چکور اور تلور...کالم نگار فضل حسین اعوان...شفق

2017 ,جنوری 1

فضل حسین اعوان

فضل حسین اعوان

شفق

awan368@yahoo.com



 

پاکستان کا قومی جانور مارخور اور پرندہ چکور ہے جبکہ پاکستان کی آدھی سے زیادہ آبادی نے انہیں نہیں دیکھا یہ چرندپرند قومی تفاخر کی علامت ہونے چاہئیں تھے مگر کوئی جماعت انہیں انتخابی نشان کے طورپر اپنانے کیلئے تیار نہیں۔ بہرحال یہ قومی نشان قرار پائے ہیں تو ان کا تحفظ ہماری ذمہ داری ہے۔ آج ان میں ایک قدرِ مشترک ان کی نسل کا ناپید ہونا ہے۔ متعلقہ محکمے اس طرف توجہ ضرور دے رہے ہونگے۔ انکی ناپید ہوتی نسل کے باوجود انکے شکار کی اجازت ہے۔ چند روز قبل گلگت میں مارخور کا رواں سیزن کا پہلا اور مہنگا ترین شکار کیا گیا۔ امریکی شکاری ریکس بیکر کو 65 ہزار پانچ سو ڈالر میں اس کا لائسنس دیا گیا ۔ مقامی لوگوں نے نہ صرف امریکی کو شکار کرتے دیکھا بلکہ شکار میں اسکی مدد بھی کی۔ ریکس بیکر کے شکار کا شوق پورا ہوا اور مقامی لوگوں کے چہرے بھی کھل اُٹھے کیونکہ رقم جو 70 لاکھ روپے بنتی ہے‘ اس کا 80فیصدمقامی لوگوں کی فلاح و بہبود پر خرچ ہوگا۔ امریکی شکاری نے دور سے نشانہ باندھ کر مارخور گرا کے اپنا نام ماہر شکاریوں کی لسٹ میں شامل کرایااوراس سال کی ٹرافی ہنٹنگ اپنے نام کرالی۔ ضابطہ کے مطابق شکاری جانور سے دو سو گز دور رہنے کا پابند ہے۔ غول میں سے جانور کو نشانہ نہیں بنا سکتا۔ مادہ کو شکار نہ کرنا شرط ہے۔ ایسا مارخور شکار کیا جا سکتا ہے جو طبعی عمر کے قریب ہو۔ شکاری کو اس کے پچاس انچ لمبے سینگوں اور ریشم جیسی کھال کی ضرورت ہوتی ہے جو وہ اپنے ڈرائنگ روم میں شکار کیلئے استعمال ہونے والی بندوق کے ساتھ لٹکا کر مہمانوں کو مرعوب کرتا ہے۔ایسے شکار سے مارخور کی نسل پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔

 

ہمارے ایک صدر ہو گزرے ہیں جن کو صدارت بھی شکار کی طرح مل گئی تھی۔ انہوں نے اپنی ہی پارٹی کی حکومت توڑی تو چند ماہ کیلئے طاقتور صدر بن گئے۔ ان کے کسی درباری نے شکار کی دعوت دی۔ ایک طرف انکے ہاتھ میں بندوق تھمائی دوسری طرف سینکڑوں تیتر اڑا دیئے۔ انکے ایک ہی فائر سے درجن بھر تیتر زمین پر آرہے تو ان کا سینہ فخر سے پھیل گیا۔ اسی طرز پر مارخور کو گھیر کر شکاری کے سامنے کھڑا کر دیا جاتا ہے۔ مارچ 2015ء میں میکسیکو کے شکاری ایڈیان گونزیلسن کو ایک کروڑ روپے میں لائسنس دیا گیا تھا۔ اس نے چترال کے علاقے توشی شاہشاہ میں شکار کیا تھا۔

چکور خوبصورت پرندہ ہے۔ کچھ لوگ اسے اپنی بقا کا ضامن سمجھتے ہیں۔ جس گھر میں ہو وہ ناگہانی آفات اور افتاد سے محفوظ رہتا ہے۔ چکور پال، لوگوں کا عقیدہ ہے کہ یہ پرندہ آفت اور افتاد اپنے اوپر لے لیتا ہے۔ باز کیلئے اس پر جھپٹنا مشکل ترین ہے۔ اسکے پہلو سفید اور سیاہ پروں سے ڈھکے ہوتے ہیں۔ اپنی تیزرفتاری اور غچہ دینے کی صلاحیت سے یہ باز کو قریب نہیں پھٹکنے دیتا۔ ذرا آنکھوں سے اوجھل ہوا تو پہاڑوں میں کہیں سے کہیں پہنچ جاتا ہے۔ میدانی علاقے میں البتہ باز کا شکار ہو جاتا ہے۔ اسکے شکار کا موسم مارچ تا مئی ہے۔ مادہ چکور سات سے چودہ انڈے دیتی ہے۔ 25 دنوں میں بچے نکل آتے ہیں۔ یہ جانور صرف صبح اور دوپہر کو دانا چُگتے ہیں‘ باقی وقت ڈائٹنگ۔ صبح اور شام کے وقت خوبصورت آواز نکالتے ہیں جس کو ہر کوئی مرضی کے معانی پہناتا ہے۔ اسکی نسل غیرقانونی شکار سے ناپید ہو رہی ہے۔

