کتابیں، شواہد اور عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ چند ہی دنوں میں ڈھاکہ اور دوسرے شہروں میں قتل و غارت کا ایسا بازار گرم ہوا کہ

2018 ,دسمبر 15



لاہور (ویب ڈیسک) 16 دسمبر قریب آتا ہے تو پاکستان ٹوٹنے کا زخم ہرا ہو جاتا ہے۔ ذاتی غم اور صدمے برداشت کرنے اور چھپانے کے لئے ہوتے ہیں جبکہ قومی المیے غور و فکر کرنے اور سبق سیکھنے کا سامان ہوتے ہیں۔ ’’پاکستان کیوں ٹوٹا‘‘ اس موضوع پہ میری کتاب ہے 

جس پر میں نے کئی برسوں تک محنت اور تحقیق کی۔ کالم محض ایک آدھ پہلو کا احاطہ ہی کر سکتا ہے۔ 1971ء میں قومی اسمبلی کے اجلاس کا التوا اگلی تاریخ دیئے بغیر ایسی غلطی تھی جس نے مشرقی پاکستان کے گلی کوچوں میں بغاوت کی آگ لگا دی۔ کتابیں، شواہد اور عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ چند ہی دنوں میں ڈھاکہ اور دوسرے شہروں میں قتل و غارت کا ایسا بازار گرم ہوا کہ گلیوں اور بازاروں میں لاشیں ہی لاشیں نظر آتی تھیں۔ گویا انسان کی حیوانیت اپنے عروج پر پہنچ چکی تھی۔ مغربی پاکستانیوں کے قتل و غارت کو روکنے اور بغاوت کے شعلوں پر قابو پانے کے لئے آرمی ایکشن کا سہارا لینا پڑا لیکن ایک غلط فیصلہ کئی غلط فیصلوں کا موجب بنتا ہے اور پھر حالات و معاملات پر قابو نہیں رہتا۔ آرمی ایکشن کا آغاز ہوا تو بھٹو ڈھاکہ میں تھے۔ ان کی کتاب ’’گریٹ ٹریجڈی‘‘ کے مطابق انہوں نے ڈھاکہ میں فائرنگ کی خوفناک آوازیں اور بلند ہوتے آگ کے شعلے فائیو اسٹار ہوٹل کی کھڑکیوں سے دیکھے۔ بقول ولی خان بھٹو اور یحییٰ خان میں سمجھوتہ ہو چکا تھا اور سب کچھ ان کی اشیرباد سے ہو رہا تھا۔ چنانچہ بھٹو جب 26مارچ 1971ء کو کراچی پہنچے تو 

انہوں نے ہوائی اڈے پر بیان دیا ’’اللہ کا شکر ہے پاکستان کو بچا لیا گیا ہے۔‘‘ یحییٰ خان سے وفاداری کے تقاضے نبھاتے ہوئے انہوں نے کہا ’’یہ ہر محب وطن پاکستانی کا فرض ہے کہ اگر وہ کسی کو یحییٰ حکومت پر تنقید کرتے دیکھے تو قریبی تھانے میں رپورٹ دے۔ ‘‘ (ہفت روزہ کرنٹ کراچی بحوالہ پاکستان ڈیوائیڈڈ مصنف ڈاکٹر صفدر محمود صفحہ نمبر 109)۔ سیاستدان کس قدر شاطر اور مطلب پرست ہوتا ہے اس کا اندازہ سیاستدانوں کی سیاست دیکھ کر ہی ہوتا ہے۔ بھٹو ایک ذہین اور شاطر سیاستدان تھے اور اپنے مقاصد کی راہ تراشنے کا فن خوب جانتے تھے۔ ایوبی مارشل لاء سے تھوڑا عرصہ قبل انہوں نے صدر پاکستان اسکندر مرزا کو عظمت کے پہاڑ پر بٹھاتے ہوئے لکھا تھا کہ جب مورخ پاکستان کی تاریخ لکھے گا تو آپ کو قائد اعظم سے بھی بلند مرتبے پر فائز کرے گا۔ بھٹو انگلستان و امریکہ سے تعلیم یافتہ تھے اور قانون کے ماہر ہونے کے علاوہ تاریخ کا گہرا ادراک رکھتے تھے۔ یہ تاریخ کا ادراک ہی تھا کہ انہوں نے ضیاء الحق سے معافی مانگنے کے بجائے پھانسی قبول کر لی تاکہ وہ تاریخ میں زندہ رہیں اور قبر سے ملک پر حکمرانی کرتے رہیں۔ 

