.......ابا ایمبولینس پر نوٹ نچھاور کرتا جا رہا تھا اور

2018 ,جنوری 9

بنتِ ہوا

بنتِ ہوا

تہذیب

bintehawa727@gmail.com



اکبر ریڑھی والے نے ساری گٹھڑی کھول کے ڈاکٹر کے آگے رکھ دی۔
”یہ کیا ہے“۔ ڈاکٹر نے پوچھا۔
یہ میری عمر بھر کی کمائی ہے ڈاکٹر صاحب جی: میں پچھلے پندرہ سال سے پھلوں کی ریڑھی لگا رہا ہوں اور ایک ایک پیسہ جمع کررہا ہوں اپنے بیٹے محمد انور کے لئے، اس کو ڈاکٹری پڑھانے کے لئے، اس کی ماں کی یہ آخری خواہش تھی۔ مرتے مرتے کہتی گئی، اکبر میرے پتر کو ڈاکٹر ضرور بنانا ۔وہ ہم جیسے غریبوں کا مفت علاج کرے گا اور انہیں بے وقت مرنے نہیں دے گا“۔
ڈاکٹر نے پریشان ہو کر نوٹوں کی گڈیوں کے اس ڈھیر کو دیکھا۔ نئی پرانی نوٹوں کی گڈیاں سوکی، پانچ سو کی، ایک ہزار کی، ایک روپے کی، دھاگوں سے باندھ کر محفوظ کی گئی تھیں۔
”یہ پورے پانچ لاکھ ہیں ڈاکٹر صاحب جی! میں انہیں گھر کے اندر ہی جوڑ کے رکھتا رہا ہوں۔ میں نے سنا تھا ڈاکٹری پڑھانے میں پندرہ بیس لاکھ روپے لگ جاتے ہیں۔ میں کسی کے آگے ہاتھ پھیلانا نہیں چاہتا تھا۔ پانچ سال پہلے محمد انور کی ماں گزر گئی تھی اور مجھ سے وعدہ لے کر گئی تھی کہ میں اسے ڈاکٹرضرور بناﺅں گا۔ڈاکٹر صاحب جی! ڈاکٹر دنیا میں سب سے بڑے ہوتے ہیں کیونکہ وہ بندے کی جان بچا لیتے ہیں۔ آپ یہ سارے نوٹ گن لیں۔ یہ پورے پانچ لاکھ ہیں۔ میں نے دس سال میں جمع کئے ہیں۔ آپ محمد انور کو ٹھیک کر دیں میں اس سے زیادہ پیسے اور جمع کر لوں گا“۔
ڈاکٹر کے چہرے پر ایک گھٹا سی چھا گئی۔ پھر اس نے چھابڑی والے کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا” ہم پوری کوشش کر رہے ہیں۔ جان بچانے والا اللہ ہے۔ یہ سارے روپے سمیٹ لو۔ یہاں نہ پھیلاﺅ۔ اٹھاﺅ ان کو، ہمیں ان کی ضرورت نہیں۔ تم جاﺅ اور اللہ سے دعا کرو“۔
ڈاکٹر نے نرس کو بلا کر کہا کہ دوبارہ گٹھڑی بنانے میں اس کی مدد کردے۔ نرس نوٹ جمع کرکے گٹھڑی بنانے لگی۔
”ڈاکٹر صاحب جی! میں اگر محمد انور کو ڈاکٹر نہ بنا سکا تو قیامت کے دن اپنی گھر والی کو کیا منہ دکھاﺅں گا۔ میں نے اس سے دعدہ کیا تھا“۔
”میں نے کہانا؟ آرام سے وہاں جا کر اس بنچ پر بیٹھ جاﺅ اور اللہ سے دعا کرو.... دعا کرو بس.... “۔نرس نے روپوں کی گٹھڑی بنا کر باندھ دی اور اسے پکڑ کر لے گئی، سامنے بنچ پر بیٹھا کر گٹھڑی اسے پکڑا دی۔
”اللہ تیری سوں.... “۔اس نے ہاتھ جوڑ کر آسمان کی طرف دیکھا۔ ”تو محمد انور کو ٹھیک کر دے۔ آئندہ میں اس کی ہر بات مانا کروں گا ....“۔
