سیاست، سوشل میڈیا ،ریحام کی کتاب

2018 ,جون 7



پاکستان میں سوشل میڈیا کے پہلے شہ سوار و شہکار جنرل پرویز مشرف تھے۔ انکے فالورز کی تعداد 10 لاکھ ہوئی، ان میں سے اکثریت نے انہیں پاکستان آ کر لیڈ کرنے کی دعوت دی تو مشرف سمجھے یہ دس لاکھ لوگ قوم کے نمائندہ اورقوم کی آواز و پکار ہیں۔ان میں بیشمار ایسے تھے جن کے شناختی کارڈ اور ووٹ بھی نہیں بنے تھے۔ مشرف دوستوں کے سمجھانے کے باوجود قوم کی رہنمائی کی حسرت اور ایک بار پھرایوان اقتدار میں جلوہ افروز ہونے کی خواہش لئے پاکستان چلے آئے پھر جو کچھ ہوا قوم کے سامنے ہے۔ اب میاں محمد نوازشریف نے کہا ہے کہ وہ مشرف کےخلاف آرٹیکل 6 کے تحت کیس چلانا چاہتے تھے اسکی پاداش میں ان پر پاناما کا ڈرامہ رچایا گیا۔ اسکے باوجود کہ پاناما تفصیلات کے سامنے آنے سے ایک ماہ قبل مشرف پاکستان سے میاں نوازشریف کی پاور فل اور دو تہائی اکثریت کی حامل حکومت کے دوران پاکستان سے چلے گئے تھے۔ کوئی میاں صاحب کے اس بیان کو کھرا سچ اور کوئی سفید جھوٹ قرار دیتا ہے۔ ہر دو کے پاس اپنے موقف کی حمایت میں دلائل کے دریا موجود ہیں۔ 
تحریک انصاف 1996ءمیں سیاست میں نو آموز عمران خان نے تشکیل دی مگر اس پارٹی کی سیاست میں جگہ نہیں بن رہی تھی۔ دو پارٹی سسٹم پختہ تر ہو رہا تھا جس کو مزید تقویت میثاق جمہوریت نے دی ۔ پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن دو پارٹی سسٹم کے مضبوط ستون تھے۔ نظریات اور اختلافات میں بعدالمشرقین اور الزامات کے طومار کے باوجود”باریوں“ کے عہد وعزم پر نیک نیتی سے عمل جاری تھا۔ دونوں پارٹیوں کے کارکن اور لیڈر کرپشن کی تباہ کاریوں کے حوالے سے یکساں موقف رکھتے ہیں۔ لیگی پیپلزپارٹی کی قیادت اور پی پی پی کے کارکن و لیڈر لیگی قیادت کو مہا کرپٹ قرار دیتے ہیں۔ خدا بہتر جانتا ہے کہ دونوں میں سے زیادہ سچا کون ہے؟ دونوں پارٹیوں کی قیادت عوامی خدمت کی دعویدار ہے۔ عوام کیا سمجھتے ہیں اس کا فیصلہ انتخابات سے قبل نہیں ہو سکتا۔ عمران خان نے 2011ءمیں عوام کی نبض پر ہاتھ رکھا۔ اس وقت پنجاب میں مسلم لیگ ن اور مرکز میں پیپلزپارٹی کی حکومت تھی۔ عمران خان پی پی کی دل و جان سے مخالفت کرتے رہے ہیں۔ 30 اکتوبر2011ءکے جلسے میں انہوں نے مسلم لیگ ن کو زیادہ ہدف تنقید بنایا۔ سیاست میں مقبولیت کا یہ نسخہ عباس اطہر نے محمود الرشید کے کان میں پھونکا جو محمودالرشید نے عمران کے سامنے رکھا ‘یہ خان کے دل کو لگااور اسے حرزِ جاں بنالیا۔ اسکے بعد پی پی پی پررسمی چڑھائی جاری رہی جبکہ ن لیگ کو بری طرح رگیدنے کا عمل شروع ہوگیا۔ ن لیگ کی طرف سے جواب آں غزل کا سلسلہ شروع ہونا ہی تھا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پی ٹی آئی کے اس مدمقابل آ گئی اور پیپلزپارٹی ق لیگ کی سطح پر چلی گئی۔ تحریک انصاف کی سیاست کو بوسٹ 2011ءمیں ملا۔ اسکی اصل سیاست اور سیاست میں عمر 1996ءکے بعد سے 22 سال نہیں، 2011ءکے بعد محض سات سال کا ہے۔ کچھ لوگ مسلم لیگ ن کی سیاست کے سامنے تجربے کے حوالے سے تحریک انصاف کو طفل مکتب باور کراتے ہیں۔ بھٹو نے پی پی بنائی تو ان کا کیا تجربہ تھا؟ 2011ءکے بعد تحریک انصاف کو زور و شور سے سوشل میڈیا نے سپورٹ کیا دیگر عوامل سپورٹنگ تھے مگر آج سوشل میڈیا تحریک انصاف کے ہاتھ سے پھسل کر مسلم لیگ ن کے مضبوط ہاتھوں میں منتقل ہو رہا ہے۔ مشرف اور عمران خان کےلئے سوشل میڈیا خیراتی وکیل کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔ مسلم لیگ ن نے اسے ایک پلاننگ کے تحت منظم کیا ہے۔ اسکے کئی سوشل میڈیا کنونشن ہو چکے ہیں۔ اسکے ورکرز کی تعداد چالیس ہزار بتائی جاتی ہے۔ رضاکارانہ خدمات پیش کرنے والوں کی تعداد اس پرسواہے۔ اتنے ورکرز کو منظم سیاسی پارٹی نہیں، بزنس مائنڈ سیٹ ہی کر سکتا ہے۔ یہ سوشل میڈیا ہی کی کلاکاری ہے کہ فاروق بندیال مسلم لیگ ن میں ہو تو سب شانت ، پی ٹی آئی میں آئے تو غوغائے رقیباں سر آسماں ہوگیا۔کے پی کے میں منظور آفرید ی کو وزیراعلیٰ نامزد کیا گیا۔ اس نے جلد بازی میں عمران خان سے ملاقات کی تو اپوزیشن نے اس کانام واپس لے لیا۔ اس پر ریگولر اورسوشل میڈیا نے تحسین و ستائش کی۔ پنجاب میں ناصر کھوسہ کے حوالے سے اپوزیشن نے نام دے کر واپس لے لیا۔ کے پی کے اور پنجاب میں ایک ہی عمل تھا مگر ردعمل مختلف بلکہ شدید تھا۔ سوشل میڈیا کے ورکرز نے اپنا کام دکھا دیا۔ آج پی ٹی آئی سوشل میڈیا میں مسلم لیگ ن سے بہت پیچھے اور نیچے ہے۔ انتخابات پر سوشل میڈیا کے اثرات مرتب ہوتے ہیں تو وہ مسلم لیگ ن کے حق میں بہترین ہونگے۔
مسلم لیگ ن اور پی پی پی کی حکومتوں کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے تحریک انصاف کو سیاست میں جگہ بنانے کا موقع ملا۔ مسلم لیگ ن کی قیادت کی نادانی کے باعث پی ٹی آئی اسکے مد مقابل آ گئی۔ ماضی میں ووٹ پی پی پی اور اینٹی پی پی پی میں تقسیم تھا جس کا بھرپور فائدہ میاں نوازشریف خود کواینٹی پیپلزپارٹی کو باور کرا کے اٹھایا۔ آج ووٹ نوازشریف اور اینٹی نوازشریف میں تقسیم ہے۔ یہ تقسیم مسلم لیگ ن کی بدحواسیوں کی وجہ سے ہوئی، ورنہ عمران خان 1996ءسے 2011ءتک سیاست میں سرپٹخ ہی رہے تھے۔اب وہ سو دن کا پروگرام دے رہے ہیں جو ماضی کے تجربات کے پیش نظر ناممکن نظر آتا ہے مگر تاریخ میں دنوں میں انقلاب برپا ہوتے دیکھے گئے ہیں۔ یہ لیڈر شپ پر منحصر ہے۔ عمران خان اگر اقتدار میں آتے ہیں۔ کچھ لوگ کہتے ہیں انکے ہاتھ میں وزیراعظم بننے کی لکیر نہیں ہے۔ نوے میں پی پی پی کے لیڈر میاں نوازشریف کے حوالے سے بھی یہی کہتے تھے مگر سب دعوے ہاتھ دیکھے بغیر ہوتے رہے جس نے ہاتھ دیکھا اسے وزیراعظم بننے کی تین لکیریں نظر آئیں اوراب چوتھی بھی شاید نمایاں ہو رہی ہو۔ عمران کے وزیراعظم بننے کے بارے میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ”نہ نو من تیل ہوگا نہ رادھا ناچے گی“ بہرحال عمران اگر اقتدار میں آتے ہیں تو یہ انکی صلاحیتوں کا امتحان ہوگا۔ان میں اہلیت ہوئی تووہ اپنے سو روز کے ایجنڈے کو عملی جامہ پہنا سکتے ہیں۔ فنڈریزنگ میں ان کو مہارت اور ڈونیشن دینے والے ان پر اعتماد اور اعتبار کرتے ہیں مگر سرِدست وزارت عظمیٰ ”ہنوز دلی دور است“۔
