شہید لیفٹیننٹ فیض سلطان ملک کے حوالے سے ایک ایمان افروز واقع

2017 ,نومبر 14

بنتِ ہوا

بنتِ ہوا

تہذیب

bintehawa727@gmail.com



دلوں کو موہ لینے والی ایک کہانی پاک فوج کے بائیس سال کے شہید نوجوان آفیسرلیفٹیننٹ فیض سلطان ملک شہید کی بھی ہے۔ جن کے والد کو جب جی ایچ کیو(جنرل ہیڈ کوارٹر راولپنڈی) سے مطلع کیا گیا کہ انکا بیٹا شہید ہو گیا ہے اور مزید جب ان سے استفسار کیا گیا کہ انکا جسد خاکی کہاں لایا جائے تو انہوں نے ان تاریخی الفاظ کے ساتھ پاکستان کی عسکری تاریخ میں خود کو سنہری حروف میں محفوظ کر لیا، “کہ اگر میرے بیٹے کے سینے پر گولیاں ہیں تو اسے چکوال لے آؤ اوراگراس کی پیٹھ پر گولیاں ہیں تواسے وہیں چھوڑ دو”۔
لیفٹنینٹ فیض شہید کے والد کی یہ بات سن کر جی ایچ کیو کے اہلکاروں نے انہیں آگاہ کیا کہ “مبارک ہو سر! آپ کے بیٹے کے سینے پر بائیس گولیاں لگی ہیں اور انہوں نے 35 دہشت گردوں کو واصل جہنم کیا ہے۔” پاک فوج کے اس شیر دل آفیسر نے اپنی زیر قیادت لڑنے والے سپاہیوں کی بھی آگے بڑھ کر نہ صرف دلیرانہ راہنمائی کی بلکہ اپنے ایک زخمی سپاہی یسین کو بھی خود اپنے ہاتھوں میں اٹھا کر پہاڑ سے نیچے لائے جس نے بعد ازاں پشاور سی ایم ایچ میں جام شہادت نوش کیا۔
اور یہاں یہ بات بھی آپ کے گوش گزار کرنا نہایت ضروری امر ہوگا کہ 11 جون سنہ2009ءمیں شیر دل آپریشن کے دوران شہید ہونے والے اس کمسن آفیسر نے دو دنوں سے کھانا نہیں کھایا ہوا تھا کیونکہ تب مہمند ایجنسی میں نامساعد حالات کے پیش نظر( فوڈ سپلائی) خوراک کی ترسیل بھی بند تھی۔ لیفٹیننٹ فیض کم عمری سے ہی اپنے ملک اور حضرت قائد اعظم محمد علی جناح رحمتہ اللہ علیہ سے والہانہ عقیدت رکھتے تھے اور ان کے سامنے روز قیامت سرخرو ہونے کے متمنی تھے۔ جسکا اظہار ایک بار انہوں نے اپنے چھوٹے بہن بھائیوں سے ان الفاظ میں کیا، “کہ جب حضرت قائد اعظم محمد علی جناح رحمتہ اللہ علیہ اللہ تعالٰی کے حضور حاضر ہونگے تو اللہ تعالٰی انہیں بولیں گے”ویلڈن جناح” اور جب میں جاؤں تو میری خواہش ہے کہ مجھے چلو یہ نہ بولیں کہ ویلڈن فیض مگر اتنا تو ضرور کہیں، ویل ایٹمپٹڈ فیض!”۔
لیفٹیننٹ فیض کی خواہش کیسی پوری نہ ہوتی، ان کی والدہ جو ہمیشہ اپنے بیٹے کو باوضو ہو کر دودھ پلاتی تھیں۔ لیفٹیننٹ فیض کی والدہ اپنے بیٹے کی شہادت کے آٹھ سال گزر جانے کے بعد بھی ان کے وہ الفاظ بھول نہیں پائیں جو انہوں نے اپنی شہادت سے ایک رات قبل اپنی والدہ سے آخری فون کال میں کہے، “امی جان آپ ایک فوجی کی بہو ہیں، ایک فوجی کی بیوی ہیں اور ایک فوجی کی ماں ہیں، اگر آپ میرے بارے میں کوئی ایسی ویسی خبر سنیں تو صبر کا پہاڑ بن جانا”۔ لیفٹیننٹ فیض کی والدہ نے اپنے بڑے بیٹے کے انہی الفاظ کی لاج کیا خوب نبھائی کہ اپنے واحد چھوٹے بیٹے کو بھی پاک فوج میں بھیج دیا۔ اور آج وہ (کیپٹن حبیب سلطان ملک) اس وقت اپنے بھائی ہی کی یونٹ میں انکی شاندارعسکری تاریخ کو مزید آگے بڑھا رہے ہیں۔ جس کامنہ بولتاثبوت8جون سنہ2014ءکو کراچی میں جناح انٹر نیشنل ائیر پورٹ پر ہونے والےاسلامک موومنٹ آف ازبکستان کے شرپسندوں کا حملہ ہے۔ جس میں نمایاں کرادار لیفٹیننٹ فیض سلطان ملک شہید کے چھوٹے بھائی کیپٹن حبیب نے 10 میں سے 4 شرپسندوں کو واصل جہنم کر کےادا کیا۔
ہمارے سکون و آرام کی خاطر آرمی کانوائے کے ہمراہ صدقہ گاڑیوں(فوجی اصطلاح) میں سفر کرنے والے لیفٹیننٹ فیض سلطان ملک شہید ستارہ بسالت جیسے بے شمار نوجوان آفیسرز اور سپاہی ان چند ایک سالوں میں اس قوم کے صدقے میں چلے گئے۔ لہٰذا اب یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم بھی اپنی اپنی جگہ اس ملک سے متعلق اپنے فرائض کو نہ صرف پہچانیں بلکہ انہیں بخوبی سرانجام دینے کے لئے کوئی بھی کسر اٹھا نہ رکھیں۔

اے پتر ہٹا تے نیں وکدے
کی لبھنی اے بازار کڑے

نوٹ:اگر آپ بھی اپنا کوئی کالم،فیچر یا افسانہ ہماری ویب سائٹ پر چلوانا چاہتے ہیں تو اس ای ڈی پر میل کریں۔ای میل آئی ڈی ہے۔۔۔۔

bintehawa727@gmail.com

ہم آپ کے تعاون کے شکر گزار ہوں گے۔

متعلقہ خبریں