تسلیم کیجئے ہم نے زینب کے قاتل کا ساتھ دیا

2018 ,جنوری 17



تسلیم کیجئے ہم نے زینب کے قاتل کا ساتھ دیا ہے ۔ تاریخ میں ہم یعنی میڈیا اور سوشل میڈیا والے ہی ہر بار سہولت کار ٹھہرے!! 
ہم لوگ اپنی طرف سے قانون کی مدد کرتے ہیں لیکن لاعلمی کی وجہ سے مجرم کو محفوظ راستہ فراہم کر دیتے ہیں ۔ ملک میں بم دھماکوں سے لے کر لوکل جرائم کی کوریج تک کم از کم میں نے یہی دیکھا ہے ۔ شدت پسندوں سے لے کر مقامی مافیا تک ہم نے سبھی کی مدد کی ہے ، ہم نے انصاف کے نعرے بھی لگائے اور ہمی نے انصاف کی راہ میں روڑے بھی اٹکائے ہیں ۔ مجھ ایسے یہ کہتے رہے ہیں کہ قلم یا کیمرے کے ساتھ ساتھ ہمیں تربیتی نشستوں اور ورکشاپس کی بھی ضرورت ہے ، اپنی محدود سطح پر ہم نے اس کی کوشش بھی کی اور سینئرز سے بھی درخواست کی ۔ یہ ہماری پاکستانی رپورٹنگ ہی تھی جو طالبان کے خلاف کارروائی کو لائیو نشر کر کے ان کے ہینڈلرز کو ٹی وی سکرینز پر معلومات فراہم کرتی رہی ہے ۔ مجھ ایسے تب بھی چلاتے رہے کہ ہم خود معصوموں کے قاتل ہیں ، ہم انہیں مروانے میں گھنائونا کردار ادا کر رہے ہیں ۔ میں نے تب بھی نقار خانے میں صدا بلند کی جب ایک لڑکی کو خود سوزی کا مشورہ دینے اور بروقت بچانے کی تسلی دینے والے چینل کے مقامی نمائندے نے اس وقت جان بچانے کی بجائے کوریج کر کے ریٹنگ لینے کی کوشش کی جب لڑکی خود کو آگ لگا رہی تھی ،وہ بھی اس امید پر کہ سامنے کھڑا میڈیا اسے بروقت بچا لے گا اور مخالفین پر دبائو بھی پڑ جائے گا ، وہ لڑکی جل مری اور میڈیا کے کیمرے پلانٹڈ فوٹیج بنانے میں مصروف رہے ۔اب قصور کی معصوم بچی زینب کے ساتھ بھی ہم یہی کر رہے ہیں ۔
سر! کچھ کام سکیورٹی اداروں کے ہوتے ہیں اور وہ اپنے کام میں ہم سے زیادہ مہارت رکھتے ہیں ۔ دنیا بھر میں سکیورٹی ادارے ملزمان کے گرد گھیرا تنگ کرنے اور پورے مافیا کو پکڑنے کے لئے مختلف طریقہ کار استعمال کرتے ہیں جن میں ابتدائی ملزم کے بارے میں اپنی لاعلمی ظاہر کرنا بھی شامل ہے ۔ انٹیلی جنس امور پر کام کرنے والے جانتے ہیں کہ از خود یہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ سکیورٹی ادارے غلط ٹریک پر کام کر رہے ہیں تاکہ ملزمان فرار ہونے کی بجائے مزید ایکسپوژ ہو جائیں ۔ سانحہ قصور میں ملزم کا ایسا ہی ایک خاکہ سوشل میڈیا اور چینلز پر پھیلایا گیا۔ دوسری جانب میڈیا نے ایک سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس کے حوالے سے ابھی تک شبہات باقی ہیں ۔ اب ہوا یہ کہ ہمارے بعض آرٹسٹ دوستوں نے اس ویڈیو کی مدد سے از خود ایک خاکہ یا سکیچ بنا کر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر دیا ۔ کچھ نے اسے زینب کے والد کے ساتھ کھڑے ایک رشتہ دار سے ملا کر سوال اٹھا دیئے ، بظاہر یہ دوست اپنی طرف سے قانون کی مدد کر رہے تھے لیکن انہیں یہ معلوم نہیں تھا کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لئے مشکلات اور زینب کے قاتل یا بلیک ورلڈ کے پورن مافیا کی مدد کر رہے تھے ۔ اگر زینب کا قتل محض وقتی ہوس نہیں تھا بلکہ انٹرنیٹ کے " بلیک ورلڈ" کے پر تشدد پورن سیکشن کا حصہ تھا جیسا کہ تصور کیا جا رہا ہے کہ اس کا ریپ کرنے کے ساتھ ساتھ اذیت دے دے کر قتل کیا گیا اور یہ سب ویڈیو کا حصہ بنا کر ڈالر کمائے گئے تو پھر معاملہ ایک شخص کا نہیں بلکہ ایک خطرناک مافیا کا تھا ۔ ایسی صورت میں انٹیلی جنس امور کے ماہر جانتے ہیں کہ مڈل مین یا فرسٹ ہینڈلر مقامی نیٹ ورک تک محدود ہوتا ہے اور اس کا نقصان مافیا کے لئے کوئی نقصان نہیں ہوتا ۔ ایک سیٹ اپ ختم ہو تو اصل ہینڈلر دوسرا سیٹ اپ بنا لیتا ہے ۔ ایسی صورت میں ملزمان اور نیٹ ورک پر سکیورٹی اداروں کی جانب سے ظاہر کیا جاتا ہے کہ سکیورٹی ادارے غلط ٹریک پر تفتیش کر رہے ہیں تاکہ ملزمان مطمئن ہو جائیں اور اپنے اصل ہینڈلر (جو تین چار سیٹ اپ بھی ہو سکتے ہیں ) تک رسائی دے دیں ۔ اس کام میں انتظار اور مضبوط اعصاب بہت اہمیت کے حامل ہوتے ہیں ۔ اگر یہاں بھی ایسا تھا تو معذرت کے ساتھ ہم نے از خود خاکے بنا کر زینب کے قاتلوں کا ساتھ دیا ہے ۔ اپنا اصل سکیچ سامنے آنے کے بعد یا تو وہ فرار ہو جائے گا یا پھر اصل مافیا اسے ختم کر دے گا ۔ ہم خدانخواستہ اگلی کسی زینب کو بچانے میں ناکام ہو جائیں گے ۔
سر ! جو کام جس کا ہو وہ ہم سے بہتر کرنا جانتا ہے، اداروں کے پاس ہم سے بڑی سکرینیں اور سسٹم موجود ہیں ، ان کے سکیچ ماہرین ہم سے زیادہ "سیانے "ہیں ۔ ہتھیلی پر سرسوں نہیں اگائی جاتی اور زیادہ گرم چائے اپنی زبان جلاتی ہے ۔ قاصد کے مطابق زینب کا قاتل ابتدائی دنوں میں ہی ٹریس آئوٹ ہو گیا تھا لیکن معاملہ ایک شخص کا نہیں تھا ۔ قصور میں لڑکوں کے سکینڈل کے بعد بچیوں کے ریپ اور قتل کے سکینڈل نے ایک منظم اور گھنائونے مافیا کی نشاندہی کی ہے جس کے ڈانڈے پاکستان سے باہر بھی ملتے ہیں ۔ انجانے میں ہم نے زینب کے قاتلوں کی مدد تو ہم کر ہی دی ہے لیکن درخواست یہی ہے کہ ایسے معاملات میں محتاط رہا کریں اور جو کام جس کا ہے اسی کو کرنے دیں ۔ جو لوگ اس کام میں ماہر ہیں وہ ہم سے بہتر انداز میں اپنا کام کر سکتے ہیں ، سنی سنائی باتوں پر کیسز ٹریس ہونے لگتے تو اب تک دنیا میں کوئی بھی ملزم آزاد نہ ہوتا ۔ تھوڑی سی ریٹنگ ، چند لمحوں کی واہ واہ اور ذاتی انا کی تسکین یا محض ایک پیج کی پروموشن اور لائیکس کے چکر میں ہم جو کچھ کر رہے ہیں وہ قاتلوں کے ساتھ کھڑے ہونے کے سوا کچھ نہیں ہے ۔ زینب قتل کیس پر میرے پاس بھی بہت سی معلومات تھیں لیکن میں بھی اپنے کئی ساتھیوں کی طرح خاموش رہا ۔ اس جرم کی مذمت الگ بات ہے لیکن کیس پر از خود تفتیش اور اسے وقت سے قبل پبلک کرتے جانا نہ تو صحافتی روایات اور اخلاقیات میں آتا ہے اور نہ ہی قانون پسند شہری ہونے کی دلیل ہے ۔ یہ بذات خود ایک جرم ہے ۔ ضروری ہے کہ ایک بار پھر صحافیوں کی ٹریننگ اور کمیونٹی جرنلزم کے فروغ کے لئے تربیتی نشستوں کے اہتمام پر سوال اٹھایا جائے ، ہمارے سینئرز ، پریس کلبس اور تنظیموں کو از خودآگے آ کر ہم ایسوں کی تربیت کرنا ہو گی ورنہ یہ سلسلہ نہیں رک پائے گا

(سید بدر سعید)

متعلقہ خبریں