اے خدا: اگر تو مجھے مل جائے تو میں تمہارے کپڑے دھوکر تمہیں نہلاوں، تمہارے سر میں تیل لگاؤں اور ۔۔۔۔ برائے مہربانی جذباتی ہوئے بغیر یہ ایمان افروز اور سبق آموز واقعہ آخر تک پڑھ کر کوئی نتیجہ اخذ کیجیے گا

2018 ,دسمبر 18



لاہور (ویب ڈیسک) 21نومبر 2018ء یومِ ولادتِ ختم المرسلینﷺ تھا۔ میں نے ناشتہ کرنے کے بعد ایک ٹی وی چینل آن کیا تو اس وقت سکرین پر ایک 15سالہ لڑکا نعتِ رسولؐ پڑھ رہا تھا۔ معلوم ہوتا تھا یہ کسی دینی مدرسے کا طالب علم ہے۔نہ تو اس کی آواز میں کوئی غنائیت تھی، نہ کوئی طرز تھی

نامور کالم نگار لیفٹیننٹ  کرنل (ر)  غلام جیلانی خان  اپنے ایک کالم میں  لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔ اور نہ کوئی صدائی زیر وبم ایسا تھا جو توجہ کھینچتا۔۔۔ میں نے ریموٹ کا بٹن دبایا اور دوسرا چینل آن کیا۔ وہاں بھی ایک باریش نوجوان ترنم کے ساتھ نعت خوانی کررہا تھا۔ لیکن میں نے ذہن میں محسوس کیا کہ یہ شخص اتنی بے سُری طرز سے حضورؐ کی نعت کیوں پڑھ رہا ہے۔۔۔۔ میں نے ایک اور بٹن دبا کر ٹی وی آف کردیا۔ اس کے بعد 12بجے پھر ایک تیسرا چینل آن کیا۔ سکرین پر تین چار لڑکیاں فل میک اپ کے ساتھ کھڑی تھیں۔ چہرے کے علاوہ سرو گردن، سفید حجاب میں ملفوف تھے۔ یہ تمام لڑکیاں ایک کورس کی شکل میں ایک نعت پڑھ رہی تھیں۔ لیکن ایک تو شائد ان کی ریہرسل نامکمل تھی اور دوسرے آواز میں بھی کوئی ایسی موسیقیت نہیں تھی جو دامنِ گوش کھینچتی۔۔۔۔ اس کے بعد ایک اور چینل آن کیا۔ اس میں ایک صاحب آنحصورؐ کی سادگی کے قصے بیان کررہے تھے۔ جن واقعات کو سنوایا جارہا تھا ان کا تذکرہ میں نے کسی بھی سیرت پاکؐ کی کتاب میں نہیں پڑھا تھا۔ حیران تھا کہ یہ صاحب کہاں سے یہ سب داستانیں نکال کر لے آئے ہیں۔

میں آپ کو سچ بتا رہا ہوں کہ میں نے دل میں سوچا یہ کیسی عید میلاد النبیؐ منائی جارہی ہے۔ ان نجی چینلوں کی بھرمار سے پہلے صرف ایک PTVپر یہ یومِسعید ایک خاص عقیدت سے منایا جاتا تھا۔ نعت گو حضرات و خواتین کی آوازیں دلوں میں کھب جاتی تھیں، و اعظانِ کرام کے آئنۂ گفتار میں سیرتِ رسولؐ کے ایسے ایسے گوشے بے نقاب کئے جاتے تھے کہ ان کو سن کر قلب و ذہن پر ایک خاص وجد کا عالم طاری ہو جاتا تھا۔۔۔۔ کس کس نعت گو کا نام لوں۔۔۔ ہماری آج کی نسل اس دور کے جشنِ میلاد کا تصور ہی نہیں کرسکتی۔۔۔ دل کے کسی گوشے سے یہ سوچ بھی ابھری کہ ان لوگوں کو اگر نعت پڑھنی نہیں آتی یا ترنم کے زیر وبم سے آگہی نہیں تو یہ لوگ ٹی وی پر آکر اپنا وقت کیوں ضائع کرتے اور سامعین و ناظرین کو کیوں بور کرتے ہیں۔میں اپنے علم و فضل پر بھی اترانے لگا۔۔۔۔اقبال کی فارسی زبان کی نعتیں بالخصوص یاد آنے لگیں۔عصرِ حاضر کے کئی حفیظ تائب یاد آئے اور عصرِ ماضی کے کئی نامور نعت گو حضرات بھی ذہن کی سکرین پر تیرنے لگے۔ غالب کا وہ مصرعہ یاد آیا جو ہزار ہا دواوینِ نعت گوئی سے بھی بڑھ کر ہے۔۔۔’’بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر‘‘ سے زیادہ ایجاز کس مصرعے میں ہوسکتا ہے؟۔۔۔

