اسد عمر کے استعفے کی جھوٹی خبریں کیوں پھیلائی گئیں ؟ ساری گیم سامنے آ گئی

2018 ,دسمبر 6



لاہور (ویب ڈیسک) چلئے یہ تو مان لیا کہ اسد عمر استعفا نہیں دے رہے، ویسے بھی استعفے کی اتنی جلدی بھی کیا ہے، ابھی تو سو دن ہی ہوئے ہیں، سو دن میں تو صرف سمت متعین ہوتی ہے جو اسد عمر نے کر دی ہے اور وہ یہ ہے کہ 

نامور  سیاسی تجزیہ کار قدرت اللہ چوہدری  اپنے ایک خصوصے تبصرے  میں  لکھتے  ہیں ۔۔۔۔۔۔روپے کو ڈالر کے مقابلے میں مزید بے قدر کرنا ہے اور کم از کم ایک سو پچاس نہیں تو 148 تک تو ضرور پہنچانا ہے اور کوئی دن جاتا ہے کہ یہ اس حد کو چھونے لگے گا اور اگلے مرحلے میں ایک دو روپے کی باقی ماندہ کسر بھی نکل جائے گی۔ آئی ایم ایف کی ٹیم نے ابھی اگلے مہینے دوبارہ پاکستان آنا ہے اور اس کی آمد سے پہلے پہلے سارے کام ہموار طریقے سے ہوگئے، تو امکان ہے بیل آؤٹ پیکج بھی مل جائے گا، کیونکہ اس کا مشورہ وہ سارے معاشی ماہرین دے رہے ہیں جو نہ صرف موجودہ حکومت کا بھلا سوچتے ہیں بلکہ آئی ایم ایف کی جادوگریوں کے بھی معترف ہیں۔ وہ حکومت کو یہ صائب مشورہ دیتے رہتے ہیں کہ آئی ایم ایف کے پاس جائے بغیر چارہ نہیں، ویسے تو یہ سمت نگران حکومت کے دور میں ہی نظر آنے لگی تھی، کیونکہ اس حکومت کے ذمے یہی کام تھا کہ وہ نئی حکومت کو آئی ایم ایف کے پاس جانے کی راہ ہموار کرے، ڈالر اس حکومت کے دور ہی میں گرنا شروع ہوگیا تھا اور اب اس حال کو پہنچا ہے۔ 

ایسے میں اسد عمر کبھی آئی ایم ایف کے پاس جانے کی بات کرتے ہیں اور متبادل پلان بھی بنا رہے ہیں تو جنہیں متبادل پلان پسند نہیں وہ اسد عمر کے استعفے کی ہوائیاں تو اڑائیں گے۔ تحریک انصاف کا کمال یہ ہے کہ اس میں دھڑے بندیاں موجود ہیں، جن کے اپنے اپنے اہداف ہیں۔ جب پارٹی کے اندر کسی مسئلے پر بات ہوتی ہے تو ظاہر ہے ہر دھڑا اپنی اپنی رائے دیتا ہے اور اپنی رائے رکھنا کوئی بری بات بھی نہیں۔ یہ بری بات اس وقت بنتی ہے جب طے شدہ امور کے بعد بھی دھڑے اپنی اپنی بات پر اڑے رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ گورنر ہاؤس کی سامراجی دور کی یادگار دیوار گرانے پر بھی اتفاق رائے نہیں ہوپاتا، بعض گورنر یہ سمجھتے ہیں کہ گورنر ہاؤس جس کام کے لئے بنا ہے، اسی کے لئے استعمال ہونا چاہئے، لیکن جب اس ضمن میں کوئی حتمی بات طے نہیں ہوتی تو جلد بازی میں صرف دیوار گرا کر جنگلہ تعمیر کرنے پر اکتفا کرلیا جاتا ہے اور سامراجی دور کی اصل یادگار کو باقی رکھا جاتا ہے۔ ویسے سوال یہ ہے کہ ایک ہی یادگار ہدف کیوں ہے، ملک بھر میں سامراجی دور کی بہت سی دوسری یادگاریں اپنی اصل حالت میں نہ صرف قائم دائم ہیں

