وہ ہوس کے پجاری جو محبت کے نام پر حسین پریاں دبوچتے ہیں

2018 ,جنوری 12

بنتِ ہوا

بنتِ ہوا

تہذیب

bintehawa727@gmail.com



میں نے اپنی یونیورسٹی میں یہ سب دیکھا ہے۔۔۔!
وہ میری بہت اچھی یونیورسٹی فیلو ہے یار کمال کی پرسنلیٹی ہے بہت براڈ مائنڈڈ ہے دنیا کے ہر موضوع پر ہم بات کرتے ہیں اس نے کبھی مائنڈ نہیں کیا۔۔۔بہت اوپن لڑکی ہے۔۔۔میں نے ایک کونے سے آواز دی پھر نکاح کیوں نہیں کرتے اس سے۔۔۔؟
whaaaaaaat...? 
اس نے چیخ کر جواب دیا اور باقی لوگوں کی طرف دیکھ کر کہا کہ یہ پاگل ہو گیا ہے میں اس سے نکاح کروں۔۔۔؟؟؟ کیوں ابھی تو بہت تعریف کر رہے تھے اب کیا ہوا میں نے ٹھنڈے لہجے میں سوال داغا۔۔۔یار بس چِل کر رہے ہیں انجوئے کر رہے ہیں شادی تو امی کی مرضی سے کرو گا ایسی لڑکی سے شادی تھوڑی کرتے ہیں۔۔۔شروع میں وہ سیریس ہوئی پھر میں نے کلیر کر دیا کہ دیکھو انجوئےمنٹ کرنی ہے تو ٹھیک ورنہ سوری شادی کا میں وعدہ نہیں کرتا۔۔۔یہ آج کی یونیورسٹی اور کالج کی کہانی ہے گروپس بنتے ہیں اور ان گروپس میں لڑکے کیا سوچ رکھتے ہیں یہ پوری تصویر کھینچ دی ہے میں نے۔۔۔میرا اپنا نظریہ ہے کہ لڑکیوں کو خراب کرنے میں ہم مردوں کا بہت بڑا ہاتھ ہوتا ہے۔۔۔کلاس فیلو کی آڑ میں ہم لڑکے ایک سو ایک ترکیبوں سے لڑکی کے گرد ایسا جال بنتے ہیں کہ وہ ایک ایسے مقام پر آ کھڑی ہوتی ہے جہاں محبت اور ہوس میں فرق اس کی آںکھوں سے اوجھل ہو جاتا ہے اور مات کھاتی ہے،ٹوٹ جاتی ہے۔۔۔مرد کو اللہ پاک نے بہت طاقت دی ہے وہ ایک عورت کو بنا سکتا ہے اسے سنوار سکتا ہے لیکن مجوعی طور پر بگاڑنے کی شرح سب سے زیادہ ہے ۔۔۔۔بری سے بری لڑکی کو بھی مرد اگر چاہے تو بہترین لڑکی بنا سکتا ہے لیکن میں اور آپ صرف انگلی اٹھا کر لڑکی ذات کو ایک منٹ میں گندا کر دیتے ہیں اور ثواب کی امید رکھتے ہیں۔۔۔آپ کالج میں ہیں،یونیورسٹی میں ہیں یا فیس بک پر ہیں تو خدارا محبت کے نام پر کسی بھی لڑکی کو خواہ وہ کتنی ہی بری کیوں نہ ہو اس کے ذہن میں گندگی اور ہوس کا پودا مت لگایئے یاد ریکھئے وہ پودا زہریلا درخت بن جائے گا اور اسکا پھل آپ کو بھی کبھی نہ کبھی چکھنا پڑے گا پھر سانس آئے گا نہ ہی جائے گا۔۔۔محبت کرو تو عورت کو سنوارو اسے مضبوظ کرو ہوس کا مندر مت بناو۔۔۔لڑکی فطری طور پر محبت کے جذبہ میں کمزور ہے جتنی مرضی ذہیں ہو وہ مات کھا جاتی ہے۔۔۔یونیورسٹیز اور کالجز میں خوبصورت چہروں اور قد کاٹھ کے مالک لڑکے سب سے زیادہ زہریلا کردار ادا کرتے ہیں جن پر لڑکیاں ایک منٹ میں فدا ہو جاتی ہیں۔۔۔