بھابی تبت سنو ۔۔۔۔ عورتوں کے میک اپ کے شوق کے حوالے سے ایسی دلچسپ تحریر جو سارا دن آپ کا موڈ خوشگوار رکھے گی

2018 ,دسمبر 11



لاہور (ویب ڈیسک) چیونٹی آٹو رکشے میں بیٹھی اور ایک پاؤں باہر رکھا۔۔۔ڈرائیور ۔۔۔ میڈم جی پاؤں اندر رکھو ۔۔۔ !!چیونٹی ۔۔۔ راستے میں ہاتھی ملے تو لات مارنی ہے کل سالا آنکھ مار کے گیا تھا ۔۔۔ چیونٹی نے ہنس کر کہا ۔۔۔نامور کالم نگار حافظ مظفر محسن  اپنے ایک  طنزیہ و مزاحیہ کالم میں  لکھتے ہیں ۔۔۔۔

’’بھابھی تبت سنو‘‘کا نام در اصل ارشاد بیگم تھا اور وہ گاؤں فتو والا کی رہنے والی تھیں وہ فتووالے سے روزانہ تانگہ پر گیارہ میل کا فاصلہ طے کر کے گاؤں ککڑی پور آتیں جہاں سے ایک پرانے زمانے کی پھٹچر بس پر بیٹھ کر وہ شرقپور سے لاہور پڑھنے جاتیں۔ یعنی اُنھوں نے بی۔اے تک تعلیم حاصل کرنے کے لیے تقریباً یا اندازاً لاکھوں میل کا سفر بھی طے کیا۔ جب موصوفہ شادی کے بعد شہر میں اپنے سسرال تشریف لائیں تو ساس صاحبہ نے شام کو بڑے شوق سے جو نہاری پکائی تھی وہ کھانے کو پیش کی۔ چار و ناچار کھانے لگیں اور قے کر ڈالی ۔۔۔ پھر اگلے دن ’’فیملی فنکشن‘‘ ایک چائنیز ریسٹورنٹ میں تھا جہاں سوپ کا پہلا چمچ منہ میں ڈالا اور وہیں پھر قے کر ڈالی اور ساتھ ہی غصے میں بولیں ’’پتہ نہیں ۔۔۔ غلطی سے صابن میں کیا ڈال کے پینے کو رکھ دیا ہے ظالموں نے‘‘ ۔۔۔؟!اُن کے شوہر امریکہ سے اپنی شادی کے لیے بہت سا سازو سامان بڑی خوشی اور محبت سے لائے تھے جس میں سب سے اہم چیز اُن کا بیوٹی بکس تھا جس میں دنیا جہان کی خوشبوئیات، لپ اسٹک وغیرہ وغیرہ موجود تھیں 

جب بھابھی ارشاد بیگم بی۔اے کو وہ بڑے سائز کا نہایت نفیس، عالیشان بیوٹی بکس پیش ہوا تو اُنھوں نے خوب الٹ پلٹ کے اس بیوٹی بکس کو دیکھا ۔۔۔ اُن کے چہرے اور حرکات و سکنات سے لگتا تھا کہ اُنھیں یہ میک اپ کے سامان سے لیس بیوٹی بکس دیکھ اور ٹٹول کر خاصی مایوسی بلکہ شدید پریشانی ہوئی ہے۔ شوہر نے پوچھا (محبت سے، حسرت سے، کسی اچھے جواب کی اُمید میں) ارشاد بیگم بی۔اے کیسا ہے یہ ہمارا پیش کردہ خوبصورت سا بیوٹی بکس؟! ۔۔۔ جو میں بڑے شوق اور محبت سے ڈالر خرچ کر کے آپ کے لیے لایا ہوں؟! ۔۔۔تو وہ غصے سے دیکھتے ہوئے با آواز بلند بولیں ’’بکواس ہے یہ بیوٹی بکس، پتہ نہیں کس جاہل نے کہاں سے خریدا ہے، اس میں تو تبت سنو نہیں ہے‘‘ ؟! ۔۔۔آج اُن کے جنازے پر جاتے ہوئے میں یہ محسوس کر رہا ہوں کہ اچھی تھیں وہ سادہ دل عورتیں ۔۔۔ جو وینا ملک کی بے حیائیاں، بگ باس کی فحش لباسیاں اور بھارتی چینلز پر چلنے والے ہزاروں قسطوں والے ڈراموں کی فریبی مکار عورتیں دیکھنے سے پہلے ہی دنیا سے چلی گئیں ۔۔۔تبت سنو کو تو شاید آنے والے دنوں میں لوگ بھول جائیں لیکن بھابھی تبت سنو کو خاندان والے ہمیشہ یاد رکھیں گے کہ محبت سے رکھے گئے یہ نِک نیم کبھی پیچھا نہیں چھوڑتے اور اصلی نام ان کے نیچے دب کر رہ جاتے ہیں ۔۔۔ اپنے ارد گرد غور کریں آپ کو بہت سے بلو ۔۔۔ پپو ۔۔۔ ٹومی ۔۔۔ ٹونی ۔۔۔ اور بوبی ملیں گے ۔۔۔ اُنھیں سمجھائیے گا کہ یہ نام چالیس سال یا اس سے تھوڑا زیادہ عمر تک تو چل سکتے ہیں ۔۔۔ اُس کے بعد بندے کو اپنے اصلی نام کی طرف رجوع کر لینا چاہئے ۔۔۔ شکریہ ۔۔۔!!!(ش س م) 
 

 

متعلقہ خبریں