مرغی ، چوزے اور انڈے : عمران خان کا مشورہ 100 فیصد درست ہے مگر ماضی کی طرح اس بار بھی کپتان کو یہ چیز مار گئی ۔۔۔۔ صف اول کے صحافی کا غیر جانبدارانہ تجزیہ ملاحظہ کریں

2018 ,دسمبر 2



لاہور (ویب ڈیسک)وزیر اعظم عمران خان نے حکومت سنبھالتے ہی ماہرین معیشت پر ایک اکنامک ایڈوائزری کونسل اور کاروباری افراد پر مشتمل ایک بزنس ایڈوائزری کونسل بنالی تھی جس میں ملک کے بہترین معاشی اور کاروباری اذہان کو چن چن کر رکھا گیا تھا۔ توقع کی جا رہی تھی کہ یہ دونوں کونسلیں۔۔۔

نامور کالم  نگار حامد ولید اپنے ایک کالم میں  لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔ وزیر اعظم عمران خان کو ایسے ایسے قیمتی مشورے دیں گی کہ پاکستان کے معاشی دلدر دور ہو جائیں گے لیکن نہ تو پہلے 100دنوں میں اور نہ ہی 100دنوں کے بعد اگلے 1725میں ایسا کوئی انوکھا مشورہ دیکھنے اور سننے کو ملے گا جس سے پاکستان کی معیشت اپنے پاؤں پر کھڑی ہوتی نظر آئے ۔ کیا دلچسپ بات ہے کہ ملک کے بہترین معاشی اذہان وزیر اعظم کے اردگرد بیٹھے ہوئے ہیں اور وزیر اعظم ملکی معیشت کو چلانے کے مرغی انڈے کی باتیں کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اس سکیم سے پاکستان کی معیشت تو کیا ایک پاکستانی کی معیشت بھی ٹھیک نہیں ہوگی ۔ سوال یہ ہے کہ آخر یہ دونوں مشاورتی کونسلیں کیا کر رہی ہیں ؟ ان میں بیٹھے لوگ کس کو مشورے دے رہے ہیں ؟ ....اور اگر حکومت کو دے رہے ہیں تو حکومت ان مشوروں کو سن کیوں نہیں رہی ہے ؟ جنرل مشرف کے زمانے میں بھی ایسی ہی مشاورتی کونسلیں بنائی گئی تھیں ۔ پھر جب جنرل مشرف اقتدار سے رخصت ہوئے تو پورا پاکستان بجلی کے اندھیروں میں ڈوبا ہوا تھا ۔ جب تک عمران خان اقتدار سے رخصت ہوں گے تب تک ان کی مشاورتی کونسلیں کیا گل کھلا چکی ہوں گی؟

کچھ بھی ہو ، وزیر اعظم کو 100دنوں کی تکمیل پر کی جانے والی تقریر میں مرغی انڈے کا تذکرہ نہیں کرنا چاہئے تھے ، یہ بات وزیر اعظم کے عہدے سے میل نہیں کھاتی ہے ۔ خاص طور پر جب یہ واضح نہیں کہ حکومت پہلے مرغی دے گی یا پہلے انڈہ دے گی ۔ ایسی بات تو کسی ڈپٹی سیکرٹری کی Presentationمیں ہی اچھی لگتی ہے یا پھر زیادہ سے زیادہ اخوت والے ڈاکٹر امجد ثاقب یا پھر گرامین بینک کے ڈاکٹر یونس کی کسی تقریر کا حصہ ہو سکتی تھی ۔ وزیر اعظم کو تو ایکسپورٹ بڑھانے کے اقدامات کے تذکرے تک اپنے آپ کو محدود رکھنا چاہئے تھا۔اس سے قبل بھی وہ ٹائلٹوں کے خراب ہونے پر عوام کو فون کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے پائے گئے تھے۔ لوگ ایک دوسرے کو پوچھ رہے ہیں کہ وزیر اعظم کی تقریر کے بعد عوام میں متوقع گرمجوشی کیونکر دیکھنے کو نہیں مل رہی ہے ۔ ہمیں یاد آرہا ہے کہ انتخابات سے قبل لوگ ایک دوسرے سے کہتے تھے کہ عمران خان کو ایک چانس ضرور دینا چاہئے ۔ اب وہ لوگ ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ عمران خان کو لانا تھا لے آئے ، اب اگر ان کی رخصتی ہوتی ہے تو انہیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ سوال یہ ہے کہ آیا ایسے نان سیریس رویوں والی قومیں ترقی کرسکتی ہیں ؟ اقوام عالم کی صف میں سر فخر سے بلند کرکے کھڑی ہو سکتی ہیں ؟ ؟ہے کوئی توجہ دینے والا؟(ش س م) 
 

 

متعلقہ خبریں