 بلکہ کوئی اس جانب نگاہ غلط انداز ڈالنے کی جرأت بھی نہیں کرتا، کیونکہ یہ معلوم ہے ان یادگاروں کو باقی رکھا جائے گا، ایسے میں جب روپے کی گراوٹ کے معاملے کی سنگینی سے توجہ ہٹانے کی ضرورت تھی تو درمیان میں سامراج کا دور لاکھڑا کیا گیا، اب اگر نگران حکومت ہی روپے کو اس راستے پر ڈال گئی تھی تو اس میں اسد عمر بے چارے کا کیا قصور ہے؟ وہ تو اچھی بھلی لاکھوں روپے تنخواہ کی نوکری چھوڑ کر تحریک انصاف میں آگئے تھے اور اس وقت سے یہ طے تھا کہ جب بھی پارٹی حکومت میں آئے گی وہی وزیر خزانہ ہوں گے، اس پر عمل بھی ہوگیا لیکن پارٹی کے اندر ان کے حاسدوں نے ان کے استعفے کی افواہیں سو دن بعد ہی اڑا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ اگلے دس دن کے اندر کابینہ میں جو اتھل پتھل ہونے والی ہے، اس سے خوفزدہ ہوکر انہوں نے پہلے ہی استعفا دینے کا فیصلہ کرلیا ہے، حالانکہ اگر روپے کی قیمت کم کرنے کا فیصلہ سٹیٹ بینک نے کیا ہے اور وزیراعظم کو بھی اس کا پتہ اس وقت چلا جب میڈیا پر ہاہاکار مچ گئی تو اس میں اسد عمر کا کیا قصور ہے، 

جس سٹیٹ بینک کے حکام نے وزیراعظم کو اپنے اقدام سے قبل از وقت آگاہ کرنا ضروری نہیں سمجھا، وہ اسد عمر کو کیونکر اعتماد میں لینے کے قابل سمجھتا۔ سٹیٹ بینک اگرچہ خود مختار ادارہ ہے، لیکن اس کے جس اقدام سے حکومت براہ راست متاثر ہونے والی تھی، اس پر بھی وزیراعظم کو آگاہ نہ کرنا، یہ خود مختاری کی کون سی قسم ہے؟ نگران دور میں جب روپیہ گرنا شروع ہوا تو بعض ماہرین کا ماتھا اسی وقت ٹھنکا تھا کہ اس سے آنے والی حکومت مشکلات کا شکار ہوگی، لیکن کسی نے اس جانب توجہ نہیں دی، حالانکہ نگران وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے بہت سے اقدامات ایسے تھے جس کی حکمت تو ان سے معلوم کی جاسکتی تھی، لیکن لگتا ہے یہ حکومتیں اپنے اصل کام انتخابات سے زیادہ دوسرے کاموں میں دلچسپی لے رہی تھیں اور کسی کو جوابدہ بھی نہیں تھیں، اقربا پروروی بھی زوروں پر رہی۔ ابھی یہ تو معلوم نہیں کہ اگلے دس دنوں کے اندر جن وزراء کی چھٹی ہونے والی ہے، ان میں کون کون شامل ہیں، کیونکہ وزراء کی کارکردگی کا جائزہ تو خود وزیراعظم لے رہے ہیں، ان کا اپنا پیمانہ اور اپنی حکمت عملی ہے، لیکن اسد عمر کو نہ تو استعفا دینے کی ضرورت ہے

 اور نہ ہی انہیں برطرفی کا خوف ہے، کیونکہ اگر انہیں بھی کابینہ سے فارغ کر دیا گیا تو باقی کون استروں کی یہ مالا اپنے گلے میں ڈالنا پسند کرے گا، کیونکہ موجودہ حالات میں معاشی صورت حال میں بہتری کا امکان بہت ہی کم ہے اور کوئی ایسے اقدامات بظاہر نظر بھی نہیں آرہے جن سے بہتری کی کوئی صورت پیدا ہو، اس لئے ان کی کارکردگی جیسی بھی ہے اس پر گزارہ کرنا ہوگا، کیونکہ وہ اپنی پارٹی سے تو مخلص ہیں اور کئی سال سے اس کا ساتھ خلوص دل سے دے رہے ہیں، البتہ پارٹی کے اندر جو حلقے ان کی مخالفت کر رہے ہیں، ان میں کوئی بھی ایسا رجل رشید نہیں جو اقتصادی پالیسی کو بہتر بنا سکے۔ اگر کوئی ہوتا تو وزیراعظم مرغیاں اور کٹے پالنے کی سابق حکومت کی پالیسی کو گود لینے پر مجبور نہ ہوتے، کوئی نیا قدم تو اٹھاتے۔ سابق حکومت سے بھی پہلے نجی مرغ بانی اس خطے میں ہمیشہ سے رائج رہی ہے اور دیہات میں کسی ترغیب کے بغیر ہی لوگ اپنی چھوٹی موٹی ضرورتیں انڈے، مرغیاں بیچ کر پوری کرتے آئے ہیں اور اس سے زیادہ پوٹینشل اس شعبے میں موجود ہی نہیں، جہاں ہے وہاں بڑے بڑے صنعت کار پہلے ہی کروڑوں کی سرمایہ کاری کرکے بیٹھے ہیں۔
 

 

متعلقہ خبریں