ہیلمٹ کی پابندی کے پیچھے کیا گڑ بڑ ہے ؟ کونسا خاندان اور کیوں یہ پابندی لگوانا چاہتا ہے ؟ سینئر باخبر صحافی نے حقیقت سامنے رکھ دی

2018 ,دسمبر 14



لاہور (ویب ڈیسک) لاہور میں ہر موٹر سائیکل سوار کیلئے جب ہیلمٹ کا استعمال لازمی قرار دیتے ہوئے اس کی خلاف ورزی کرنیوالوں کو ایک ہزار روپے جرمانے کا اعلان ہوا‘ تو ہر جانب بے چینی پھیل گئی۔ سب حیران ہوئے کہ ہیلمٹ نہ پہننے پر‘ ٹریفک پولیس کی جانب سے اس قدر بھاری رقم بطورِ جرمانہ کیوں؟

نامور  کالم  نگار منیر احمد بلوچ اپنے ایک کالم میں  لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ عوام پر یہ حکم نافذ کرنے سے پہلے پنجا ب حکومت کا فرض بنتا تھاکہ پہلے لاہور بھر میں ہیلمٹ کا بھاری سٹاک مہیا کر دیا جاتا‘ لیکن ایسا نہیں ہوا اور ٹریفک پولیس کو جرمانے کرنے کی تلوار سونپ دی گئی‘ تو اس وقت شہر بھر کی مارکیٹوں میں ہیلمٹ فروخت کرنیوالوں کے پاس دس ہزار سے زیا دہ ہیلمٹ نہ تھے‘ جبکہ موٹر سائیکل سواروں کی تعداد کسی بھی صورت میں ایک لاکھ سے کم نہیں تھی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ وہ ہیلمٹ ‘جو اس حکم سے پہلے تین سوروپے سے پندرہ سو روپے میں مل رہا تھا‘ وہ پندرہ سو سے پینتالیس سو روپے تک فروخت ہوناشروع ہو گئے اور انہیں فروخت کرنیوالوں کی دکانوں کے سامنے ہجوم اکٹھا ہونا شروع ہو گیا۔ عوام کو پہنچنے والی اس تکلیف اورہیلمٹس کے بلیک ہونے کی وجہ سے بھاری اخراجات ادا کرتے ہوئے ٹریفک پولیس کے مبینہ جرمانوں سے بچنے کیلئے ایک روپے کی چیز پانچ روپے میں خریدے جانے کے عمل کو کوئی بھی گڈ گورننس نہیں کہے گا۔جب لاہور میں یہ حکم نافذ کیا گیا‘ تو حکومت پنجاب اور اس کی وزارت صنعت کا فرض بنتا تھا کہ سب سے پہلے مارکیٹ میں اتنی تعداد میں ہیلمٹ مہیا کر دیئے جاتے‘

 تا کہ کسی کو اس کے حصول کیلئے در در کے دھکے کھانے کے بعد ناکامی کی صورت میں جرمانوں کے جھٹکے نہ کھانے پڑتے۔بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ ہیلمٹ خریدنے کیلئے لاہور بھر میں اس کی متعلقہ مارکیٹوں میں دھکے کھاتے پھرتے تھے کہ ان مارکیٹس تک جانیوالے ہر چوک ا ور سڑک پر تین تین ‘چار چار کی تعداد میں ٹریفک وارڈن ناکے لگائے کھڑے تھے اور ہیلمٹ نہ پہننے والوں کے دھڑا دھڑ چالان کر رہے تھے ۔ہزاروں کی تعداد میں ایسے لوگ تھے‘ جن کے پاس ایک یا دوہزار روپے تھے اورانہیں اس قیمت میں کہیں سے بھی ہیلمٹ دستیاب نہیں ہو رہا تھا اور ان کے ہیلمٹ کی تلاش میںناکام واپسی پر ان چالان کئے جاتے رہے۔کیا یہ کسی بھی حکومت کیلئے منا سب ہے کہ سکھا شاہی حکم جاری کر دیا جائے کہ لاہور میں اگر کل کسی نے آنکھوں پر دھوپ کا چشمہ نہ لگایا تو اسے پانچ سو روپے جرمانہ کر دیا جائے گا‘ جبکہ لاہور بھر میں دھوپ کے کل چشمے دس بیس ہزار سے زیا دہ نہ ہوں؟یہی ہیلمٹ کے سلسلے میں کیا گیا ؛ اگر آپ نے اپنے اس قانون یا سخت قسم کی پابندی کا نفاذ کرنا تھا‘

 تو آپ کے پاس موٹرسائیکل سواروں کی یہ لازمی ضرورت کا سٹاک ہونا بھی ضروری تھا۔ ابھی موٹر سائیکل سواروں کیلئے ہیلمٹ پہننے کی پابندی کی بات جاری تھی کہ نیا حکم مارکیٹ میں آگیا کہ موٹر سائیکل کے پیچھے بیٹھنے والی خاتون کو بھی ہیلمٹ پہننا ہو گا ‘ جس کی خلاف ورزی پر ہزار روپے جرمانہ ہو گا ۔ اس خبر کے ساتھ ہی پہلے سے جاری افواہیں اور زور پکڑنا شروع ہو گئیں کہ' ہیلمٹ‘ کے پیچھے کچھ گڑ بڑ ہے۔ حکومت پنجاب کی اس غفلت یا گڈ گورننس نہ ہونے کی وجہ سے ملک بھر میں جاری ان افواہوں کو اب اور بھی تقویت ملناشروع ہو گئی ‘جن کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے کہ یہ کسی ایک خاندان کو خوش کرنے کیلئے کیا گیا؛ حالانکہ یہ حکم وزیر اعلیٰ پنجاب نے نہیں‘ بلکہ معزز ہائیکورٹ کی جانب سے جاری کیا گیا تھا‘ لیکن کیا کیا جائے؟ ایک لاپروائی اور وزارت ِصنعت کی نا اہلی کی وجہ سے اس الزام کا سلسلہ اب اس حکم کے ساتھ اور بھی تقویت پکڑ رہا ہے کہ بغیر ہیلمٹ پہنے کسی بھی موٹر سائیکل سوار کو پٹرول پمپس پر پٹرول نہیں دیا جائے گا۔واضح رہے کہ یہ پابندی سندھ حکومت نے بھی جاری کر دی ہے۔(ش س م)
 

 

متعلقہ خبریں