اکبر ہر موسم میں پھل کی ریڑھی لگایا کرتا تھا۔ سردیوں میں مالٹے، سنگترے، کنو اور کیلے، گرمیوں میں آم، امرود، آڑو، ناشپاتی....
 کبھی کبھی گنڈیریاں بھی بیچتا تھا۔ بھلا اس ملک میں پھلوں کی کمی تھی۔ بارہ مہینوں میں کوئی چالیس پھل نکل آتے تھے۔ مگر زیادہ منافع اسے آم کے سیزن میں ہوتا تھا۔ وہ روزانہ منڈی سے آموں کے کریٹ لے آتا۔ ریڑھی پر سجاتا اور پیپل والے چوک میں دوسرے ریڑھی والوں کے ساتھ جا کر کھڑا ہو جاتا۔ شام کو جب گھر آتا تو بچے کھچے آموں پر ایک کپڑا بھگو کر ڈال دیتا۔ لیکن پھر بھی اگلے دن وہ آم گل سڑ جاتے تھے۔ اس کی عادت تھی کہ گلے سڑے آموں کو اچھی طرح صاف کرکے ریڑھی کے نیچے لگا لیتا اور اوپر سارے نئے تازہ اور صاف ستھرے آم سجا دیتا تھا۔ آم تو گاہک خود ہی چنتا تھا مگر اکبر دو چار زیادہ آم ڈال کے ترازو کو جھوک دیتا۔ پھر اوپر والے آم نکال کر بڑی مشاقی سے نیچے پڑے ہوئے گلے ہوئے آم ترازو میں ڈال دیتا تھا۔ اس کی اس چابک دستی کا کبھی گاہک کو پتہ نہ چل سکا۔ اس طرح ہر روز وہ سارے گلے سڑے آم بیچ دیتا تھا۔
چوتھی جماعت میں پڑھنے والا محمد انور وہاں بیٹھا سکول کا کام کر رہا تھا وہ اسے دیکھتے ہی کہتا۔
”ابا! آج پھر تو نے گلے سڑے آم بیچ دیئے ہیں“۔
”ہاں ہاں ابے کے باپ .... گلے سڑے آموں کا میں نے اچار ڈالنا ہے“۔
”ابا!“۔ محمد انور کھڑا ہو جاتا۔” اس روز مسجد میں مولوی صاحب کہہ رہے تھے جھوٹی قسم کھانے سے اور دھوکے سے سودا بچنے سے ناقص مال بھی بک جاتا ہے مگر برکت اڑ جاتی ہے“۔
”اوئے جھلیا....“۔ اکبر کہتا۔ ”یہ سارے وعظ ہم غریبوں کے لئے نہیں ہوتے۔ یہ بڑے بڑے کاروباری لٹیروں کے لئے ہوتے ہیں جو ملاوٹ کرتے ہیں۔ جو کاروبار میں جھوٹ بولتے ہیں۔ جو ناقص سڑکیں بنا کر کروڑوں کماتے ہیں“۔
محمد انور کہتا۔” نہیں ابا! میں نے یہ باتیں اپنے استاد سے بھی سنی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کام چھوٹا ہو یا بڑا اس کی بنیاد دیانتداری پر ہوتی ہے“۔
اکبر کہتا” تو میرا استاد نہ بن، بازارکا مزاج میں جانتا ہوں“۔
محمد انور پھر کہتا ”ابا یہ جو صاف ستھرے آم تو آج بچا کر لے آیا ہے کل تک یہ بھی گل سڑ جائیں گے“۔
”تو کیا ہو گا “۔اکبر کہتا۔” میں کل ان کو بھی بیچ دوں گا“۔
”ابا! “۔محمد انوراصرار کرتا .... ”ابا تو پہلے سارے صاف ستھرے آم بیچ کے دیکھ تجھے اس سے بھی زیادہ منافع ہو گا۔ گلے سڑے آم پھینک دیا کر۔ اللہ تجھ سے خوش ہوگا اور تیرے سودے میں بھی برکت ہو گی“۔
”چپ کر جا ....“ اکبر اس کی طرف ہاتھ اٹھا کر بڑھتا، ” گناہ ثواب بتانے والا، آیا بڑا استاد میرا، چل سکول کا کام کر .... پچھلی مرتبہ تیرے کم نمبر آئے تھے۔ تو اپنی پڑھائی کی طرف دھیان دے....“۔
