تاریخ کی باز گشت

2017 ,جولائی 19



لندن سے بینظیر بھٹو کی تین کلاس فیلوز پاکستان کی سیر کیلئے انکے ساتھ آئی تھیں۔ وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو اپنی بیٹی اور انکی دوستوں کو خود کشمیر کے پرکیف نظارے اور جنت نظیر مقامات دکھانے لے گئے۔ ان کا یہ تین روز سیاحتی دورہ تھے۔ مظفر آباد اس دورے کا مرکزی مقام تھا۔ بھٹو کی سکیورٹی انکی اپنی تخلیق کردہ فیڈرل سکیورٹی فورس کے پاس ہوا کرتی تھی۔ وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے جہاں جانا ہوتا‘ ایف ایس ایف کے ڈائریکٹر جنرل مسعود محمود استقبال کیلئے وہاں پہلے سے موجود ہوتے۔ مسعود محمود بھٹو کی فرمانبرداری اور جی حضوری میں اپنی مثال آپ جبکہ دوسرے لوگوں کیلئے تکبر، کروفر اور رعونت کی تصویر تھے۔ طاقت اور اختیار کا ایسا نشہ کہ وزیراعظم کے بعد وہ خود کو وزیراعظم سمجھتے تھے۔انکی وزیراعظم سے قربت کو دیکھ کر بڑے بڑے اسکے منہ لگنے سے گریز کرتے تھے۔

بھٹو بچیوں کے ساتھ لیپا گئے۔وہاں چند گھنٹے گزارنے کے بعد واپسی کا فیصلہ کیا۔اس فیصلے سے مظفر آباد میں انتظامیہ کو آگاہ کیا گیا‘ یہ جمعہ کا دن اور جمعہ کا وقت تھا لوگ جمعہ کیلئے مسجد میں تھے۔وزیراعظم پاکستان کی آمد کی اطلاع ملی تو افراتفری مچ گئی، کئی لوگ مسجد سے وزیراعظم کو ریسیو کرنے کیلئے بھاگے۔ وزیراعظم کے ہیلی کاپٹر نے نیلم سٹیڈیم میں لینڈ کرنا تھا۔ مسعود محمود خوش آمدید کہنے کیلئے سب سے آگے تھے۔ چیف سیکرٹری اجلال حیدر زیدی کو’’ وخت‘‘ پڑا ہوا تھا۔ سید قائم علی شاہ کے پاس وزارت امورکشمیر تھی‘ وہ بھی آزاد کشمیر میں اپنے وزیراعظم کی سیروسیاحت کو آسان بنانے کیلئے موجود تھے۔

لیپا سے مظفر آبادآتے ہوئے وزیرِاعظم کے قافلے نے راستے میں پڑنے والے دلکش مقام ’’چکار‘‘رُکنے کا فیصلہ کیا۔ ہیلی کاپٹر وہاں اتر گیا۔ نیلم سٹیڈیم میں فوجی کمانڈر، سیاسی لیڈر اور بیوروکریٹ وزیراعظم کی آمد کے منتظر تھے۔ مسعود محمود طیش میں آکر بریگیڈ کمانڈر پر برس پڑے۔ بریگیڈئیر افتخار کو مسعود محمود کی اہمیت کا ادراک تھا، اس لئے وہ خاموش رہے۔

یہی مسعود محمود اپنی جیپ میںد ریائے نیلم کا پل کراس کررہے تھے جس پر یکطرفہ ٹریفک چل سکتی ہے۔آمنے سامنے سے گاڑیاں کراس نہیں کرسکتیں۔مسعود محمود کی جیپ نے ابھی چند گز فاصلہ ہی طے کیا تھاکہ اس دوران سامنے سے فوجی جیپ اسّی فیصد فاصلہ طے کرکے نمودار ہوئی جس میں ایک کرنل بیٹھے تھے۔ ایف ایس ایف کے سر پھرے ڈی جی نے کرنل کو جیپ ریورس کرنے پر مجبور کردیا۔ مسعود محمود کی گاڑی کے پیچھے او سی، ملٹری پولیس میجر نذیر کی گاڑی تھی وہ ان واقعات کے عینی شاہد اور راوی ہیں۔

