شاباش عمران خان : تم سرخرو ٹہرے ، مگر تمہارے یہ وزیر ۔۔۔۔۔ صف اول کے صحافی کی وزیراعظم پاکستان کے لیے شاندار تجاویز پر مبنی تحریر

2018 ,دسمبر 20



لاہور (ویب ڈیسک) حضرت علی ؓ کا قول ے کہ اللہ کے نزدیک کسی انسان کی عزت جتنی زیادہ ہوتی ہے اس کا امتحان بھی اسی قدر سخت ہوتا ہے ۔وزیر اعظم عمران خان نے اپوزیشن لیڈر کا کردار بھی ادا کیا اور اقتدار کی مسند پر بھی پہنچے ہیں ۔ بطور غیر روایتی اپوزیشن لیڈر‘

نامور کالم  نگار کنور دلشاد اپنے ایک کالم میں  لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ عمران خان احتساب اور انسدادِ بد عنوانی کا ایجنڈا لئے دنیا میں کافی شہرت حاصل کر چکے ہیں۔ ملک میں اس دیانتدار سیاستدان کا شہرہ خیبر سے کراچی تک کئی سال پہلے سے تھا ۔ وزیر اعظم عمران خان کی شخصیت انہیں کامیاب لیڈر بنانے میں ایک اثاثہ ثابت ہوئی ہے۔ 1997ء میں جس عزم کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان تحریک انصاف کی بنیاد رکھی تھی‘ ان کی طویل سیاسی جدو جہد کا یہ کارنامہ ان کی نیک نیتی اور ملک سے وفا داری کی صورت میں نمایاں ہوا ہے ۔ انہوں نے اپوزیشن میں رہتے ہوئے نواز شریف کے طلسم کو زمین بوس کر دیا‘یہ کسی عام سیاست دان کے بس میں نہ تھا۔ یہاں تک کہ جنرل پرویز مشرف بھی ان کے آگے محض بریگیڈیئر نیاز احمد کے کہنے پر جھک گئے اور ان کے خلاف احتساب بیورو کے چیئرمین جنرل شاہد عزیز نے بھی جرأت نہ کی اور وہ بھی گھبراہٹ کے عالم میں مستعفی ہو گئے ۔ اسی طرح جنرل امجد کی تمام انکوائریاں بے سود ثابت ہوئیں۔لیکن عمران خان نے پانامہ سکینڈل اور دھاندلی کا سہارا لیتے ہوئے آئین اور قانون کی با لا دستی کے حق میں مسلسل اور بلند درجہ کا دبائو ڈالتے ہوئے نا ممکن کو ممکن کر دکھایا ۔ 

اگرچہ سب کچھ تو آئین و قانون کی روشنی اور عدلیہ ‘ قومی احتساب بیورو جیسے اداروں کے آئینی کردار اور آزادی کی ادائیگی سے ہوا ۔ عمران خان نے اپنی حکومت کے 100دن پورے ہونے پر غربا اور مسکین لوگوں کے لئے شیلٹر فراہم کر کے اپنے مشن کا آغاز کر دیا ہے ۔ جہاں تک پہلے 100دن کی کار کردگی کا معاملہ ہے‘ اس سے ہر سنجیدہ اور با شعور پاکستانی میں فکر کی کیفیت پیدا ہوئی۔ معاشی بحران سے نکلنے کی راہیں نظر آرہی ہیں اور بین الاقوامی معاملات میں بہت کچھ بہتر ی ہو رہی ہے‘لیکن داخلی امور کے حوالہ سے آغاز ہی حیران کن ہے ۔ بعض وزرا اور چند مشیران کرام کے فیصلے زیر بحث آرہے ہیں اور وزیر اعظم عمران خان کو ان شخصیات نے گھیرے میں لے رکھا ہے ‘جو کہ عوام اچھی نگاہوں سے نہیں دیکھ رہے‘ یہ گڈ گورننس کے اصولوں سے بھی مطابقت نہیں رکھتا ۔ اپنی اپنی وزارتوں کے حوالے سے ان کا کوئی ویژن نہیں ۔ کوئی اپنی وزارت کو عوام کی حقیقی خدمت کے لئے چلانے کی صلاحیت کا حامل نہیں ۔ پالیسی سازی اور قانون سازی کے لئے جو کچھ پہلے سو دنوں میں ہونا چاہئے تھا ‘اس کی نشاندہی نہیں کی گئی ۔