ہر موسم میں دونوں باپ بیٹا میں یہی تکرار ہوتی۔
”ابا! یہ گنڈیریاں خراب ہو گئی ہیں ان میں سے بو آ رہی ہے تو انہیں گرم پانی میں ڈال کے دھو رہا ہے پھر برف پر رکھ کے بیچ دے گا ابا یہ گناہ ہے....۔
ابا یہ کیلے گل سڑ گئے ہیں باہر گلی میں پھینک دے۔
ابا یہ امرود، ابا یہ انار....“۔
اور اکبر ہمیشہ کہتا” یہ جو باہر بیٹھے تازہ جوس بیچ رہے ہیں۔ کبھی تو نے دیکھا ہے۔ یہ شام کو سارا گلا سڑا پھل سستے داموں اٹھا کے لے آتے ہیں اور فیشن ایبل دکانوں میں اس کا جوس بنا کر بیچ دیتے ہیں۔ کوئی انہیں کچھ نہیں کہتا“۔
”ابا!تو برا کام کرنے والوں کو نہ دیکھا کر ہمیشہ اچھا کام کرنے والوں کی نقل کیا کر“۔ وہ کہتا” بس غریب کا بال بچہ چار جماعتیں پڑھ جائے گھر والوں کا ہی استاد بن بیٹھتا ہے۔ بے وقوف یہ مال میں تیرے لئے بنا رہا ہوں، تاکہ تو جلدی سے جلدی پڑھ لکھ کر بڑا ڈاکٹر بن جائے یہ تیری ماں کی آخری وصیت تھی“۔
محمد انور اس کا اکلوتا بیٹا تھاجس کو بڑا ڈاکٹر بنانے کا وہ خواب دیکھا کرتا تھا۔
پچھلے ہفتے اکبر کو بخار ہو گیا تھا۔ دو دن تو وہ بخار میں ہی منڈی جاتا رہا اور ریڑھی لگاتا رہا۔ تیسرے دن اس کی ہمت جواب دے گئی اور ڈاکٹر نے بھی کہہ دیا کہ یہ ملیریا ہے اگر اس نے آرام اور پرہیز نہ کیا تو ڈینگی میں بدل جائے گا۔
سو اس دن اس نے ریڑھی کو حسب ِمعمول سجایا اورمحمد انور کو بلا کے بڑے پیار سے کہا۔
”پتر محمد انور! تو آج سکول سے چھٹی کر لے آج میں نے بڑے ہسپتال میں ٹیسٹ کرانے کے لئے جانا ہے۔ سنا ہے وہاں سارے ٹیسٹ مفت ہوجاتے ہیں اور دیکھ میری بات یاد رکھنا سارے آم بیچ کے آنا، نیچے والے بھی اور اوپر والے بھی“۔
محمد انور ریڑھی لے گیا شام کو گھر آیا تو تر و تازہ آموں کا سارا ڈھیر بک گیا تھا وہ گلے سڑے آم واپس لے آیا تھا۔
ابھی وہ ریڑھی کو مناسب جگہ پر لگا رہا تھا کہ اکبر اندر سے نکل آیا۔ آموں کودیکھ کر طیش میں آ گیا۔
”نالائق یہ نیچے والے آم سارے واپس لے آیا ہے“۔
”ہاں ابا....“ وہ جیب میں ہاتھ ڈال کے پیسے نکالنے لگا ۔”میں تجھے کہتا تھا کہ سچا سودا بیچنے سے اللہ برکت دیتا ہے“۔
”برکت کے بچے، مجھے سکھاتا ہے ،مجھے پڑھاتا ہے، میں نے تجھے صبح بتایا کہ یہ سارا مال ملا کے پانچ ہزار کا بکے گا اور آج تو میرے منہ پر ....“ اکبر نے مغضوب الغضب ہو کر اس کو مکوں اور گھونسوں سے مارنا شروع کر دیا۔
