غرناطہ سے ڈھاکہ فال۔۔۔سقوط ڈھاکہ کے حقائق کبھی سامنے آ سکیں گے؟

2016 ,دسمبر 16

فضل حسین اعوان

فضل حسین اعوان

شفق

awan368@yahoo.com



ہم تاریخ سے سبق اس لئے حاصل نہیں کرتے کہ تاریخ پڑھتے ہی نہیں ہیں۔ کتابوں سے لائبریریاں بھری پڑی ہیں کتابوں نے لائبریریوں کو خوبصورت بنا دیا لیکن ان سے استفادہ نہ کرنے سے ہمارے اندر کی خوبصورتی چھن گئی۔ تاریخ اگر پڑھی جاتی ہے تو وہی جو نصاب میں لازمی ہے۔ وہ بھی بچے اگلی کلاس میں جانے کیلئے پڑھتے ہیں۔ اگر مسلمانوں نے تاریخ کو اہمیت دی ہوتی تو آج بھی ان کے مقدر کا ستارہ آسماں پر دمک رہا ہوتا اور ہمارے آباءکی عظمت ہماری میراث ٹھہرتی۔ لیکن کچھ نااہل اور نالائق حکمران اور جرنیل ایسے بھی آئے جنہوں نے اپنے آباﺅ اجداد کی کامرانیوں اور کارناموں کو عظمت رفتہ اور گم گشتہ بنا دیا۔ ہمیں کئی سقوط نظر آتے ہیں۔

10 فروری 1258ءمیں منگول سردار ہلاکو نے حملہ کرکے بغداد کو فتح کیا۔شہر کو آگ لگا دی لاکھوں مسلمانوں کو بے دردی سے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ ہلاکو کے سامنے آخری عباسی خلیفہ المستعصم بااللہ کو پیش کیا گیا۔ ہلاکو نے اس کے سامنے ہیرے جواہرات اور سونے کے زیورات پلیٹ میں رکھ کر کھانے کیلئے پیش کئے۔ خلیفہ نے کہا یہ میں کیسے کھا سکتا ہوں؟ ہلاکو نے طیش میں آکر کہاتو ان کو اکٹھا کرنے کے بجائے دشمن کے ساتھ لڑنے کا انتظام کیوں نہ کیا ایسا کیاہوتا تو آج یوں بے بس نہ ہوتا.... اس کے ساتھ ہی اسے قالین میں لپیٹ کر زمین پر پھنکوایا اور اوپر سے گھوڑے دوڑوا دیئے۔

2 جنوری 1492ءاسلامی تاریخ کا ایک اور سیاہ دن ہے۔ اس دن اندلس میں مسلمانوں کے 8 سو سالہ اقتدار کا سورج غروب ہوگیا۔ یہ دوپہر مسلمانوں پر بھاری تھی۔ یہ سقوط اندلس کی پہلی شام تھی جو مسلمانوں کیلئے طویل ترین تاریک رات کا آغاز ثابت ہوئی۔ اس شام پہلی بار مسجدوں سے مغرب کی اذان سنائی نہیں دی۔ اس کے بجائے ہرطرف مسلمانوں کی چیخ و پکار سنائی دیتی تھی۔ بے لباس خواتین عزتیں بچانے کیلئے بھاگ رہی تھیں لیکن کہاں جاتیں، بے غیرتی کی انتہا کہ غرناطہ کے حکمران ابو عبداللہ بابِ دل معاہدے کے تحت شہر کی چابیاں ملکہ ازبیلا اور شہنشاہ فرڈی ننڈس کو پیش کرنے کی تیاریوں میں مصروف تھے۔ ذلت و رسوائی کی اس تقریب میں شرکت کیلئے ابو عبداللہ اور شاہی خاندان کے دیگر افراد اور امراء زرق برق لباس زیب تن کئے ہوئے تھے۔ ان کے زرہ بکتر سونے چاندی کی لڑیوں سے چمک دمک رہے تھے پھر جب چابیاں ملکہ ازابیلا کو تھما دی گئیں تو ابو عبداللہ بابِ دل، شدت غم سے آنسو بہانے لگا، اسی موقع پر اس کی والدہ نے کہاتھا اگر بہادروں کی طرح لڑ نہیں سکتے تھے تو بزدلوں کی طرح آنسو کیوں بہاتے ہو۔