دلائی کیمپ اُس دور میں بھٹو سے بے وفائی کرنیوالوں کا عقوبت خانہ تھا اسکے انتظامات ایف ایس ایف کے پاس تھے۔ایف ایس ایف بھٹو کے مخالفین کوسیدھا کرنے کیلئے استعمال ہوتی تھی۔ اس گسٹاپو تنظیم نے دلائی کیمپ سے باہر بھی خیر نہیں کی۔ ڈاکٹر نذیر‘ خواجہ رفیق‘ مولوی شمس الدین‘ فقیر محمد امین‘ ضامن علی‘ عبدالوحید‘ ڈاکٹر سلیم باجوہ‘ خوشنود عالم‘ محمد انور کو ایف ایس ایف نے انتقام اور بربریت کا نشانہ بنایا۔ دلائی کیمپ میں جن لوگوں کو پہلی کھیپ کیلئے لیجایا گیا‘ ان پر ایف ایس ایف کے جس دستے کو سبق سکھانے کیلئے تعینات کیا گیا ان میں ایک ہیڈ کانسٹیبل رشیدالدین تھے۔وہ کہتے ہیں کہ ا یف ایس ایف میں بھرتی کا معیار تعلیم نہیں، کینڈیڈیٹ کا لحیم شحیم اور جسمانی طور پر مضبوط ہونا تھا۔ رشید الدین نے مارپیٹ سے گریز کیا اور زیادہ ضمیر جاگنے پر دلائی کیمپ میں موجود بھٹو کے ساتھیوں کے بارے میں انکے گھروں سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تو انکی زندگی جہنم بنا دی گئی تاہم رشید کی زندگی بچ گئی۔ دلائی کیمپ میں قید لوگوں کے لواحقین کو کوئی علم نہیں تھا کہ انکے پیاروں کو زمین نگل گئی یا آسمان نے اُچک لیا۔ رشیدالدین کی اطلاع پر ایک وکیل نے عدالت کے در پر دستک دی تو جج نے اس پر ایکشن لینے کے بجائے اطلاع حکومت کو دیدی۔

یہ وہی مسعود محمود ہے جو دنیا کے سامنے شیر اور بھٹو کے سامنے بکری بنا رہتا تھا۔ ایک روز بھٹو صاحب ملتان تشریف لے گئے۔وہاں وہ صادق قریشی کے محل وائٹ ہائوس میں ٹھہرے۔ مسعود محمود بھی ساتھ تھے تاہم رات کو ریسٹ ہائوس چلے گئے۔ اگلی صبح مسعود محمود کی آنکھ فون کی بیل پر کھلی، فون اٹھایا۔ لائن پر بھٹو تھے۔ بھٹو صاحب نے سخت لہجے میں کہا کہ تیرے گماشتوں نے نواب محمد احمدخان کو مار ڈالا۔ احمد رضا بچ گیا۔مسعود محمودفوراً وائٹ ہائوس پہنچا جہاں بھٹو نے گرما گرم اورموٹی موٹی گالیوں سے تواضع کی۔ ڈی جی صاحب کھسیانے ہوکر سب سنتے رہے۔

اب سین بدل چکا ہے۔ بھٹو کی حکومت ختم ہوچکی۔ جنرل ضیاء الحق کا مارشل لائی دور ہے۔ بھٹو صاحب نواب محمداحمد خان قتل کیس میں زیرحراست ہیں۔ جنرل ضیاء الحق فراغت یا ویک اینڈ پرعموماً مری چلے جاتے۔ کلفٹن کیمپ کے آرمی ہائوس میں صرف اپنی فیملی ممبران کے ساتھ جاتے۔ ساتھ پی اے صوبیدار اور دو تین ملازم ہوتے تھے۔ جن لوگوں سے ملاقات ضروری سمجھتے انہیں وہیں بلالیتے۔ آغا شاہی کا بڑا احترام کرتے تھے۔ ایک بار کوسیگن کولیٹر لکھنا تھا۔ صدر جنرل ضیاء الحق کو بتایا گیا کہ آغا شاہی صاحب کو بلا لیتے ہیں، صدر نے ان کو بلانا مناسب نہ سمجھا اور خود پنڈی جاکر ان کو جو بتانا تھا بتا آئے۔