”ابا میری بات تو سن .... ابا پوری بات تو سن۔ ابا پہلے پیسے تو گن ....“۔ محمد انور مٹھی میں پکڑے نوٹ اس کی طرف بڑھاتا جاتا اور اپنے آپ کو بچاتا بھی جاتا مگر اکبر اس وقت سننے کے موڈ میں نہیں تھا۔ جھنجھوڑ کر اسے اتنی زور سے دھکا دیا کہ اس کا سر سامنے دیوار پر لگی ہوئی لوہے کے پائپ سے جا ٹکرایا اور پیسے اس کے ہاتھ سے گرگئے۔
اکبر نے آگے بڑھ کر پیسے اٹھائے وہ چھ ہزار سے کچھ اوپر تھے....
پیسے گن کر اس نے محمد انور کی طرف دیکھا۔ وہ بڑی مشکل سے اٹھ کر بیٹھا تھا۔ اس کے سر سے خون نکل کر کان پر بہہ رہا تھا۔
اس نے اپنی تکلیف پر قابو پاتے ہوئے اٹک اٹک کر کہا ”ابا! آج ایک گاہک موٹر سے اتر کر آیا تھا اور آتے ہی بولا۔
”بیٹا آج میری ماں کا چالیسواں ہے مجھے اچھے اچھے آم دے دو“۔
میں نے گلے سڑے آم الگ کرکے کہا۔
”صاحب یہ سب بالکل ٹھیک ہیں آپ جتنے چاہیں لے لیں میں تول دیتا ہوں“۔
اس نے کہا۔” تم نے اتنی ایمانداری سے بتا دیا ہے تولنے کی ضرورت نہیں .... بتاﺅ سارے آم کتنے کے ہیں“۔
میں نے کہا۔” گلے سڑے سمیت چھ ہزار کے ہیں۔ ان کو نکال دیں تو چار ہزار کے“۔
مگر وہ کوئی نیک آدمی تھا اس نے کہا ۔؟”میں تمہیں انعام کے طور پر چھ ہزار روپے ہی دوں گا۔
شاباش بیٹا، ہمیشہ سچ بول کر سودا بیچنا“۔
ابا میں نہ کہتا تھا کہ ایمانداری سے .... یہ کہتے کہتے محمد انور بے ہوش ہو گیا“۔
اکبر نوٹ گن چکا تھا اور اپنی جلد بازی پر پچھتا رہا تھا۔ ناحق اس نے بیٹے کو پیٹا۔
جلدی جلدی اس نے بے ہوش بیٹے کو اٹھایا رکشے میں ڈالا ہسپتال کو دوڑا۔
تین دن سے محمد انور سر پر پٹیاں بندھوائے ایمرجنسی وارڈ میں پڑا تھا۔ اسے ہوش نہیں آ رہا تھا ۔ اس کے سر کو ایسی چوٹ لگی تھی ڈاکٹروں نے آپریشن بھی کیا تھا۔ بہت کوشش کی تھی مگر امید کی کوئی کرن نہیں جاگی تھی۔
اکبر نوٹوں کی گٹھڑی گود میں رکھے بولتا جا رہا تھا۔
”پتر محمد انور! تو ایک دفعہ مجھے آواز دے۔ بس ایک دفعہ ابا کہہ دے پتر، میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں آئندہ کبھی گلا سڑا پھل نہ بیچوں گا۔ آئندہ کبھی جھوٹ نہیں بولوں گا....“۔
”قسم کھا تا ہوں غلط سودا نہیں بیچوں گا۔ پتر محمد انور .... میں صدقے جاﺅں ایک بار ابا کہہ دے“۔
وہ خلا میں بیٹھا بولتا جا رہا تھا کہ نرس نے اس کے قریب آ کر کندھا ہلایا۔ وہ کھڑا ہو گیا۔ اس نے سامنے کھڑی ایمبولینس کی طرف اشارہ کیا ۔سفید چادر میں لپٹی ایک لاش ایمبولینس میں رکھی جا رہی تھی۔
نرس بہت آہستہ سے بولی” اپنے بیٹے کو گھر لے جاﺅ۔ جاﺅ تم بھی اس ایمبولینس میں بیٹھ جاﺅ“۔
