قطری بحران اور انتہا پسند نظریات کی داستان۔۔۔۔اسلم خان

2017 ,جولائی 5



 

قطری بحران اور انتہا پسند نظریات کی داستان۔۔۔۔اسلم خان

سید مودودی'سید قطب اور یوسف قرضاوی کے نظریات جاری بحران میں بنیادی کردار ادا کر رہے ہیں جن میں سے دو " انتہا پسندوں" اسلام کی خدمات کے اعتراف میں آل سعود شاہ فیصل ایوارڈسے سرفراز کر چکا ہے اور بدلے زمانے میں اپنی ہی شائع کردہ کتابوں پر پابندیاں عائد کرکے انہیں صفحہ ہستی سے مٹانے کےلئے بھر پور کوشش کر رہا ہے۔اخوان المسلمون کے روحانی پیشوامصری نژاد یوسف عبداللہ القرضاوی آج سعودی عرب کو مطلوب دہشت گردوں کی فہرست میں پہلے نمبر پر ہیں قطری شہریت کے حامل القرضاوی کو ان کی اسلام کے لئے خدمات کے اعتراف میں سعودی عرب کاسب سے بڑا شاہ فیصل ایوارڈ 1994 میں دیا گیا تھا جبکہ متحدہ عرب امارات نے انہیں 2000 میں عالم اسلام کی سب سے بڑی شخصیت قرار دیتے ہوئے دبئی عالمی قرآن ایوارڈ دیا تھا اب 120 کتب کے مصنف اور درجنوں تمغات کے حامل یوسف عبداللہ القرضاوی سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو مطلوب دہشت گردوں میں سر فہرست ہیں جن کی حوالگی کا مطالبہ بھی کیاگیا ہے۔یہ تو سید مودودی پر اللہ تعالی کا بڑا فضل و کرم ہوا کہ پہلا شاہ فیصل ایوارڈ پانے کے بہت جلد بعد ان کا انتقال ہو گیا تھا ورنہ وہ بھی سعودی شاہ سلمان کو مطلوب دہشت گردوں کی فہرست میں یوسف القرضاوی سے پہلے موجود ہوتے کیونکہ سید مودودی اور سید قطب کی متعدد کتب کو دہشت گردی کا منبع قرار دے کر آل سعود پابندی لگا چکے ہیں۔ ستم بالائے ستم یہ ہے کہ لائبریریوں سے بھی ان ممنوعہ کتب کو غائب کر دیا گیا ہے۔ ان پر سب سے بڑا الزام یہ ہے کہ القرضاوی نے قطری پالیسیوں کی ترویج کے لیے مذہب کواستعمال کیا اب ان کا شمار قطر کی انتہائی طاقت ور شخصیات میں ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ سرکاری حکام علامہ القرضاوی کی بات کو حرف آخر قرار دیتے ہیں اور کسی کو ان کے حکم سے سرتابی کی اجازت نہیں ہوتی۔
علامہ یوسف القرضاوی کو دہشت گردی کی فہرست میں شامل کرنے کے لیے ماضی میں بھی کوششیں کی جاتی رہی ہیں مگر قطری حکومت نے کھل کر علامہ القرضاوی کا نہ صرف دفاع کیا بلکہ ان کا نام دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل ہونے سے روکنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے۔ سعودی ذرائع ابلاغ یوسف القرضاوی کو مجموعہ اضداد شخصیت قرار دیتے ہوئے ذرا نہیں شرما رہے ہیں۔ انہوں نے تو شاہ فیصل ایوارڈ کی ساکھ کو بھی داو¿ پر لگا دیا ہے۔ ان کی زندگی کے مختلف مراحل کو فکری تغیرات کا شاہکار قرار دیا جا رہا ہے۔ ان کی قطر کی شہریت کو بھی متنازعہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔شاہ سلمان کے خوشہ چیںانکشافات کر رہے ہیں کہ یوسف القرضاوی اوائل جوانی سے متشدد نظریات کے حامل رہے ہیں۔ اسی لئے مصر کے سابق مرد آہن جمال عبدالناصر کے دور میں انہیں قید و بند اور تشدد کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ان پر اخوان المسلمون سے تعلق اور صدرعبدالناصر کے قتل کے لیے ہونے والے مختلف حملوں میں ملوث ہونے کا الزام عاید کیا گیا۔