ویسے اگر آپ اپنی حالیہ تاریخ پر نظر ڈالیں تو حیرت نہیں ہو گی کیونکہ پاکستان میں لیڈر معافی مانگ کر بھی قومی ہیرو بن سکتا ہے اور کروڑوں ووٹ لے سکتا ہے۔ اسے آپ پاکستانی قوم کی فراخ دلی اور عفو و درگزر کی عادت کہہ لیجئے۔ کیا بھٹو کو علم نہیں تھا کہ مشرقی پاکستان میں آرمی ایکشن کا مطلب مشرقی پاکستان کی علیحدگی اور پاکستان کا دولخت ہونا ہے؟ اسی لہر میں بہتے ہوئے یہ بھی پوچھنے کو جی چاہتا ہے کہ کیا بھٹو سچ مچ اس قدر معصوم اور تاریخ سے نابلد تھے کہ انہوں نے اسکندر مرزا جیسے بیوروکریٹ صدر اور سازشوں کی پیداوار شخصیت کو قائد اعظم سے بھی بڑا لیڈر قرار دے دیا تھا۔ جی نہیں۔ بھٹو نہایت ذہین انسان تھے۔ وہ مطالعے کے رسیا اور حافظے کے ’’حافظ‘‘ تھے۔ وہ اپنی منزل کے حصول کے لئے راستہ بنانا اور چٹانوں کو تراشنا جانتے تھے۔ انہوں نے اسکندر مرزا کی خوشامد کر کے مرکزی کابینہ میں وزارت حاصل کر لی اور پھر ایوبی کابینہ میں بھی اپنی کرسی پر براجمان رہے۔ موقع ملا تو بھٹو نے ایوب خان کو ڈیڈی بنا لیا اور اس کے قریب ترین ٹھہرے۔ ایوب خان کے فوجی عہد حکومت میں طویل عرصے تک وزارت کرنے کے بعد وہ یقیناً فوجی ذہن کو خوب سمجھتے تھے،

 انہیں فوجی حکمرانوں کو شیشے میں اتارنا آتا تھا، وہ فوجی حکمرانوں کے سیاسی شعور کی گہرائی سے خوف واقف تھے۔ چنانچہ 26مارچ 1971ء کو یحییٰ خان سے وفاداری اقتدار کی منزل کی جانب ایک اہم قدم تھا کیونکہ بھٹو سمجھتے تھے کہ فوجی ایکشن کے بعد پاکستان متحد نہیں رہ سکے گا اور ’’اِدھر ہم اُدھر تم‘‘ کا خواب شرمندہ تعبیر ہو جائے گا۔ آرمی ایکشن کے بعد یحییٰ خان سیاسی طور پر تنہا ہو چکا تھا اس لئے اس کی قربت صرف حمایت و وفاداری سے حاصل کی جا سکتی تھی۔ بھٹو جانتا تھا کہ یہی قربت اقتدار کا راستہ ہموار کرے گی۔ بھٹو چاہتا تو ضیاء الحق سے بھی معاملات طے کر سکتا تھا لیکن اگر آپ اس زمانے کی سیاست کا بغور مطالعہ کریں تو اندازہ ہو گا کہ اس سمجھوتے کی راہ میں بھٹو کا غرور اور اَنا رکاوٹ بنے۔ وزارتِ عظمیٰ اور جیالوں کی جذباتی لگن نے بھٹو میں ہیروشپ کا احساس بیدار کر دیا تھا اور ملکی و بین الاقوامی سطح پر کامیابیوں اور دراز سیاسی قد نے انہیں غرور میں مبتلا کر دیا تھا۔ ضیاء الحق کو اُس نے خود آرمی چیف بنایا تھا کیونکہ وہ ضیاء الحق کی وفاداری اور خوشامد سے متاثر تھا۔ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ 