 پھر مجھے اقبال کی وہ طویل فارسی نعت یاد آئی جو اپریل 1936ء میں سرسید احمد خان کو خواب میں دیکھ کر اقبال نے کہی تھی۔ سرسید نے اقبال کو خواب میں آکر کہا تھا کہ اپنے عوارضِ جسمانی کے بارے میں حضورِ رسالت مآب میں عرض کریں۔قارئین کرام! میں حد درجہ گنہ گار اس عجز کا اعتراف کرتا ہوں کہ میں اقبال کی یہ نعت جب جب پڑھتا ہوں اس کے 10,8اشعارتو ایسے ہیں کہ ان کو اونچی آواز سے نہیں پڑھ سکتا۔ گلا رندھ جاتا ہے اور آنسووں کی بارش ہونے لگتی ہے۔۔۔ یہ خودستائی ہی سہی لیکن آج اس کی بھی اجازت دیجئے۔۔۔ میں نے اس قسم کے خیالات ذہن میں لاکر 21نومبر کو جب تین چار بار مختلف چینل آن کئے تو ان پر ہونے والے مباحث اور پڑھی جانے والی نعتوں سے ایک قسم کی بیزاری سی ہونے لگی۔میں سوچنے لگا کہ ایسی نعت گوئی اور ایسی سیرتِ ختم المرسلین کو ایسے پیرائے میں بیان کرنا کہاں کی عیدِ میلاد ہے؟۔۔۔ بس اس خیال کا آنا تھا کہ کسی نادیدہ قوت نے اچانک زمین پر دے پٹخا اور مجھے اپنے گھمنڈکی سزا مل گئی۔آج سوچتا ہوں تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کا وہ قصہ یاد آتا ہے جس میں ایک گڈریا اپنی بے سُری آواز میں اونچی اونچی لے میں خدا کو مخاطب کرکے کہہ رہا تھا اے خدا اگر تو مجھے مل جائے تو میں تمہارے کپڑے دھوکر تمہیں نہلاوں، سرکی جوئیں صاف کروں اور سر میں تیل لگاؤں وغیرہ۔۔۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے یہ سنا تو اس کو جھڑک دیا کہ کیا خدا کی بھی جوئیں نکالو گے اور اس کو نہلاؤ گے؟۔۔۔ اتنا کہنا تھا کہ موسیٰ علیہ السلام کو خدا کی طرف سے شدید سرزنش کی گئی۔ مولانا روم نے اس واقعہ کو بیان کرکے خدا کی ’جھڑک‘ کو اس پیرائے میں ختم کیا ہے:تو برائے وصل کردن آمدی ۔۔ نے برائے فصل کردن آمدی ۔۔ میں اپنی اس غلطی پر خدائے رحیم و کریم سے سو بار معافی مانگتا ہوں کہ حضورؐ کی نعت جس پیرائے میں بھی پڑھی جائے، وہ ایک کامل و اکمل اظہار ہے۔ اس پر اُف تک نہ کی جائے۔ ہر نعت گو اعظم چشتی نہیں بن سکتا اور ہر شارحِ سیرت، مولانا مودودی نہیں ہوتا!(ش س م) 
 

 

متعلقہ خبریں