وہ کافی دیر تک آنکھیں پھاڑے ایمبولینس کو دیکھتا رہا۔ پھر اس نے گود میں پڑی نوٹوں کی گٹھڑی کو دیکھا۔ ساری گڈیاں جھولی میں بھر کے ایمبولینس کے پاس پہنچا۔نوٹوں کی گڈیاں اور سارے نوٹ دیوانہ وار ایمبولینس پر نچھاور کرنے لگا۔ چاروں طرف گھومتا اور نوٹ نچھاور کرتا .... اور کہتا جاتا۔
”پتر محمد انور بس ایک بار مجھے ابا کہہ دے ۔لے میں ساری دولت تجھ پر وارتا ہوں۔ پتر بس مجھے ایک بار ابا کہہ کے بلا لے۔ قسم کھاتا ہوں کبھی ناقص سودا نہیں بیچوں گا .... اللہ کی قسم....“۔
وہ ایمبولینس میں نہیں بیٹھا۔ ایمبولینس آہستہ آہستہ چلتی رہی .... اور وہ اس کے پیچھے بھاگتا رہا۔ نوٹ پھینکتا رہا اور چلاتا رہا۔ ”ابا کہہ .... پتر ابا کہہ کے اٹھ جا .... پتر میں تیرا ابا ہوں پتر بول....“۔
دس برس گزر گئے۔
اس پیپل والے بازار میں روزانہ ایک دیوانہ چھابڑی اٹھا کر آ جاتا ہے۔ اس کے بدن پر دھجیاں لٹک رہی ہوتی ہیں۔ بے ہنگم داڑھی بڑھی ہوئی ہوتی ہے۔ چھابڑی میں اس نے روڑے پتھراور اینٹیں رکھی ہوتی ہیں ساتھ میں ایک ترازو بھی رکھا ہوتا ہے۔
دور سے آواز لگاتا ہے” ابا آ گیا ابا آ گیا سچا سودا لے لو .... سچا سودا لے لو....“۔
سارے بازار والے اپنے آپ ہی اسے ابا کہنے لگ گئے۔ ”ابا کیا حال ہے۔ ابا آج کیا لائے ہو....؟“۔
وہ ایک جگہ بیٹھ جاتا ہے۔ ترازو اٹھا کے اس میں روڑے ڈالتا ہے اور کہتا ہے۔
”ابا کبھی جھوٹ نہیں بولتا۔ ابا جانتا ہے جھوٹی قسم کھانے سے سودا بک جاتا ہے مگر برکت اڑ جاتی ہے“۔ 
ہوا میں بول بول کے پتھر تولتا ہے اور خیالی گاہک کو دے دیتا ہے۔
کبھی کبھی اینٹیں روڑے ترازو میں ڈال کے کسی رکی ہوئی کار کے شیشے کے پاس جا کر کہتا ہے۔
”باجی جی! بالکل سچے آم ہیں۔ ابا کبھی غلط سودا نہیں بیچتا۔ قسم کھانے سے مال بک جاتا ہے۔ مگر محمد انور کہتا ہے....“۔
پھر وہ ڈھائیں مار مار کے رونے لگتا ہے۔ ترازو دور پھینک دیتا ہے۔
موٹرمیں بیٹھی ہوئی خداترس عورت سوکا نوٹ بڑھاتی ہے اورکہتی ہے بچاراپاگل ہے۔
وہ روتے روتے قہقہے لگانے لگتا ہے ”ابا حرام نہیں کھاتا۔ ابا بھیک نہیں لیتا .... تم نے ابا کو کیا سمجھ رکھا ہے۔ کیا ابا پاگل ہے۔ نہیں ابا پاگل نہیں ہے۔ ابا کا پتر محمدانور اس شہر کا بڑا ڈاکٹر ہے۔ ابا آپ کا علاج مفت کرا دے گا۔ ابا بہت بڑے آدمی کا ابا ہے۔ بہت بڑا آدمی اسے ابا کہتا ہے۔
ابا آ گیا .... ابا آ گیا....“۔
وہ پھر چھابڑی اٹھا لیتا ہے۔
”سچا سودا لے لو .... سچا سودا لے لو!“۔

نوٹ:اگر آپ بھی اپنا کوئی کالم،فیچر یا افسانہ ہماری ویب سائٹ پر چلوانا چاہتے ہیں تو اس ای ڈی پر میل کریں۔ای میل آئی ڈی ہے۔۔۔۔

bintehawa727@gmail.com

ہم آپ کے تعاون کے شکر گزار ہوں گے۔

متعلقہ خبریں