موت سے زندگی کی طرف

2018 ,جولائی 15

فضل حسین اعوان

فضل حسین اعوان

شفق

awan368@yahoo.com



دنیا میں آنے کی ایک خدائی ترتیب ہے، جانے کی نہیں۔ انسان کا زندگی سے موت کی طرف سفر فطری ہے اور ایسا ہی ہوتا ہے مگر کبھی کبھی موت سے زندگی کی طرف کا سفر بھی دیکھا گیا ہے۔ کئی لوگ موت کے منہ سے واپس آجاتے ہیں۔ موت کی دہلیز عبور کرتے کرتے بچ جاتے ہیں۔ ایسے  بھی بے شمار واقعات ہیں جن میں انسان کہتا ہے زمین سے اٹھا لیا گیا اور موت کی وادی  میں پہنچا دیا گیا۔ پھر مشئیت ایزدی سے واپسی ہوگئی۔ یہ نظام قدرت میں کجی نہیں' فرشتہ بھول نہیں جاتا' ہمارے لئے نشانیاں ہیں۔ ایسے لوگ جو موت کے بعد زندہ ہونے کے دعویدار ہیں' اس عمل سے گزرنے کے بعد اکثر کی زندگیوں میں انقلاب آگیا۔ ان کا دنیا سے واجبی سا تعلق رہ گیا۔ ان کی توجیہات چاہتوں اور الفتوں کا مرکز زمین و آسمان اور کائناتیں اور کہکشائیں بنانے والے خالق اور ہر جہان کا تخلیق کار بن گیا۔

اس کتاب کی تخلیق کی وجہ ایک مضمون میں دو بچوں سے منسوب واقعات تھے، جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ ان بچوں کا دوسرا جنم ہے۔ بچوں نے کہا تھا کہ وہ پہلے بھی دنیا میں آچکے ہیں۔ انہوں نے دہائیوں قبل کے واقعات خود سے منسوب کرکے بتائے۔ ان کی تحقیق اور تصدیق کرنے کی کوشش کی گئی تو انہوں نے جو کچھ کہا تھا وہ درست پایا گیا۔ بعض مذاہب میں چونکہ آواگون اور تناسخ کا عقیدہ یعنی دو سے بھی زیادہ بار جنم لینے کا عقیدہ اور تصور موجود ہے، اس لئے ان بچوں کی بیان کردہ کہانی کے پیش نظر کہا گیا کہ یہ ان کا دوسرا جنم ہے۔ ان دو بچوں کی کہانی پڑھنے کے بعد مزید ریسرچ کی جس میں ایسے واقعات سامنے آئے۔ واقعات  پڑھتے ہوئے " دوسرا جنم، دوسرا جنم" کی تکرار  ہوئی تو ذہن میں  بجلی سی کوندی کہ ہم بھی عمومی زندگی میں دوسرے جنم کی بات کرتے ہیں، جس کا اس دوسرے جنم سے کوئی تعلق نہیں جسے کچھ مذاہب عقیدہ تناسخ، آواگون  (Reincamated) کہتے ہیں۔

ہم کسی سبب موت کی دہلیز پر جاکر لوٹ آئیں تو عموماََ کہہ دیتے ہیں، اللہ نے موت سے محفوظ رکھا، یہ میری نئی زندگی ہے، یہ میرا دوسرا جنم ہے۔ اس حوالے سے کتاب لکھنے کا خیال آیا۔ جو واقعات اس کتاب کا محرک بنے، ان میں سے متعدد کو عوامی دلچسپی کے لئے کتاب کا حصہ بنایا گیا۔ ان واقعات کے بعد فلسفہ آواگون پر مختصر سی بحث کی گئی ہے۔ عقیدہ تناسخ میں روحوں کا ذکرہے تو روحوں کو بھی ڈسکس کیا گیا ہے، جہاں ایسے لوگوں کے چند واقعات بھی درج کئے گئے ہیں، جن کو مردہ سمجھ لیا گیا تھا مگر ان کی سانس بحال ہوگئی، بعض نے اس دوران بہت کچھ عجبب اور نا قابل یقین مشاہدات بیان کئے۔ کسی کو اپنی روح بھٹکتی، کسی کو آسودہ نظر آئی۔ روحوں کے ساتھ ہمزاد بھی نتھی ہے، ہمزاد کو بھی مختصراََ موضوع بنایا گیا۔ مختصراََ ہمزاد کو تسخیر کرنے کے طریقے بھی بتادئیے ہیں۔