شدید سردی کے باعث سائبیریا سے ہر سال 72 قسم کے پرندے ہجرت کرکے پاکستان، افغانستان، کشمیر اور انڈیا سمیت دیگر ممالک میں آتے ہیں۔ ان پرندوں میں کونج، مرغابی، مگ، پیلیکین ، تلور، آڑی اور نیرگ شکاریوں کے پسندیدہ ہیں۔ جال میں ان پرندوں کو پکڑنے والے ایک ہزار روپے سے لے کر دس ہزار تک میں ایک پرندہ بیچتے ہیں جبکہ تلور 25 ہزار سے لے کر 50 ہزار تک بکتا ہے۔

عرب شہزادوں کو صرف تلور سے دلچسپی ہے۔ وہ اس کا شکار بندوق سے نہیں باز یا عقاب سے کرتے ہیں۔ صحرا میں اوپر تلور اُڑ رہا ہوتا ہے، اسکے تعاقب میں عقاب اور نیچے شہزادے تلور کی سپیڈ میں بھاگتی گاڑیوں میں اس منظر سے لُطف اندوز ہورہے ہوتے ہیں۔ ان کیلئے اس شکار کا کلائیمیکس باز کا تلور کو گردن سے دبوچنا ہے۔50 ہزار میں خریدا جانے والا تلور بھی شاید اُڑا کے اسکے پیچھے باز چھوڑ دیا جاتا ہو۔ شہزادوں کے پاس پیسے کی کمی نہیں‘ انہیں ایسے شوق پر لنڈھاتے کوئی تردد نہیں ہوتا۔ اسی شوق کیلئے انہوں نے پاکستان میں بڑی بڑی سیرگاہیں بنا رکھی ہیں۔ مقامی لوگوں کو مطمئن کرنے کیلئے فلاحی مراکز قائم کئے۔ چولستان میں چنکارہ اور پاڑہ ہرن کی نسل ناپید ہوگئی تو اسکی بڑے پیمانے پرا فزائش کے انتظامات کئے۔ ہسپتال اور دیگر کئی فلاحی منصوبے ریکارڈ پر ہیں۔ یہ اتنے امیر ہیں کہ ہمارے امیر ترین لوگ بھی انکے در پر سوالی نظرآتے ہیں۔ نوازشریف اور مشرف نے عرب شہزادوں سے بڑی رقمیں وصول کرنے کا اعتراف کیا ہے۔

شہزادوں کے شکار کی مخالفت ایک مخصوص ذہنیت کی طرف سے کی جارہی ہے جس کے پیچھے انڈین لابی ہے جو شہزادوں کو بھارت میں یہی سہولتیں دے کر وہی مراعات حاصل کرنا چاہتا ہے۔ تلور کے شکار کی مخالفت اگر اس نسل کے نایاب ہونے کی بناپر کی جارہی ہے تو چکور کے شکار کی مخالفت کیوں نہیں کی جاتی جو قومی پرندہ اور واقعی اسکی نسل ختم ہورہی ہے۔ ہجرت کرکے آنیوالے دوسرے پرندوں کی نسل بھی ناپید ہورہی ہے۔ اس پر واویلا نہیں ہوتا۔ پاکستان میں تلور کے شکار کیلئے آنے والے حکمران تلور کی افزائش نہ صرف پاکستان بلکہ عرب اور افریقی ممالک میں بھی کررہے ہیں۔ حقیقی طور پر تلور کی تعداد میں ہر سال اضافہ ہورہا ہے۔ ہمیں زیادہ پیار قومی پرندے چکور سے ہونا چاہیے۔ اسکی نسل کشی کیخلاف عدالت تو کیا جانا کوئی آواز بھی بلند نہیں کرتاجبکہ تلور کیلئے سپریم کورٹ تک کیس کئے گئے ہیں۔ ذرا غور کریںکہ یہ لوگ تلور کے پیار میں وکیلوں کو کروڑوں روپے فیس کیوں اور کیسے ادا کرتے ہیں؟ تو کہانی سمجھ میں آجاتی ہے۔ اب پرانا شوشہ نئے انداز میں چھوڑا گیا ہے کہ شہزادے بیگمات کے بغیر داد عیش دینے آتے ہیں۔ اس طرح کی کہانیاں کراچی میں ایک اینکر تک بھی جا پہنچیں۔کسی نے جعلی میجر کے نام سے ایک سٹوری چلوادی۔ یہ سب جھوٹ اور لغویات ہیں جس کے تصدیق محلات اور خیموں کے اندر تک کی خبر رکھنے والے کرتے ہیں۔ ’’وقت نیوز‘‘ میں ہمارے کولیگ آصف علی کے والد اور ماموں وہاں ملازم تھے۔ آصف علی بھی وہاں جاتے رہے۔ وہ کہتے ہیں کہ شکار پر آنیوالے شہزادے اپنی بیگمات اور بچوں کیساتھ آتے ہیں۔ شوکت علی شاہ بطور ڈی سی رحیم یارخان، عرب شاہوں اور شہزادوں کی سرگرمیوں سے مکمل آگاہ ہیں۔ وہ بھی ان افوہوں کو بکواس قرار دیتے ہیں۔ ویسے بھی دنیا میں ’’بروکروں‘‘ کی کمی نہیں۔ ایک ڈھونڈو ہزار ملتے ہیں۔ ثقافتی طائفوں کی آڑ میں یہ کچھ بھی ہوتا ہے۔ یوں کسی کو اس مقصد کیلئے یہاں آنے کی ضرورت نہیں۔

 

 

متعلقہ خبریں