لاہور ہائیکورٹ نے کاغذات نامزدگی کے حوالے سے پارلیمنٹ کی اکتوبر2017ءکی ترمیم کالعدم قرار دےکر پرانا فارم بحال کیا اس سے انتخابات کے بروقت انعقاد پر شک و شبہ کے بادل منڈلانے کا چرچا ہونے لگا تو سپریم کورٹ نے مسز جسٹس عائشہ ملک کا فیصلہ کالعدم قرار دیا۔ اس سے سب سے زیادہ فائدہ عمران خان کو ہوا۔ کاغذات نامزدگی میں 62-63 شامل کر لی جاتی تو عمران خان کے پاس بادی النظر میں ٹیریان کے حوالے سے عدالتی فیصلے کا کوئی جواب نہیں بن پانا تھا۔لاس اینجلس کی عدالت کے جج جسٹس انتھونی جونز نے 13 اگست 1997ءکو فیصلے میں کہا کہ عمران خان پانچ سالہ بچی ٹیرین کے والد ہیں۔ یہ فیصلہ سیتا وائٹ کی درخواست پر سماعت کے بعد سنایا گیا تھا۔ عمران خان اس مقدمے میں جسٹس انتھونی جونز کے سامنے پیش نہیں ہوئے تھے۔ برطانوی صنعتکار لارڈ گورڈن وائٹ کی بیٹی سیتا وائٹ 2004ءمیں یہ دنیا چھوڑ گئی۔ اسکی بیٹی ٹیرین کی دیکھ بھال اب جمائما خان کرتی ہیں۔ سیتا کے والدلارڈ گورڈن اور جمائما کے والدگولڈ سمتھ دوست تھے۔جمائما نے شاید اسی بنا پر ٹیرین کو اپنایا۔ ٹیرین اب26 سال کی ہے لیکن اپنے مبینہ والد کے بارے میں اس نے کبھی میڈیا میں بات نہیں کی۔عمران کے مخالفین بس چلے تو ٹیرین کو بھی سیاست کی غلاظت میں کھینچ لاتے۔عمران کےخلاف امریکی عدالت کا فیصلہ استعما ل ہوسکتا تھا جس کا امکان لیگی حکومت نے اکتوبر میں ترمیم کرکے ختم کردیاجس کے تحت دفعہ 62اور 63 کو کاغذات نامزدگی سے نکال دیا گیا۔
عمران خان کو سیاست میں زچ کرنے کیلئے ریحام خان سپانسرڈ کتاب لا رہی ہیں۔ کتاب میں کیا ہے کیا نہیں ہے‘ اس سے قطع نظر مفادات کی خاطراچھے دنوں کی ایک دوسرے پر اعتمادکرتے ہوئے باتوں کو انکشاف کا نام دے کر فاش کرنا خاندانی لوگوں کا شعار نہیں۔ حسین حقانی، بینظیر بھٹو کی کردار کشی میں سب سے آگے رہا۔ جن لوگوں کیلئے استعمال ہوا وہ قدرت کے بدترین انتقام کا نشانہ بنے۔ آج پھر یہ شخص ریحام خان کی معاونت کر رہا ہے۔ مسلم لیگ ن کو عمران خان ماتھے دُکھتا ہے۔ وہ بھی ریحام کی سپورٹ کر رہی ہے، غلط ہر صورت غلط ہے، ریحام خان پڑھی لکھی ہیں، طلاق ہو گئی۔ایک بندھن ہمیشہ کیلئے ٹوٹ گیا۔ ریحام کے عمران کے ساتھ ماضی کے شب و روز بھیانک خواب یا حسین سپنا ہو سکتا ہے ۔ اس پر خاموشی ہی خوبصورت موڈ ثابت ہو سکتا ہے۔ ریحام کو اپنے سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کرنےوالے خدا کا خوف کریں اور قدرت کے انتقام سے ڈریں۔ اگلے جہان تو جو ہوگا سو ہوگا،مکافات عمل کا اسی جہان میں سامنا کرنا پڑتا ہے۔

متعلقہ خبریں