اس روز چودھری ظہور الٰہی ملاقات کیلئے آئے تھے۔بعد ازاں مسعود محمود کو بھی وہاں لایا گیا۔اسکے چہرے پر ہوائیاں اڑی ہوئی تھیں۔ چال میں لڑکھڑاہٹ، پائوں میں ڈگمگاہٹ تھی۔ ضیاء الحق کی خدمت میں پیش ہوئے انکے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوگئے، سرِ پُرغرور جھکا ہوا تھا۔ گڑگڑانے کی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی۔سارا غرور جنرل ضیاء کے پائوں میں بکھرا پڑا تھا۔ یہ وہی مسعود محمود تھا جو اقتدار کے نشے میں خدا کو بھول گیا اور زندگی بھر مقتدر رہنے کا یقین کئے ہوئے تھا۔وہی مسعود محمود جس بھٹو کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑا رہتا تھا انکے خلاف وعدہ معاف گواہ بنا اور انکو تختہ دار تک ا سی کی گواہی لے گئی۔

تیسرا سین آج سامنے ہے۔ بھٹو زندہ باد، فرزند ایشیا، جہاں تیرا پسینہ گرے گا اپنا خون بہا دینگے، مخالفین ملک دشمن ہیں۔غدار ہیں کے جس طرح کل نعرے لگتے تھے یہی کچھ آج کی حکمران ایلیٹ کی شان میں سننے کو آرہا اور نعرے بلند ہورہے ہیں بلکہ اس سے بہت بڑھ کر، کیونکہ پاناما کیس فیصلہ کے بعد جے آئی ٹی رپورٹ کو جس طرح حقارت سے دیکھا گیا اور جے آئی ٹی ارکان کی ذات پر حملے کئے گئے وہ خوشامد، چاپلوسی، حاشیہ برداری اور کاسہ لیسی کی کلاسیکل مثال ہے۔ چودھری نثار نے کہا کہ نوازشریف کو اس مشکل میں خوشامدیوںنے پھنسایا‘ اسکے بعد بھی وہ سلسلہ رُکا نہیں۔ میاں صاحب کے دائیں بائیں وہی لوگ جو بقول چودھری نثار ان کو مصیبت میں پھنسا رہے ہیں۔ ایک سے بڑھ کر ایک مسعود محمود نظر آرہا ہے مگر مکافات عمل حقیقت ہے اور تاریخ کا اپنے آپ کو دُہرانا بھی اٹل ہے۔ بھٹو والی تاریخ نہیں، خود میاں صاحب والی تاریخ جب انکے یہی حامی کہتے تھے قدم بڑھائو نوازشریف ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ میاں نوازشریف نے خود فرمایا ’’جب میں نے قدم بڑھایا تو پیچھے مڑ کر دیکھا تو کوئی بھی نہیں تھا‘‘۔ قدم بڑھانے کے مشورے دینے والے مشرف کے کیمپ میں چلے گئے۔پاناما کیس کے پیچھے ہینڈلر بڑا طاقتور ہے۔وعدہ معاف گواہوں کی لائن نہ لگ جائے اور میاں صاحب کہتے نظر آئیں …؎

دیکھا جو تیر کھا کے کمیں گاہ کی طرف

اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہوگئی

ایک ہینڈلر کانام توصدر ممنون حسین نے پاناما لیکس کو اللہ کی طرف سے معجزہ قرار دیکر بتا دیا تھا۔

 

 

متعلقہ خبریں