزامات بدترین اور مقدمات ہیں۔ ان پر خصوصی نوازش کرتے نظر آ رہے ہیں۔ یہ مجرمانہ ذہنیت کی عکاسی ہے۔ عشرت العباد پر حکیم سعید کے قتل کا الزام بھی ہے۔ حکیم سعید کے قتل پر نواز شریف نے ایم کیو ایم کو حکومت سے نکال باہر کیا تھا مگر عشرت العباد کو ساڑھے تین سال گورنر قبول کئے رکھا۔ اب نکالا تو راہ فرار بھی فراہم کر دی۔ الطاف حسین کے حواریوں کی ڈرامہ بازی جاری ہے، ان کو گلے سے لگایا ہوا ہے۔ تاریخ میں ایک ایک لمحہ نوٹ ہوتا ہے۔ آخر کارمرنا ہے۔ اسکے بعد کی زندگی اصل زندگی ہے، جو آج کی زندگی کا پر تو اِس جہان میں ہو گی اور اگلے جہاں میں بھی ہو گی۔

بھارت کیلئے پھر نرم گوشہ گرم دکھائی دیتا ہے۔ حالات کی کشیدگی کہاں سے کہاں تک چلی گئی مگر بھارت سے تجارت جاری ہے۔ بھارت کی سول آبادیوں پر گولہ باری اور بچوں و خواتین سمیت معصوم لوگوں کی ہلاکتیں جنگی جرائم کے زمرے میں آتی ہیں۔ مسافر بس اور پھر ایمبولینس پر بھارتی فوج کی فائرنگ سے دس افراد جاں بحق ہو گئے۔ اس پر مودی کیخلاف جنگی جرم کا مقدمہ ہونا چاہئیے۔ بین الاقوامی قوانین ایسی جارحیت کی اجازت نہیں دیتے، فلسطینیوں نے ایہودالمرت کیخلاف برطانوی عدالت میں فلسطینیوں کی ہلاکت کا اس دنوں مقدمہ درج کرایاجب وہ برطانیہ کے دورے پر آنے والا تھا۔ مقدمہ کے اندراج کے بعد اس نے اپنا دورہ منسوخ کر دیا۔ حکومت دس افراد کی ہلاکت کا مقدمہ مودی پر درج کرائے اور مرحومین کے لواحقین کے معاوضوں کا خود اعلان کرے اور قاتل ملک سے بھی ان کو معاوضہ دلوائے۔ نواز شریف ایسا کر کے تاریخ میں اپنا نام اچھے الفاظ میں درج کرا سکتے ہیں۔ وزیراعظم نواز شریف اپنے جرنیل سے بھی بڑھ کر ہائی سٹینڈرز قائم کر سکتے ہیں۔ ایک شہر میں ایک ہی گھر کافی ہے۔ کاروبار جتنے بھی بڑھاتے جائیں اس پر کوئی قدغن نہیں، انکی آمدن کا بڑا حصہ اپنے عوام اور ملک کیلئے وقف کر دیں۔ وہ ایک ہی سجدہ کر دیں جو ہزار سجدوں سے نجات دیتا ہے‘ سچ بول دیں۔ رہتی دنیا تک عمر بن عبدالعزیز کی طرح نام روشن رہے گا۔ گورننس میں کوئی جھول نہ رہنے دیں۔ مولا خوش رکھے کہنے والوں سے دور رہیں۔

 

متعلقہ خبریں