ہر طرف بلے بلے ہو گئی : عمران خان نے پاکستان کی تاریخ کا ایک شاندار یوٹرن لے لیا

2018 ,دسمبر 11



لاہور (ویب ڈیسک) وزیر اعظم عمران خان کا انٹر ویو پاکستان کی سفارتی تاریخ کا سب سے بڑا مثبت یو ٹرن ہے۔ کوئی اور مانے نہ مانے قلم مزدور اس پالیسی شفٹ کوخوش آمدید کہے گا۔پاک امریکہ تعلقات کا دوسرا دور اس وقت شروع ہوا جب ضیاء الحق نے 5جولائی 1977ء کی شب ملک پر قبضہ کیا۔

نامور  کالم نگار طارق محمود چوہدری اپنے ایک کالم میں  لکھتے  ہیں ۔۔۔۔۔۔ایک مرتبہ پھرقابض حکمران تنہا تھا۔ اس کو اپنے اقتدار کو طول دینے کیلئے جواز درکارتھا۔ ارد گرد نظریں دوڑائیں تو اپنے ہمسائے ملک میں ایک موقع نظر آیا۔ سوویت یونین،افغانستان کی زہریلی دلدل میں قدم رکھ چکا تھا۔ امریکہ ویت نام کی شکست کا بدلہ لیتے سرخ ریچھ کو نکیل ڈالنے کا منصوبہ بنا چکا تھا۔ اس کو افغانستان کے ہمسایہ میں لانچنگ پیڈ اور اسلحہ کا گودام درکار تھا۔ ادھر پاکستان میں بر سر اقتدار ضیاء الحق کو اقتدار کی طوالت چاہیے تھی۔ انہوں نے اپنی خدمات پیش کیں۔ امریکہ کی تو چاندی ہو گئی۔ پاکستا ن سے بن مانگے بہت کچھ مل گیا۔ افرادی قوت، اڈے، اسلحہ خانہ۔ امریکہ نے دس سال پاکستان کی مدد سے جنگ لڑی۔ آخر کار سوویت یونین کے ٹکڑے ٹکڑے ہوئے تو امریکہ نے بھی اپنا سامان سمیٹا۔ اب اس کو اتحادی کی بھی ضرورت نہ تھی۔ لہٰذا اپنے سفیر کی قربانی دیکر چشم دید گواہ کو بھی ختم کر دیا۔ ضیاء الحق کو تو دس سال کا عرصہ اقتدار تو مل گیا۔ لیکن پاکستان کو اگلے سو سال کیلئے ایسے بگاڑ کی دلدل میں ڈال گیا جس کی گہرائی کا آج بھی کسی کو اندازہ نہیں۔

بس معاشرہ اس دور کی غلطیوں کی قیمت آج بھی ادا کر رہا ہے۔ اور نہ جانے کب تک ادا کر تا رہے گا۔ ایک مرتبہ پھر دس سال نسبتاً امن و امان، سکون سے گزرے۔ 12 اکتوبر 1998 کو پاکستان میں ایک اور مارشل لا لگا۔ اس دور میں پھر وہی کہانی دہرائی گئی۔ نائن الیون ہوا۔ امریکہ اور پرویز مشرف کی دوستی ہو گئی۔دونوں ایک دوسرے کیلئے لازم وملزوم ہو گئے۔ پرویز مشرف رچرڈ آرمٹیج کی ایک ٹیلی فون کال پر ڈھیر ہوئے۔ پاکستان کو امریکہ کی پراکسی وارکاہیڈ کوارٹر بنا دیا گیا۔اقتدار کے مزے پرویز مشرف نے لوٹے۔ بلکہ اب بھی لوٹ رہا ہے۔ امریکہ کے اپنے سٹریٹجک مقاصد تھے۔ جن کی تکمیل ہو رہی ہے۔ لیکن پاکستان نے 80 ہزار جانوں کی قربانی دی۔ ڈیڑھ سو بلین ڈالر کا معاشی خسارہ برداشت کیا۔ خود کش حملے، دہشت گردی، انتہا پسندی ایسی بیماریاں لاحق ہوئیں۔ پاکستان نے ان تینوں ادوار کی بڑی بھاری قیمت ادا کی۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف کامیاب جنگ لڑی۔ انتہا پسندی کے بیانیہ کے خلاف قوم اس جنگ میں ابھی بھی مصروف ہے۔ آخر فتح قوم کی ہوگی۔ فیصلہ سازوں کو اب احساس ہو چکا ہے کہ ماضی میں فاش غلطیاں ہو ئیں۔ اب ان غلطیوں کا ازالہ کیا جا رہا ہے۔ یہ فیصلہ ہو چکا کہ ا ب کسی کی جنگ کا حصہ نہیں بننا۔ امریکہ ہو یا کوئی برادر اسلامی ملک اپنی سر زمین پر کسی کو پراکسی وار کی اجازت نہیں دینی۔ عمران خان کہہ چکے ہیں کہ ہم کرائے کی بندوق نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ اعلان لاتعلقی مستقل ہو عارضی نہ ہو۔(ش س م) 
 

 

متعلقہ خبریں