 مسائل تو بہت واضح ہیں اور بہت آسانی سے وضاحت کی جا سکتی ہے‘ لیکن وزرا مسائل کے حل تو کیا موجود مسائل کو سمجھ ہی نہیں پا رہے ۔ یہ مسائل ٹاسک فورسز کے قیام سے حل نہیں ہوں گے ۔ وزیر اعظم عمران خان نے سوالیہ نشان بنی شخصیات کو اپنے ارد گرد جمع کر رکھا ہے ۔ اسی طرح ذو الفقار علی بھٹو نے 22دسمبر1971ء کی رات کو اپنی کابینہ میں چند ایسے چہروں کو شامل کر لیا تھاجو ذوالفقار علی بھٹو پر اُس وقت شدید تنقید کرتے تھے جب بھٹو ایک فری لانسر سیاستدان تھے اور پارٹی کی بنیاد رکھنے کے بعد بھی بھٹو ان کی تنقید کی زد میں رہے ۔ یہ لوگ بھٹو کے خلاف فتوے بھی جاری کروایا کرتے تھے ‘ لیکن اقتدار کی چمک دیکھتے ہوئے اور جنرل یحییٰ خان کی یقین دہانی کے بعد یہ چہرے مختلف ماسک پہن کر بھٹو کے گرد جمع ہوگئے ۔ یحییٰ خان اور جنرل ایوب خان کے دستر خوان سے فیض یاب ہونے والوں نے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو حصار میں لے کر حقیقی پارٹی کے نمائندوں کو ‘جنہوں نے شاہی قلعہ کے عقوبت خانوں میں ستم برداشت کئے تھے ‘ ایوان صدر سے باہر نکلوا دیا۔

 معراج خالد ‘ مولانا کوثر نیازی ‘ نواب صادق قریشی اور علی محمد راشدی جیسی شخصیات نے ذوالفقار علی بھٹو کو اپنے حقیقی دوستوں سے محروم کردیا اور ان شخصیتوں نے اپوزیشن سے در پردہ ساز باز کر کے مسٹر بھٹو کو اندرونی مسائل میں ایسا گھیرا کہ وہ عوام کی فلاح و بہبودمیں ناکام ہو گئے ۔اس طرح سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مارچ 1977ء کو الیکشن میں جیتی ہوئی پارٹی کو شکست میں تبدیل کروایا اور 5جولائی 1977کا سانحہ پیش آیا ۔یہ حقیقت ہے کہ مسٹر ذو الفقار علی بھٹو 5جولائی1977ء کی صبح کو اپوزیشن کے مطالبات کو تسلیم کرتے ہوئے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کو تحلیل کر کے 18اکتوبر1977ء کو انتخابات کا اعلامیہ جاری کرنے والے تھے‘ مگر شنید ہے کہ مولانا کوثر نیازی نے ایئر مارشل اصغر خان ‘مفتی محمود اورنواب زادہ نصر اللہ خان کو اعتماد میں لے کر جنرل ضیا الحق کو مطلع کر دیا تھا کہ اگر از سر نو انتخابات کروائے گئے تو مسٹر بھٹو اس سے بھی زیادہ اکثریت سے کامیاب ہو جائیں گے اور جنرل ضیا الحق کو سبکدوش کر دیں گے۔ ان کے بارے میںرائو عبدالرشید خان ڈائریکٹر جنرل انٹیلی جنس بیورو نے وزیر اعظم بھٹو کو 25 جون اور28جون 1977ء کو ایک سرکاری مراسلہ میں آگاہ کر دیا تھا کہ جنرل ضیا الحق 5جولائی کی رات کو مارشل لا نافذ کرنے والے ہیں ۔

