لکھنے سے کچھ نہیں ہوتا

2017 ,اگست 20



نواز شریف کے خاندان سے تفتیش سے قبل نیب افسران اور ان کی فیملی کی سکیورٹی کے انتظامات بہت ضروری ہیں ۔ اللہ کرے اس بار نیب کو فوج کی سپورٹ بھی حاصل ہو ۔ مجھے کامران فیصل یاد آتا ہے ۔ نیب کے اس نوجوان آفیسر کو بھی حکمران وقت کے کی کرپشن پر تحقیقات کا فرض سونپا گیا تھا ۔ تب حکومت اس زرداری کی تھی جو آج کہہ رہے ہیں کہ نواز شریف مجرم ہیں ۔ کامران فیصل نے اپنی رپورٹ جمع کروانے سے پہلے خودکشی کر لی تھی ۔ سرکاری طور پر بھی اس کی موت کو خودکشی قرار دیا گیا تھا ۔ تحقیقاتی صحافی کے طور پر میں نے تب کامران فیصل کی اس خودکشی پر تحقیقات کیں تو مجھے ابتدا میں ہی اندازہ ہو گیا کہ اسے قتل کیا گیا ہے۔ لاہور فرانزک لیبارٹری میں تب صحافیوں کا داخلہ ممنوع تھا لیکن میرا ''قاصد"' وہاں موجود تھا۔ مجھے آؤٹ آف ریکارڈ بتایا گیا کہ فرانزک لیب کے ماہرین کے مطابق بھی اسے قتل کیا گیا تھا لیکن بعد میں سرکاری حتمی رپورٹ میں اس قتل کو خودکشی ہی ظاہر کیا گیا تھا ۔ آؤٹ آف ریکارڈ ہونے کی وجہ سے میں یہ بات رپورٹ نہیں کر سکتا تھا لیکن اس سے میرا یقین اس قتل پر مزید مضبوط ہو چکا تھا ۔ بہرحال میں نے تمام شواہد اکٹھے کئے اور ایک تفصیلی رپورٹ لکھ دی جس کے مطابق کامران فیصل نے خودکشی نہیں کی تھی بلکہ اسے قتل کیا گیا تھا ۔ اسی طرح ایک اور آفیسر نبیہہ کی خودسوزی پر بھی پہلی رپورٹ میری تھی جس کے مطابق اس نے بھی خودسوزی نہیں کی بلکہ اسے جلایا گیا تھا ۔ خیر کامران فیصل مرڈر کیس پر میری رپورٹ شائع ہوئے ایک ماہ گزر چکا تھا جب مجھے ایک خاتون کی فون کال موصول ہوئی ، وہ کامران فیصل کی بہن تھیں ۔ دوران فون وہ میرا شکریہ بھی ادا کرتی جاتیں ، دعائیں بھی دیتی جاتیں اور مسلسل روتی بھی رہیں ۔ ان کا اکلوتا بھائی قتل ہوا تھا ۔ مجھے اس خاتون کی سسکیاں آج بھی یاد ہیں ۔ اب پھر حکمران خاندان کے خلاف تفتیش کی ذمہ داری نیب کے سپرد ہے ۔۔ میری دعا ہے کہ اب کی بار کسی ایماندار کامران فیصل کو سرکاری خودکشی نہ کرنی پڑے۔ ہم مزید ایماندار آفیسرز کو گنوانے کے اہل نہیں ہیں ۔ میں اب کی بار کسی بہن کی سسکیاں سننے کا حوصلہ نہیں رکھتا کہ ابھی تک وہی روتی ہوئی آواز میرا پیچھا کر رہی ہے کہ میرا بھائی قتل ہو گیا ہے ۔ اللہ آپ کی حفاظت کرے ، میں دوسرا بھائی نہیں کھونا چاہتی ، آپ پلیز مزید نہ لکھیں کیونکہ لکھنے سے بھی کچھ نہ ہو گا۔ نہ کامران واپس آئے گا ، نہ ہمیں انصاف ملے گا لیکن آپ کو نقصان پہنچ سکتا ہے ۔۔۔ اور سچی بات یہ ہے کہ سوچتا ہوں لکھنے سے واقعی کچھ نہیں ہوا تھا

(سید بدر سعید)

متعلقہ خبریں