کتاب مختلف طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو پیش آنے والے واقعات پر مشتمل ہے، یہ واقعات دوسروں کے لئے سبق، رہنمائی، حوصلہ افزائی اور ہمت و جرات کا باعث بن سکتے ہیں۔ میں نے اپنے ساتھیوں، جاننے، ملنے والوں اور جن لوگوں سے آسانی سے رابطہ ہوسکتا تھا ان سے بات کی۔ اتفاق سے کسی کے ساتھ ملاقات ہوئی تو اس سے بھی پوچھ لیا۔ بہت زیادہ مشکل جدید ٹیکنالوجی: موبائل فون اور کمپیوٹر کی وجہ سے نہیں ہوئی۔ ہر تیسرے نہیں تو چوتھے انسان کے ساتھ ایسا کچھ ضرور گزرا ہوتا ہے جس پر وہ کہتا ہے " موت سے پہلے یہ میری دوسری زندگی ہے۔ اپنے ایک ساتھی آفس بوائے سے پوچھا کہ کبھی موت کو دیکھا ہے تو ان کا ترنت جواب تھا " جب آپ یا کوئی بھی مجھے کام  کا کہتا ہے تو مجھے موت نظر آتی ہے۔" گفتگو کے دوران اردو الفاظ کا استعمال ان کا عمومی طرز سخن ہے۔ الفاظ ترکیبی کے ساتھ اشیائے ترتیبی کے فن سے بھی آشنا ہے۔ ایک مرتبہ ان  سے رس ملائی لانے کو کہا تو ایک ہاتھ میں رس دوسرے میں ملائی پکڑے آگئے۔

دیگر کئی عام لوگوں کے واقعات اس کتاب کا خاصہ ہیں تو خواص سے بھی بات کی۔ کمال کی کہانی شانتی دیوی کی ہے، جس نے نو سال کی عمر میں دوسرے جنم کا دعویٰ کیا۔ شانتی کا دعویٰ تھا پہلے جنم میں وہ دو بچوں کی ماں تھی۔ تیسرے کی پیدائش کے دوران مرگئی۔ اس نے اپنے خاوند۔ بچوں اور دوسرے رشتہ دارون کو بھی پہچان لیا۔ حیران کن طور پر وہ جس علاقے میں لائی گئی اس علاقے کی زبان بھی بولنے لگی، ہم دوسرے جنم کے قائل نہیں مگر ایسے واقعات کے بعد ہمارے پاس انہیں رد کرنے کی ٹھوس دلیلیں چاہئیں جو اس کتاب میں موجود ہیں۔ موت کی دہلیزسے واپس آنے کے حوالے سے واقعات کی طویل فہرست ہے۔ رحمت شاہ آفریدی کو ہیروئن کیس میں موت کی سزا ہوئی۔ وہ اس سے بچ نکلے وہ اس کو دوسری زندگی کا نام نہیں دیتے۔ وہ ایک مرتبہ جہاد افغانستان میں بال بال بچے۔ جہاں گلبدین حکمت یار کے بھائی نے ان کی بانہوں میں دم توڑا تو دوسری بار مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کے گھیرے میں آگئے جہاں وہ اور ان کے ساتھی کئی دن محصور رہنے کے بعد بھوکوں مرنے لگے تھے کہ پلواشہ نامی 18 سالہ لڑکی کتے کے گلے میں روٹیاں لٹکا کر وہاں لانے  میں کامیاب ٹھہری۔ یہ لوگ تو بچ گئے مگر پلواشہ سفاک فوجیوں کے ہٹھے چڑھنے کے بعد ریپ کا نشانہ بنی اور رب کائنات کے حضور پیش ہوگئی۔ 