ایسے لڑکوں کے منہ سے محبت کے نام پر ہوس کا نشانہ بننے والیوں کی داستان نمک مرچ لگا کر سنی جاتی ہیں اور ہاتھ پر ہاتھ مارے جاتے ہیں،قہقہے لگائے جاتے ہیں اور محبت میں گندھی لڑکیوں کی طرف سے دیے جانے والے چھوٹے چھوٹے گفٹس کا مذاق اڑایا جاتا ہے اور نئی پلاننگز کی جاتی ہیں۔۔۔کبھی نوٹس کے نام پر،کبھی آسائنمٹس کے نام پر تو کبھی سی آر کے نام پر یہ سارے عناصر لڑکیوں کو ٹریپ کرنے میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔۔۔شرافت اور ڈی سینسی کے پردے میں لڑکی پر خوفناک وار کیے جاتے ہیں۔۔۔لڑکوں کے پاس لمبی ٖفہرست ہوتی ہے اچھا اس سے کام نہ چلا تو اگلی ٹارگٹ۔۔۔اور لڑکیاں ٹریپ ہو جاتی ہیں۔۔۔پھر بہک کر سب کچھ رسک پر لگایا جاتا ہے پھر محبت ک دھوکے میں اپنے خوابوں کا شہزادہ جو کہ انسان کم اور شیطان زیادہ ہوتا ہے اپنا سب کچھ اس کے سپرد کر دیا جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ آپ پاکستان کے بڑے شہروں میں بڑی یونیورسٹیوں کالجوں میں وزٹ کریں آپ دیکھیں گے کہ کونوں،کھدروں،خالی کلاس رومز،ویران گوشوں اور کوریڈور میں کئی کہانیاں سر جوڑے ملیں گیں۔۔۔شروعات محبت کے نام پر ہو گی اور اختام ہوس کے ننگے ناچ پر۔۔۔آج یونیورسٹی میں کلاس فیلوز خاص کر مرد جس فلاسفی کو دوستی اور یونیورسٹی فیلو کے نام پر پرموٹ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اس کا باہوش تجزیہ کرنے کے بعد حلق خشک محسوس ہوتا ہے اور سانس رکنے سی لگتی ہے۔۔۔ایسے باقاعدہ گروپس بن چکے ہیں جو آزاد طرز زندگی کی پوری حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور ان کا یہ دعوی ہے کہ لڑکیوں کو انجوئے کرنے دو بعد میں انہوں نے خاوندوں کی جھڑکیاں ہی تو کھانی ہیں۔۔۔ایسے لوگ بڑے طریقہ سے لڑکیوں کی برین واشنگ کرتے ہیں۔۔۔میں پھر کہتا ہوں کہ لڑکیاں کمزور ہیں۔۔۔باقی صفات ان کی اعلی ہیں لیکن محبت پر آکر وہ بکھر جاتی ہیں اور ہوس پرست ان کی ذات کے ٹکڑے تک اٹھا کر لےجاتے ہیں۔۔۔عورت سے محبت کا اظہار بہت آسان ہے لیکن اس کا یقین دلانے کے لیے خود راکھ بننا پڑتا ہے۔۔۔پھر عورت مرد کو وہ عزت اور محبت دیتی ہے کہ اس کی زندگی کو جنت بنا دیتی ہے۔۔۔عورت کا مفہوم صرف ہوس نہیں اس کی ذات کے بڑے خوبصورت پہلو ہیں بس آپ سنگ تراش بنو جو ایک خوبصورت مجسمہ بناتا ہے بڑی محنت سے،توجہ سے اور صبر سے۔۔۔ورنہ کائنات کا اصول ہے تم بھی ساری دنیا جیسے چلو گے تو عام کننکر بن جاو گے جو سب کی ٹھوکروں پر رہتا ہے۔۔۔