علامہ القرضاوی مصرمیں اپنے آبائی علاقے صفط میں مذہبی مبلغ اور نکاح خوان بھی رہے مگر انہوں نے افکار تبدیل کرتے ہوئے اخوان المسلمون کے نظریات اختیارکیے۔ اپنے علمی اثرو رسوخ کی بناءپر انہوں نے جامعہ الازھر میں اصول دین کے شعبے سے بھی وابستگی اختیار کی اور اس خفیہ گروپ کا حصہ بھی بنے جو مصر میں حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے تشکیل دیا گیا۔
 صدر جمال عبدالناصر اور ان کے انٹیلی جنس ادارے اخوان المسلمون کو ختم کرنے کے لیے سخت اقدامات کر رہے تھے۔ اس وقت اخوان المسلمون کے اکابرین انتہا پسندانہ نظریات کو تیزی کے ساتھ ریاست کے خلاف استعمال کررہے تھے۔ اخوان نے اہم شخصیات پرقاتلانہ حملوں کے لیے عبدالرحمان السندی نامی شخص کی قیادت میں خفیہ سیل تشکیل دے رکھا تھا۔ ملک بھرمیں ہونے والی ٹارگٹ کلنگ کارروائیوں میں اس گروپ کا ہاتھ تھا۔
عبدالرحمان السندی کو مختلف طریقوں سے جمال عبدالناصر نے قابو کرنے کی کوشش کی۔ بالآخر وہ اسے اپنی گرفت میں لانے میں کامیاب رہے۔ اس وقت اخون المسلمون کی قیادت جماعت کے بانی حسن البنا کے پاس تھی۔ جمال عبدالناصر نے السندی کونرہ سویز میں شل کمپنی میں تعینات کیا اور اسے ایک گھر اور گاڑی بھی دی۔ اس کے بدلے میں السندی نے اخوان قیادت کے بارے میں تمام راز اگل دیے۔علامہ یوسف القرضاوی کو مصر میں اپنے افکار کے فروغ میں مشکلات پیش آئیں تو انہوں نے قطر کو اپنے لیے بہترین ملک سمجھا۔ انہوں نے قطر کی شہریت حاصل کر لی اور وہاں پر درس و تدریس کا سلسلہ شروع کردیا۔القرضاوی کو سابق امیر قطر کے اقدامات پرغصہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جب موجودہ امیر قطر نے اپنے والد کے خلاف علم بغاوت بلند کیا تو انہوں نے آئینی امیر قطر کے بجائے اس کے بیٹے کے انقلاب کی حمایت کی۔’الجزیرہ‘ ٹی وی کے قیام کے بعد ٹی وی چینل نے امیر قطر کی ہدایت پر القرضاوی کے لیے خصوصی پروگرام شروع کیا۔ ٹی وی شو نے القرضاوی کی قطر میں مزید مذہبی دھاک بٹھا دی۔ وہ اپنی مادر جماعت اخوان المسلمون کے لیے اپنے قطری حامیوں کی مدد سے فنڈز اکٹھا کرتے اور اخوان المسلمون کو فراہم کرتے رہے۔القرضاوی نے قطر میں اپنے علمی مقام و مرتبے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے فکری افکار کو مختلف دیگر چینل سے وسعت دینے کی کوششیں کی۔ سوشل میڈیا اور ویڈیو شیئرنگ ویب سائیٹ یوٹیوب کی مدد سے اپنے پرتشدد نظریات پھیلائے۔ ان تمام مقاصد کے لیے انہیں قطری حکومت کی طرف سے فری ہینڈ دیا گیا۔امیر قطر کے شامی حکومت اور لبنانی حزب اللہ کے ساتھ گہرے مراسم قائم ہوئے توان کے پیچھے بھی علامہ القرضاوی کے فتاویٰ کے اثرات تھے۔ علامہ القرضاوی بشارالاسد اور حزب اللہ کو عرب دنیا کے خلاف مغربی سازشوں کے سامنے مزاحمت کی علامت قرار دیتے۔علامہ یوسف القرضاوی نے عراق پر یلغار کرنے والی امریکی فوج اور افغانستان میں غیرملکی افواج کے خلاف لڑنے کے جواز پر مبنی فتوے جاری کیے۔ انہوں نے سوڈان کی تقسیم روکنے کے لیے بھی فتویٰ دیا کیونکہ قطر شمالی اور جنوبی سوڈان میں علیحدگی کے ریفرنڈم کا حامی نہیں تھا۔تیونس میں جب تک زین العابدین بن علی اقتدارپر فائز رہے تو وہ القرضاوی کے لیے قابل احترام تھے۔چونکہ قطر مصرمیں حسنی مبارک کی حکومت کے خلاف خروج(بغاوت) کا حامی تھا۔ یہی وجہ ہے کہ علامہ القرضاوی نے مصرمیں حکومت کے خلاف علم بغاوت بلند کرنے کا مذہبی جواز پر مبنی فتویٰ صادر کیا۔
