کیا ایک فراڈیا اور کرپٹ چیئرمین پی اے سی ۔۔۔۔ ؟ شہباز شریف کے چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی

2018 ,دسمبر 19



لاہور (ویب ڈیسک) آج وہ تینوں میرے سامنے اکٹھی کھڑی تھیں ۔ ورنہ ان ینگ لیڈیز کے ڈیوٹی اوقات مختلف ہیں ۔ میں نے سلام کیا۔ کہنے لگیں: آپ سے بات کرنی ہے ۔ دو کا تعلق ہمارے ناردرن پاکستان سے ہے‘ ایک پنڈی وال پوٹھوہارن۔ اُنہوں نے جو کہا‘ میں سُن کر حیران رہ گیا۔

نامور  سیاستدان اور کالم نگار بابر اعوان اپنے ایک کالم میں  لکھتے  ہیں ۔۔۔۔۔۔درجن بھر سیڑھیوں کے فاصلے پر الیکٹرو جِم (gym ) ہے‘ جہاں ایک پاکستانی بھونڈ نما کالا انگریز روزانہ مغربی سفارت کاروں کو شکار کرنے آ تا ہے ۔ آج وہ بہت پُر جوش لگا ۔ کسی کو کہہ رہا تھا: ایکسی لینسی ہم نے جمہوریت بچا لی ۔ مثبت پارلیمنٹری روایت کے عین مطابق میاں شہباز شریف کو پبلک اکائونٹس کمیٹی کا چیئر مین بنا لیں گے ۔ اس رنگ دار انگریز کی اس انگریزی‘ جو اس کے ضلعے کی زبان میں رنگی ہوئی ہے‘ کے جواب میں انگریز نے کہا:Is he not arrested for fruad and coruption? میں آگے بڑھ گیا۔ روٹین کی ایکسرسائز ختم کر کے گرائونڈ فلور پر پہنچا ‘ جہاں پَری کرسمس پارٹی کے لیے نوجوان جمع تھے ۔ کرسمس ٹری کے ارد گرد ۔ ایک نے سیلفی کے لیے روکا۔ اتنی دیر میں سارے متوجہ ہو گئے ۔ پوچھا: سر، یہ پی اے سی کیا ہوتی ہے۔ میں نے بتایا: 1973 کے آئین میں آرٹیکل 171 کی منشاء سے قومی خزانے یعنی پبلک اکائونٹس کو دیانت داری سے خرچ کرنے اور خرچ کردہ رقوم کا میزانیہ دیکھنے کے لیے یہ کمیٹی قومی اسمبلی کے رولز آف بزنس کے تحت بنائی جاتی ہے ‘ جو کرپشن کو روکنے کے لیے اقدامات کرتی ہے ۔ ایک نوجوان بے پروائی سے بولا: ویل ڈن پارلیمنٹ ‘ اب تمہارے احتساب کے اجلاس کی صدارت کرنے لیے اڈیالہ جیل سے قومی خزانے سے فراڈ میں ملوث حوالاتی بلایا جا ئے گا ۔ پتا نہیں کہاں سے اُٹھ کے آ جاتے ہیں جمہوریت کے وڈے داماد۔ میں پھر آ گے بڑھ گیا۔کبھی تو بیعت فروخت کر دی کبھی فصیلیں فروخت کر دیں ۔۔۔فرات اپنے بچا کے رکھے میری سبیلیں فروخت کر دیں۔ (ش س م) 
 

 

متعلقہ خبریں