Expectation and Reality

2017 ,نومبر 13

بنتِ ہوا

بنتِ ہوا

تہذیب

bintehawa727@gmail.com



پروفیسر حسان پروجیکٹر آن کر کے سلائیڈ دیکھ رہے تھے' تبھی زوار کی آواز آئی
”سر ایک سوال ہے ....“
”جی پوچھیں“ انہوں نے سلائیڈ کو دیکھتے ہوئے ہی جواب دیا۔
”سر آئیڈیالیزم  پہ ہے مطلب کہ ہمیں کسی کو کتنا آئیڈیالائیز کرنا چاہئیے ؟؟“
”آپ کس کو کتنا آئیڈیالائیز کر رہے ہیں اور کیوں؟؟“
پروفیسر حسان اب زوار کی طرف متوجہ ہو کر پوچھ رہے تھے۔
”سر میں نہیں کر رہا ....میرے ایک دوست ہیں جو ہر وقت ایک ناول کریکٹر کے گُن گاتے رہتے ہیں ۔ حتٰی کہ سوشل میڈیا پر ہر جگہ اپنا نام تبدیل کر کے اس فرضی کردار کے نام پر رکھ لیا ہوا ہے۔ تو آپ بتائیں کہ اتنا آئیڈیالائیز کرنا کسی کو ٹھیک ہے ؟؟ جبکہ اس کا کوئی ظاہری اور اصلی وجود بھی نہ ہو۔“
”آپ کا سوال تو کافی ان ٹرسٹنگ ہے۔ ویل پہلی بات کہ نام رکھنے میں کسی کا خود کوئی اپنا کمال نہیں ہوتا۔ یہ ان کے والدین یا بڑے بزرگ ہی رکھتے ہیں۔ میرا نہیں خیال کہ آپ میں سے کسی نے بھی اپنا نام خود رکھا ہو گا۔ اس لیے انسان کا جو نام ہو اسی پر اکتفا کرنا چاہیئے اور دوسرا میں آئیڈیالیزم  کے بارے میں آپ کو ایک مثال  دیتا ہوں۔ آپ سے پہلے میری ایک سٹوڈنٹ تھیں۔ ماشااللہ بہت ذہین و فتین تھیں اور چھوٹے موٹے کالم وغیرہ بھی لکھتی رہتی تھیں۔ بعد میں ان کی شادی ہو گئی ۔ شادی کے صرف دو سال بعد انہوں نے مجھ سے  کونٹیکٹ کیا۔ یونیورسٹی میں مجھ سے ملنے آئی تو اس کی باتوں سے مجھے لگا کہ وہ اپنی ازدواجی زندگی کو لے کر تھوڑا پریشان ہے۔ میں نے اسے حوصلہ دیا تھوڑا موٹیویٹ کیا اور وہ چلی گئی- خیر جیسے تیسے اس کی گزرتی رہی۔ پھر اس کے کچھ عرصے بعد وہ دوبارہ آئی۔ اس بار وہ کافی خوش اور پر اعتماد لگ رہی تھی اور کوئی ناول لکھنے کا سوچ رہی تھی۔ ازدواجی زندگی کا پوچھا تو وہ ویسے ہی اداس ہو گئی۔
”سر جیسا مائنڈ سیٹ تھا ویسا کچھ بھی نہیں۔ یا شاید پریکٹیکل لائف  کے سٹینڈرز کچھ اور ہیں۔“ مجھے لگا وہ ٹالنا چاہ رہی ہے اس لیے میں نے مزید نہیں پوچھا- بات گھمانے کے لیے ناول کا پوچھا تو اس کی آنکھوں میں چمک آگئی۔
”سر وہی تو ڈسکس کرنے آئی ہوں آپ سے۔ میں چاہتی ہوں کہ اس کا مرکزی کردار بہت مضبوط اور مکمل ہو۔“ وہ پرجوش لگ رہی تھی۔
”آہاں وہ کیسے؟؟“ میں نے اشتیاق سے پوچھا۔