 اصولی طور پر وزیر اعظم بھٹو کی حکومت کے اہم ستون سیکرٹری دفاع غلام اسحاق خان نے ان کو جنرل ضیا الحق کے بارے میں اندھیرے میں رکھا ہوا تھا اور عبدالرشید خان کے الارمنگ نوٹ کے باو جود مسٹر بھٹو جنرل ضیا الحق کے عہد ِوفا کا شکار ہو گئے اور حالات کا ادراک نہ کرتے ہوئے اقتدار و جان سے محروم ہو گئے ۔اسی طرح صدر ایوب خان کو 1968ء کے وسط میں ان کی قادیانی نوکر شاہی نے گھیرے میں لیا ہوا تھا اور ان تک ان کی پارٹی کے اہم راہنمائوں کو بھی رسائی حاصل نہیں تھی ۔صدر کو آزاد اخبارات کی بجائے ٹرسٹ کے اخبارات مہیا کئے جاتے تھے اور ان کے ڈائریکٹر انٹیلی جنس این اے رضوی‘ ملک معراج خالد‘ سید فداحسن ‘ این اے فاروقی ‘ قدر ت اللہ شہاب ‘ احمد سعید کرمانی ‘ مسعود صادق اور بعض مرکزی وزرانے انہیں گھیرے میں لیا ہوا تھا ۔ اسی سازشی ٹولے کے نرغے سے زیڈ اے سلہری نے جنوری 1969ء میں انہیں نکالا‘ جب انہوں نے خصوصی ملاقات میں ملک میں جلائو ‘ گھیرائو کی کیفیت سے انہیں آگاہ کیا ‘ تو ایوب خان نے فوری طور پر اپوزیشن کو گول میز کانفرنس کا عندیہ دے دیا۔

ان حالات کا جائزہ لیا جائے تو ان اعلیٰ حکومتی شخصیات نے 11سال اورپانچ سالہ تک حکومت کی اور آخری دنوں میں اپنے سازشی مشیر کرام کے نرغے میں آ گئے‘ لیکن اب چونکہ میڈیا اور بالخصوص سوشل میڈیا نے قوم کو جگا رکھا ہے‘ تو وزیر اعظم عمران خان کے ارد گرد بوسیدہ خیالات اور ذاتی مفادات کے حصول کے حامی افراد کی سازشوں کو ناکام بناناہمارا فرض ہوگا ۔ اسی طرح سازشی ٹولے نے پرویز مشرف کو گھیرے میں لئے رکھا اور جب انہوں نے حساس رپورٹوں کو نظر انداز کیا تو انہیں ایوان صدر سے نکلنا پڑا۔ اسی انداز میں وزیر اعظم عمران خان کے ارد گرد لوگوں نے ان کو عوام کی نبض پر ہاتھ نہیں رکھنے دیا ۔وزیر اعظم عمران خان کی کمزوری یہ ہے کہ وہ اردو اخبارات سے نا واقف ہیں ‘ یہی کمزوری جنرل پرویز مشرف میں تھی جبکہ جنرل ضیا الحق کی کامیابی کا رازیہ تھا کہ وہ سونے سے پیشتر پاکستان کے تمام قومی و علاقائی اخبارات کا مطالعہ کر کے حالات سے با خبر رہتے تھے۔ وہ ایجنسیوں اور دوستوں کی رپورٹوں کے محتاج نہیں تھے ۔ وزیر اعظم عمران خان کے ایک قریبی دوست نے مجھے بتایا کہ عمران خان پارٹی کے وفا دار اور پارٹی کے خیر خواہوں کی مشاورت سے الگ تھلگ ہیں‘ ان تک ایسی رائے نہیں پہنچائی جاتی جو ان کے مزاج سے مطابقت نہیں رکھتی ۔ بین السطور میںاس کا مطلب یہی اخذ کیا جا سکتا ہے کہ عمران خان کو با قاعدہ منظم طریقے سے تنہا کر دینے کی پالیسی پر کام کرانے میں ان کے مشیر وں کا ہاتھ ہے۔(ش س م)
 

 

متعلقہ خبریں