مصرمیں جب حسنی مبارک کا تختہ الٹ کر اخوان المسلمون کی حکومت قائم ہوئی تو اس کے خلاف بغاوت کو حرام قرار دیا کیونکہ اخوان المسلمون کی حکومت کو قطری حکومت کی حمایت حاصل تھی۔یوسف القرضاوی نے مصری صدر محمد مورسی ان کے وزیر دفاع جنرل سیسی کے بارے میں خبردار کیا تھا ایک موقع پر مرسی تقریر کررہے تھے اور اخوان کے ارکان ان کی تقریر پر کافی پرجوش تھے جب کہ ان کے وزیر دفاع (موجودہ صدر) عبدالفتاح السیسی اور وزیر داخلہ صدر مرسی کی تقریر پر خاموش تھے۔
لیبیا میں کرنل معمر قذافی کے خلاف علم بغاوت بلند ہوا تو یوسف القرضاوی نے القذافی کے قتل کے حق میں فتویٰ دیا۔ بن غازی کی نیشنل انقلابی کونسل کے شعبہ اطلاعات کے انچارج مصطفیٰ غریانی نے اعتراف کیا ہے کہ قطر قذافی سے لڑنے کے لیے انہیں اسلحہ دینے کے لیے تیار تھا۔سنہ 2022ء کے فٹ بال ورلڈ کپ کی میزبانی کے لیے جب قطر کا اعلان کیا گیا تو اس پر بعض ممالک کی طرف سے اعتراض کیا گیا۔ القرضاوی نے اس اعتراض کو بھی مسترد کردیا اور قطر میں فٹ بال ورلڈ کپ کی حمایت میں فتویٰ جاری کرکے ریاستی موقف کو مضبوط کیا۔الغرض، علامہ یوسف القرضاوی نے قدم قدم پر اپنے مذہبی افکار کو قطر کی ریاستی پالیسی کے دفاع کے لیے استعمال کیا۔ یہی وجہ ہے کہ قطر نے انہیں آج تک دہشت گردی کی فہرست میں شامل ہونے سے روکنے کے لیے تمام تر کوششیں بروئے کار لانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اپنی ویب سائیٹ پر القرضاوی نے اعتراف کیا ہے کہ اگر امیر قطر الشیخ حماد بن خلیفہ نہ ہوتے تو امریکی ان کا نام بھی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرلیتے۔
سعودی عرب کے نائب ولی عہد اور وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان ( ان سطور کے لکھے جانے کے دو تین دن بعدشہزادہ محمد بن سلمان ولی عہد بنے تھے)جاری قطری سعودی بحران میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں وہ اپنے احمقانہ خیالات اور ہوسِ اقتدار کی وجہ سے اس وقت شہرت کی بلندیوں پر فائز ہو چکے ہیں وہ کسی بھی طرح اپنے کزن محمد بن نائف کو راہ سے ہٹا کر ان کی جگہ ولی عہد بننا چاہتے ہیں تاکہ بادشاہت کی راہ صاف کی جاسکے شاطر امریکی اس جاہ پسند شہزادے کو اپنا گھوڑا قرار دے رہے ہیں ۔اخوان المسلمون اور مظلوم فلسطینیوں کی نمائندہ حماس ان کا بنیادی ہدف ہیں کیونکہ وہ تل ابیب اور واشنگٹن کی مدد سے اپنے والد شاہ سلمان کی جگہ بادشاہ بننے کے خواب دیکھ رہے ہیں وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اخوان المسلمون کی مہم کا واحد مقصد مصر اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کو سبوتاژ کرنا ہے۔