”سر وہ ایک ہینڈسم , انٹیلیجنٹ ,ایسے رعب دبدبے والا, ایک اچھا فیملی بیک گراوئنڈ , سٹیٹس, لوینگ  ,سینسیبل اور کیئرنگ ہو گا۔“
”یا خدا“ مجھے اس کی باتوں پہ ہنسی آگئی۔ ہنستے ہنستے ہی میں نے ماتھے پہ ہاتھ رکھ لیا۔ میری ہنسی نہیں رک رہی تھی۔
”سر بتائیں اتنا کیوں ہنس رہے ہیں آپ؟؟“ وہ اتنا ہی زچ ہو رہی تھی۔
”آپ میریڈ ہو ماشااللہ...اپنے ارد گرد پانچ اور لڑکیوں کا سوچو جو میریڈ ہیں۔“ میں سنجیدہ ہوا ”اور جنہیں آپ اچھے سے جانتی ہوں۔“
”جی سر سوچ لیا۔ مگر کیوں ؟؟“
” اب ان میں سے کسی ایک کا بتاؤ جس کا شوہر ان تمام خوبیوں کا مالک ہو جو آپ اپنے ناول میں مینشن کرنا چاہتی ہیں مرکزی کردار کے لیے۔“
وہ گہری سوچ میں پڑ گئی۔
”نہیں سر ایسا تو کوئی نہیں۔“ وہ کھوئے ہوئے انداز میں کہنے لگی۔ ”جو ویل اوف ہے وہ اتنا انٹیلیجنٹ نہیں۔ جو انٹیلیجنٹ ہے وہ اتنا گڈلکنگ نہیں۔“
”مطلب کے کسی ایک میں بھی یہ تمام خوبیاں موجود نہیں۔“
”جی سر ایسا ہی ہے۔“
”تو بیٹا جو چیز حقیقت میں ایگذیسٹ ہی نہیں کرتی وہ آپ لکھنا کیوں چاہ رہی ہیں ؟؟“ میں نے اسے سرزنش کرتے ہوئے کہا ”اور اگر ایگذیسٹ کرتی بھی ہے تو % 5 یا 4....اور پرسنٹیج تو ہم میجورٹی سے لیتے ہیں نا۔“
”لیکن سر یہ تو ناول ہو گا.. اٹلیسٹ اس کے کرداروں کو تو ہر لحاظ سے مکمل ہونا چاہیئے۔“ وہ ٹوکتے ہوئے بولی۔
”بیٹا آپ لکھو گی لوگ پڑھیں گے تو کیا ان کا مائنڈ سیٹ نہیں بنے گا؟؟ پڑھنے کے بعد یہ ایک فطری سی بات ہے کہ ان کا ایکسپیکٹیشن لیول بڑھے گا۔ اور یہی سٹریس کریئیٹ کرتا ہے۔۔۔
Because basically stress is a gap between your expectations and reality.
کیا آپ بتا سکتی ہیں کہ آپ کے شوہر ایک اچھی فرم میں پرکشش مراعات کے ساتھ کام کر رہے ہیں ...پھر بھی آپ کی ازدواجی زندگی میں وہ خوبصورتی کیوں نہیں جو کہ ہونی چاہیئے؟؟؟“
”سر وہ بہت اچھے ہیں مجھے کسی بھی چیز کی کمی نہیں ہونے دیتے۔ بس سر مجھے ان سے یہی شکایت ہے کہ میں جیسے ایکسپیکٹ کر رہی ہوتی ہوں وہ مجھے ویسا ٹریٹ نہیں کرتے۔“ وہ جواباً بولی۔
”تو بیٹا میں یہی تو کہہ رہا ہوں کہ ایکسپیکٹیشن لیول کو تھوڑا کم رکھو اور فطرت میں تضادات کا احترام کرو۔ کیونکہ انہی فطری تضادات میں انفرادیت اور ہر شخص کی الگ پہچان ہے....

نوٹ:اگر آپ بھی اپنا کوئی کالم،فیچر یا افسانہ ہماری ویب سائٹ پر چلوانا چاہتے ہیں تو اس ای ڈی پر میل کریں۔ای میل آئی ڈی ہے۔۔۔۔

bintehawa727@gmail.com

ہم آپ کے تعاون کے شکر گزار ہوں گے۔

متعلقہ خبریں