یونیورسٹیوں اور کالجوں میں چند ایسی خوفناک کرادر والی لڑکیاں بھی ہوتیں ہیں جنہیں شاید عورت کہنا عورت لفظ کی توہیں ہو گی یہ بہت کم اور خاص تعداد میں ہوتی ہیں لیکن ان کی فطری سوچ اور مقاصد ایک عام شرم وحیا رکھنے والی لڑکی اور لڑکے کو تباہ کرنے کے لیے ہولناک کردار ادا کرتے ہیں۔۔۔کچھ نہیں ہو گا۔۔۔کوئی گناہ نہیں۔۔۔اگر جرم ہو بھی گیا تو پھر کیا۔۔۔اللہ معاف کر دے گا۔۔۔چلو تھوڑا زندگی انجوئے کرلو مزہ چکھ لو پھر ایسے دن کہاں ملیں گے۔۔۔؟یہ اس قسم کے الفاظ سے نئی آنے والی لڑکیوں کی شرم و حیا کو توڑنے کی کوشش کرتی ہیں۔۔۔ہاسٹل میں اگر ایسی کوئی لڑکی کسی شریف لڑکی کی روم میٹ ہے تو وہ اپنے بوائے فرینڈ سے فون پر گفتگو بڑے حیسن انداز میں اپنی شریف روم میٹ کو سنائے گی آہستہ آہستہ اس کا ذہن بنائے گی اور پھر ایک دن اپنے ساتھ اس معصوم کو بھی بربادی کے گڑھے میں لے اترے گی۔۔۔ایسی چند خوفناک لڑکیاں ہی ہوس پرستوں کے گروپ کی قابل فخر ممبر ہوتی ہیں جو ہاسٹلوں سے کئی کئی دنوں کے لیے غائب اور جن کی راتیں بوائے فرینڈز کے گھر کزن کے نام پر گزرتی ہیں۔۔۔ایسی لڑکیاں کزن کی اصطلاح بہت کثرت سے استعمال کرتی ہیں ہر دوسرے چوتھے روز یونیورسٹی میں ان کے کئی کزن ملنے آئے ہوتے ہیں۔۔۔یہ سب کو بیوقوف سمجھتی ہیں لیکن حقیقت میں سارا زمانہ انہیں دیکھ رہا ہوتا ہے۔۔۔یہ سمجھتی ہیں کہ دنیا ان کے فرینڈز کو کزن ہی سمجھے گی لیکن ایسا نہیں ہوتا۔۔۔قیمت دینا پڑتی ہے۔۔۔یاد رکھیے قیمت دینا پڑتی ہے۔۔۔بوائے فرینڈ فلاسفی پر یقین رکھنے والی لڑکی خاوند کو عزت اور پیار کبھی نہیں دے سکتی کیوں کہ وہ اپنا سب کچھ پہلے ہی کسی کو دے چکی ہوتی ہے محبت میں دھوکہ کھاتی ہے اور ہوس کے کوڑے کھا کر ساری عمر گِلٹ سے مرتی ہیں۔۔۔لڑکی کو مات ہمیشہ محبت میں ملتی ہے۔۔۔مرد چاہے تو اس مات کو اس کی جیت میں بدل سکتا ہے اسے ملکہ بنا سکتا ہے۔۔۔یہ ایک مرد کی سچی محبت کی طاقت ہے جو ایک طوائف کو تن من دھن سے صرف ایک کا ہونے کے لیے دل و جان سے مجبور کر دیتی ہے۔۔۔مرد کی صاف سچی محبت عورت کو بے لوث محبت کا جوش مارتا سمندر بنا دیتی ہے جس کا مالک صرف ایک ہوتا ہے۔۔۔بس آپ کی محبت میں طاقت اور سچائی ہونی چاہیے۔۔۔اور اس سچائی کا اظہار صرف نکاح ہے بس۔۔۔ورنہ ہوس پرستوں کے ساتھ ساتھ آپ کو بھی اس دنیا اور آخرت میں اپنے کرموں کو بھگتنا ہو گا مت سوچنا اور اس دھوکہ میں نہ رہنا کہ باری نہیں آئی گی۔۔۔باری دینا پڑتی ہے اور آپ کو ساری کہانی بھی یاد کروائی جاتی ہے۔۔۔!