متحدہ عرب امارات پر بھی حملے کیے جاتے ہیں اور مسلسل یہ افواہیں پھیلائی جارہی ہیں کہ یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان گہرے اختلافات پائے جاتے ہیں۔ان مذموم مہموں میں بحرین کو بھی نہیں بخشا گیا اور اخوانی میڈیا کا ہدف بننے والوں کی فہرست بڑھتی چلی جاتی ہے۔ اس نے مسلسل جھوٹ اور افواہیں پھیلانے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اور جو کوئی بھی اس سے عد م اتفاق کرتا ہے تو اس کی توہین وتضحیک کی جاتی ہے۔
 اخوان المسلمون کے پیروکار میڈیا ذرائع اور سوشل میڈیا نیٹ ورکس کے ذریعے اعتدال پسند ممالک پر حملہ آور ہوتے ہیں کیونکہ وہی ایسے مستحکم قلعے ہیں جن کو یہ گروپ اور اس کے لیڈر اپنے راستے سے ہٹانا چاہتے ہیں۔ بالکل اسی طرح اقتدار پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں جس طرح تہران میں اخوان المسلمون کے شیعہ پرتو نے قبضہ کررکھا ہے۔
اخوان المسلمون ان اعتدال پسند حکومتوں کو غیر قانونی قرار دینے کے لیے تمام وسائل اور ذرائع کو بروئے کار لاتی ہے۔وہ کتب ، مضامین اور ٹویٹس کے ذریعے اپنے پیغامات کی تشہیر کرتی ہے۔انھوں نے امریکہ کے حامی اعتدال پسند عرب ریاستوں کے سربراہان کو طاغوت ،سکیورٹی فورسز کو قاتل ،صحافیوں کو صہیونی اور انھیں چندہ نہ دینے والے کاروباری افراد کو بدعنوان قرار دے رکھا ہے۔انھوں نے اعتدال پسند علما ءکو شرپسند ، دانشوروں کو گم راہ اور معزز خواتین کو اخلاقی طور پر دیوالیہ قرار دے دیا ہے۔یہ اسی طریقے سے اداروں اور افراد کا اخلاقی وقار مجروح کرنے کی کوشش کرتے ہیں تا کہ ان کا راستہ صاف ہوجائے اور وہ اپنی بغاوتوں اور نافرمانی کا کوئی اخلاقی اور مذہبی جواز پیش کرسکیں۔سوشل میڈیا کے نیٹ ورکس سے کسی بھی نئی صورت حال پر اپنے غیظ وغضب کا اظہار ،عوام کو متحرک کرنے اور انھیں بڑی محاذ آرائی کے لیے تیار رکھنے کا سب سے بڑا ذریعہ بن چکے ہیں۔اخوان المسلمون ہر موقع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتی ہے ۔ سوشل میڈیا پر جھوٹ پھیلانے کے لیے ایک ہیش ٹیگ بنایا جاتا ہے۔اس مقصد کے لیے وہ ماضی سے بھی کہانیاں ڈھونڈی جاتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اخوان المسلمون کا ان حکومتوں اور جماعتوں کے خلاف کو ئی پروپیگنڈا نظر نہیں آتا ہے جو اس کی اتحادی ہیں یا جو اس کے ایجنڈے سے متفق ہوچکی ہیں۔وہ اگر مسائل اور بحرانوں کی دلدل میں غرق بھی ہوں اخوان المسلمون ان پر تنقید نہیں کرتی ہے۔وہ اس لیے کہ ان کے مفادات مشترکہ ہیں اور یہ ممالک یا جماعتیں اخوان المسلمون کی ” غضب ناکی“ کو اپنے مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کرتی ہیں۔
اخوان المسلمون کا سب سے معروف حربہ یہ ہے کہ اعلیٰ اخلاقی اصولوں کو ہائی جیک کرکے انھیں سستی شہرت یا نہایت ادنیٰ مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے۔انھوں نے دین اسلام کو ہائی جیک کر لیا ہے اور اس کو ” منحرف یا گم کردہ راہ “ دشمنوں کے خلاف ایک ہتھیار بنا دیا ہے۔انھوں نے پان عرب فلاسفی کو استعمال کرنےکی بھرپور کوشش کی اور سیاسی حقیقت پسندی میں یقین رکھنے والے اپنے مخالفین کو ایجنٹ اور جاسوس بنا دیا تھا۔وہ کتب ، مضامین اور خبروں کو کسی ایسے لفظ کی تلاش کے لیے چھا ن مارتے ہیں جس کو وہ دوسروں کی توہین کے لیے استعمال کرسکیں۔