رحمت شاہ آفریدی کے بارے میں بھی سیٹھ عابد کی طرح داستانیں مشہور ہیں۔ انہوں نے امریکہ کے معاہدے کے مطابق اسلحہ دینے سے انکار پر بینظیر بھٹو کے کہنے پر بلیک مارکیٹ سے اسلحہ کی خریداری کیلئے سوا دو ارب روپے دئیے۔ بینظیر نے یہ رقم امریکی دورے سے واپسی پر ادا کرنی تھی مگر واپسی کے چند دن بعد بے نظیر بھٹو کی حکومت ختم کردی گئی۔ سابق آرمی چیف جنرل ضیا الدین بٹ کو مشرف دور میں حراست کے دوران رات کو کمرے میں گیس چھوڑ کر مارنے کی کوشش کی گئی۔ وزیراعظم ہائوس میں12 اکتوبر1999 کو جو کچھ ہوا وہ اس کے عینی شاہد ہٰیں۔ انہوں نے اس کی تفصیل بیان کی ہے۔

میجر نذیر احمد فاروق کو گلگت جانے والے جہاز سے جبری اتار دیا گیا۔ وہ ابھی واپس فوجی میس نہیں پہنچے تھے کہ جہاز کریش ہونے کی خبر آگئی۔ میجر نذیر نے بیان کیا کہ کس طرح گھر میں ڈکیتی کے بعد وہ خود محفوظ رہے اور کس طرح ڈکیتی کے دوران ان کی اہلیہ نے ڈاکو کو دبوچا اور دس سال کی بھتیجی نے آرلنگٹن پسٹل سے ڈاکو کی پسلیوں میں پانچ گولیاں اتاردیں۔ سینئر ایڈیٹر ایڈیٹوریل سعید آسی کو کئی بار ایسے واقعات کا سامنا کرنا پڑا۔ لاہور میں آئی ایس آئی کے دفتر پر حملے کے دوران وہ عین موقع پر تھے اور میں ذرا پیچھے فاصلے پر تھا۔ اے آرڈی کی تحریک کے دوران تو ان لوگوں میں شامل تھے جن کو زندہ جلانے کی کوشش کی گئی۔ عارفہ صبح خان ایک گڑھے میں گریں جہاں برف نے ان کی قبر بنادی مگر خدا نے زندہ رکھنا تھا۔ڈاکٹر عامر عزیز نے اسامہ بن لادن کا افغانستان میں علاج کیا تو امریکی ان کے پیچھے پڑ گئے،کئی روز ان کو عقوبت خانے میں رکھا گیا،کروڑوں روپے کی ساتھ کام کرنے کیلئے آفر کی گئی۔ہالی وُڈ میں ان کی زندگی پر فلم بنانے کی آفر بھی ہوئی۔ وہ انسانیت کی خدمت پر کاربند رہنا چاہتے تھے اور وہ ایسی خدمت جاری رکھے ہوئے ہیں۔

کتاب کے آخر میں ابویحییٰ کے ناول " جب زندگی شروع ہوگی" کی تلخیص دی گئی ہے۔ اس میں ابوعبداللہ مرنے کے بعد جنت میں چلے جاتے ہیں۔ ناول جنت کے پرکشش اور جہنمیوں کے دردناک احوال پر رونگٹے بلادینے والی روداد پر مشتمل ہے۔ ابو عبداللہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کی اصلاح اور انہیں جہنم کی دہکتی آگ سے بچانے کیلئے دنیا میں بھیجا جاتا ہے، کتاب مارکیٹ میں موجود ہے قیمت چار سو پچانوے روپے یا دس ڈالر ہےجو دعا پبلیکیشنز اردوبازار لاہور نے شائع کی۔ان کا فون نمر0092.423.7233585 ہے

متعلقہ خبریں