ﻟﺒﺎﺱ ﺗﻦ ﺳﮯ ﺍُﺗﺎﺭ ﺩﯾﻨﺎ 
ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺑﺎﻧﮩﻮﮞ ﮐﮯ ﮨﺎﺭ ﺩﯾﻨﺎ 
ﭘِﮭﺮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺟﺬﺑﻮﮞ ﮐﻮ ﻣﺎﺭ ﺩﯾﻨﺎ 
ﺍﮔﺮ ﻣﺤﺒﺖ ﯾﮩﯽ ﮨﮯ ﺟﺎﻧﺎﮞ
ﺗﻮ ﻣﻌﺎﻑ ﮐﺮﻧﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ۔۔۔!

ﮔﻨﺎﮦ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﺳﻮﭺ ﻟﯿﻨﺎ 
ﺣﺴﯿﻦ ﭘﺮﯾﺎﮞ ﺩﺑﻮﭺ ﻟﯿﻨﺎ 
ﭘِﮭﺮ ﺍﻧﮑﯽ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﮨﯽ ﻧﻮﭺ ﻟﯿﻨﺎ 
ﺍﮔﺮ ﻣﺤﺒﺖ ﯾﮩﯽ ﮨﮯ ﺟﺎﻧﺎﮞ
ﺗﻮ ﻣﻌﺎﻑ ﮐﺮﻧﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ۔۔۔!

ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﻟﻔﻈﻮﮞ ﮐﮯ ﺟﺎﻝ ﺩﯾﻨﺎ 
ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺟﺬﺑﻮﮞ ﮐﯽ ﮈﮬﺎﻝ ﺩﯾﻨﺎ
ﭘِﮭﺮ ﺍﺳﮑﯽ ﻋﺰﺕ ﺍﭼﮭﺎﻝ ﺩﯾﻨﺎ 
ﺍﮔﺮ ﻣﺤﺒﺖ ﯾﮩﯽ ﮨﮯ ﺟﺎﻧﺎﮞ
ﺗﻮ ﻣﻌﺎﻑ ﮐﺮﻧﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ۔۔۔!

ﺍﻧﺪﮬﯿﺮ ﻧﮕﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﭼﻠﺘﮯ ﺟﺎﻧﺎ 
ﺣﺴﯿﻦ ﮐﻠﯿﺎﮞ ﻣﺜﻠﺘﮯ ﺟﺎﻧﺎ 
ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﻓﻄﺮﺕ ﭘﮧ ﻣﺴﮑﺮﺍﻧﺎ 
ﺍﮔﺮ ﻣﺤﺒﺖ ﯾﮩﯽ ﮨﮯ ﺟﺎﻧﺎﮞ
ﺗﻮ ﻣﻌﺎﻑ ﮐﺮﻧﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ۔۔۔!

ﺳﺠﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﮨﺮ ﺍﮎ ﺩﯾﻮﺍﻧﮧ 
ﺧﯿﺎﻝ ﺣُﺴﻦ ﺟﻤﺎﻝ ﺟﺎﻧﺎﮞ 
ﺧﯿﺎﻝ ﮐﯿﺎ ﮨﯿﮟ ﮨﻮﺱ ﮐﺎ طﻌﻨﮧ 
ﺍﮔﺮ ﻣﺤﺒﺖ ﯾﮩﯽ ﮨﮯ ﺟﺎﻧﺎﮞ
ﺗﻮ ﻣﻌﺎﻑ ﮐﺮﻧﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ۔۔۔!

نوٹ:اگر آپ بھی اپنا کوئی کالم،فیچر یا افسانہ ہماری ویب سائٹ پر چلوانا چاہتے ہیں تو اس ای ڈی پر میل کریں۔ای میل آئی ڈی ہے۔۔۔۔

bintehawa727@gmail.com

ہم آپ کے تعاون کے شکر گزار ہوں گے۔

متعلقہ خبریں