پھر ہمارے سامنے سقوط مشرقی پاکستان کی حقیقت ہے جو نااہل نالائق اور بے غیرت سیاستدانوں ،حکمرانوں اور جرنیلوں کا کیا دھرا ہے۔ پاکستان ان کی خباثتوں کی وجہ سے ٹوٹ گیا۔ غرناطہ کی چابیاں ابوعبداللہ نے دشمن کے حوالے کیں تو ڈھاکہ اس کے ہم نام امیر عبداللہ نے ہندوستان کے حوالے کردیا۔ وہی ہندوستان جس پر مسلمانوں نے ہزار سال حکومت کی تھی۔ ہمارے امیر عبداللہ بے حمیتی میں ابوعبداللہ سے بھی چند قدم آگے نکل گئے۔ اجیت سنگھ اروڑہ کے سامنے بڑے تفاخر سے سرنڈر کیا۔ اس سے قبل دستاویزات کی تیاری کیلئے اروڑہ کا نمائندہ آیا تو اس کو فحش لطیفے سناتے اور خوش گپیاں کرتے رہے۔ ابوعبداللہ کے تو سقوط غرناطہ کے بعد آنسو بہہ نکلے تھے جنرل امیر عبداللہ نیازی کو پوری زندگی امہ کی عزت و آبرو ہندوﺅں کے سامنے گروی رکھنے کا افسوس نہ ہوا بلکہ کہتے رہے کہ وہ90 ہزار فوجیوں کو زندہ سلامت نکال لائے۔ 90 ہزار عورتوں کو بیوہ اور لاکھوں بچوں کو یتیم ہونے سے بچا لیا۔یحییٰ خان یہ کہتے کہتے مرگئے کہ وقت آنے پر قوم کو حقائق سے آگاہ کرینگے،ذوالفقار علی بھٹو اور انکے حواری کہتے کہ ذمہ دار وہ ہیں جو اقتدار میں تھے۔بھٹو اقتدار کی ہوس میں مبتلا نہ ہوتے تو اقتدار کی مجیب کو پرامن منتقلی ہو جاتی۔بجا مجیب کے چھ نکات مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی نشاندہی کرتے تھے مگر یہ علیحدگی یوں رسواکن اورخونخوار طریقے سے نہ ہوتی۔المیہ یہ ہے کہ ہم اب تک ان حقائق سے لاعلم ہیں جوہم پاکستانیوں ہی نہیں امہ کی رسوائی کابھی باعث ہیں۔

سانحہ مشرقی پاکستان کے ذمہ داروں کا تعین کرنے کیلئے حمودالرحمن کمشن تشکیل دیا گیا جس کی رپورٹ کبھی منظرعام پر نہ آسکی۔ بھٹو بھی اس سانحہ کے ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے اپنے دور میں یہ رپورٹ شاید دبا لی ہواس کے بعد سے آج تک یہ کیوں منظرعام پر نہیں آسکی؟ قومیں اپنا احتساب نہ کریں تو قومیں نہیں رہتیں ریوڑ بن جاتی ہیں۔ آج مشیر خارجہ سرتاج عزیز کا بیان شائع ہوا جس میں وہ کہتے ہیں کہ دورہ امرتسر میں میری سبکی نہیں ہوئی۔ سبکی اور پذیرائی کا ان بزرگوار کے ہاں جو بھی معیار ہو‘ بہرحال یہ وہی ذہنیت ہے جو سقوط ڈھاکہ کے بعد حکمران ایلیٹ کی طرف سے سامنے آئی اور آج تک کارفرما ہے۔

سقوط مشرقی پاکستان کے موقع پر میں پانچویں کلاس کا طالبعلم تھا۔ اس سقوط کے بارے میں میری معلومات کتابوں کے مطالعہ یا بزرگوں اور مشرقی پاکستان میں تعینات کچھ فوجیوں سے سنے واقعات اور باتوں تک ہیں۔کتابوں میں ضروری نہیں منصف غیر جانبداری سے اپنی رائے کا اظہار کرے۔اس سرزمین سے ہزاروں میل دور بیٹھے لوگوں کی لکھی کتابوں کو ہم بڑا مستند سمجھتے ہیں۔ ان سے حالات و واقعات کانہیں پوچھتے جن پر یہ قیامت گزری،جو جنگ کا حصہ تھے اگرچہ حمودالرحمٰن کمیشن کی صورت میں کچھ گواہیاں لی گئیں مگر ان کو چھپا لیا گیا۔

میرے اور میرے  بعد کی نسل کے کتنے فیصدلوگ اس سانحہ سے پوری طرح آگاہ ہونگے۔ مکمل حقائق کا مجھے اور اس دور کے بعد کی نسلوں کو تو کیا‘ اس دور کے دانشور طبقے کو بھی علم نہیں۔ پوری قوم اندھیرے میں ہے۔ سقوط مشرقی پاکستان بدترین سانحہ اور المناک ترین المیہ ہے۔ اس سے وطن کے بچے بچے کو آگاہ ہونا چاہئے۔ آگاہ نہ ہونے کے باعث ہم لوگ بھارت کے کلچر پر فریفتہ اور اس کے ساتھ تجارت و دوستی کی بے پایاں خواہش رکھتے ہیں۔ اگر حالات سے آگاہی ہوتی تو بدلہ لینے تک ہر پاکستانی کے اندر بھارت سے نفرت کے جذبات امڈے پڑرہے ہوتے۔ انتقام انتقام کی صدائیں بلند ہوتیں، ہم ایسی قوم بن چکے ہوتے کہ مسئلہ کشمیر یوں لاینحل نہ ہوتا۔

قائداعظم کی کرسی پر بیٹھنے والوں سے ان کی روح کی بھی تقاضا کرتی ہوگی کہ قوم کے سامنے سانحہ مشرقی پاکستان کے حقائق رکھے جائیں۔ انہیں نصاب کا حصہ بنایا جائے اور پرائمری سے ہائیسٹ لیول کی ڈگری تک کیلئے اسے لازمی قرار دیا جائے۔ حمودالرحمن رپورٹ کی سفارشات پر عمل کریں نہ کریں‘ اسے منظرعام پر ضرور لایا جائے تاکہ امہ کی عزت اور وقار کو خاک میں ملانے والوں سے قوم روشناش تو ہو سکے۔

 

متعلقہ خبریں