اخوان المسلمون نے تعلیم ، ثقافت اور میڈیا کے محاذوں پر بھی بڑی شد ومد کے ساتھ مہم برپا کررکھی ہے کیونکہ اخوانی ان شعبے میں بھی اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ وزیر تعلیم ان کا اپنا ہو تاکہ وہ اپنے منصوبے کی راہ میں حائل ہونے والے وزراء کے خلاف سازش کے تانے بانے بن سکیں۔اخوان المسلمون بہت سے عرب ملکوں کے تعلیمی شعبوں میں مداخلت کر رہی ہے اور اس نے طلبہ کے اذہان میں اپنے بدترین نظریات کو ٹھونس کر اس تعلیمی شعبے کو مکمل طور پر تباہ وبرباد کردیا ہے۔وہ مذہبی منافرت اور سازشی نظریات کو طلبہ کے ذہنوں میں راسخ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اخوان المسلمون نے طلبہ کو زندگی گزارنے کا ڈھنگ سکھانے اور ہر طرح کے نظریات کو قبول کرنے کے بجائے تخریب کی راہ پر لگا دیا ہے۔ وہ انھیں یہ سکھاتی ہے کہ دوسرے عقیدوں یا فرقوں یا مختلف نظریات کے حامل افراد سے نفرت کیسے کی جاتی ہے۔انھوں نے نوجوانوں کو یکا وتنہا کردیا ہے اور انھیں یہ باور کرادیا ہے کہ ” امت کے خلاف سازشی نظریات کے تانے بانے بنے جارہے ہیں“۔ یہی وجہ ہے کہ نوعمر لڑکے ،جن سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ ایک بھرپور زندگی گزاریں گے ،وہ اس ذہنی غسل (برین واشنگ) سے کچھ سے کچھ بن جاتے ہیں۔ وہ ایسے بھونپو بن جاتے ہیں ،جنھیں یہ لیڈر دوسروں کے بارے میں ہمہ وقت فیصلہ کن بیانات کے اجراء کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
یہ اخوان المسلمون کے نظریے کی بدولت ہی ہوا ہے کہ ماضی میں روشنی اور روشن خیالی کی آماج گاہ جامعات اور تعلیمی اداروں کا دھڑن تختہ ہوچکا ہے۔اخوان المسلمون کے اساتذہ ان جامعات کے معاملات میں پیش پیش ہیں اور ان کی راہداریوں میں گھومتے پھرتے نظر آتے ہیں۔ وہ ان کے لیکچر ہالوں میں تباہ کن نتائج مرتب کررہے ہیں۔اخوانیوں نے دوسروں کی طرح ان صحافیوں اور دانشوروں کی توہین کو اپنا وطیرہ بنا رکھا ہے۔ وہ انھیں اسکینڈل زدہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ وہ ان کے لیے جگہ خالی کردیں اور منظر سے مکمل طور پر ہٹ جائیں۔
 اخوان المسلمون کا یہ میڈیا بڑا کایاں اور اس کا طریق کار بڑا معروف ہے لیکن یہ ہے بہت خطرناک ، کیونکہ یہ ایک ایسے کلچر پر مبنی ہے جس کی اخوان المسلمون برسوں سے تشہیر اور پرورش کررہی ہے۔اس لیے اس کے ذریعے دوسروں پر اثر انداز ہونا بہت آسان ہے۔حرف آخر یہ کہ اس حساس کالم کے لئے تمام تر مواد سعودی سرکاری ذرائع ابلاغ سے حاصل کیا گیا ہے جس پر یقین کرنا خود اس کالم نگار کےلئے بھی ممکن نہ ہوتا اگر خود کھلی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ نہ کرتا۔اب آخری سہارا تو آقاومولاہی ہیں۔ان کی بارگاہ میں دوبارہ عرض گذار ہوں ۔
اے خاصائے خاصانِ رسل وقتِ دعا ہے
اُمت پہ تیری عجب وقت آن پڑا ہے

 

 

متعلقہ خبریں