ضیاء الحق بھٹو سے زیادہ شاطر تھا اور وہ اپنے مقصد کے حصول کے لئے بھٹو کو وفاداری کے فریب میں مبتلا کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ مگر جنرل چشتی کو یقین ہے کہ جنرل ضیاء الحق بھٹو کا ممنون تھا۔ وہ دشمن اس دن بنا جس دن بھٹو نے رہائی کے بعد لاہور میں عوامی خطاب کے دوران کہا کہ وہ دوبارہ اقتدار میں آ کر جرنیلوں کو پھانسی چڑھائے گا۔ اس روز آرمی چیف اور چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جنرل ضیاء الحق کورکمانڈر جنرل چشتی کے گھر میں تھا۔ بقول جنرل چشتی یہ بیان سنتے ہی اس کا رنگ بدل گیا اور رنگ کے ساتھ ارادے بھی بدل گئے۔ بقول جنرل چشتی جنرل ضیاء الحق بار بار کہتا رہا ’’ایسا نہیں ہو سکتا، ایسا نہیں ہو سکتا۔‘‘ یہ فقرہ اس کی باطنی تبدیلی کا سب سے بڑا مظہر تھا۔ بھٹو غرور و اعتماد کے نشے میں چور یہ سمجھنے میں ناکام رہا کہ جرنیلوں کی پہلی وفاداری فوج سے ہوتی ہے نہ کہ حکمرانوں سے۔ تاریخ کی یہ سرگوشی سننے کے لائق ہے کہ جرنیل ہمیشہ سیاستدانوں سے تھوڑے بہت بدظن رہتے ہیں اور ان پر کم کم ہی اعتماد کرتے ہیں۔ میرے مطالعے اور مشاہدے کے مطابق اس میں سیاستدانوں کا قصور زیادہ ہے۔

آرمی ایکشن کے نتیجے میں مشرقی پاکستان میں مزید خون بہا کیونکہ جب بغاوت کے مراکز پر حملہ کیا گیا تو جنگ کا سماں پیدا ہو گیا۔ بے شمار بنگالی خاندان اور خاص طور پر نوجوان بارڈر کراس کر کے ہندوستان چلے گئے۔ ہندوستان اس صورتحال اور بغاوت کی پھیلتی آگ کو نہ صرف بغور دیکھ رہا تھا بلکہ خفیہ مدد بھی کر رہا تھا۔ اس کی تفصیل میری کتاب میں پڑھی جا سکتی ہے۔ ہندوستان نے پاکستان کے بحران سے خوب فائدہ اٹھایا۔ ایک طرف بنگالی نوجوانوں کو مکتی باہنی کا نام دے کر فوجی تربیت دینا شروع کر دی اور دوسری طرف اپنی ماہر پبلسٹی مشین سے دنیا بھر میں پاکستان آرمی کے مظالم اور قتل و غارت کو مبالغہ آمیز انداز میں اس منظم طریقے سے پیش کیا کہ عالمی رائے عامہ پاکستان کے خلاف ہو گئی اور بنگلہ دیش کے قیام سے ہمدردی کا اظہار کرنے لگی۔ ہندوستانی پروپیگنڈے میں مغربی پاکستانی فوجیوں، افسران اور دوسرے شہریوں کا بنگالیوں کے ہاتھوں قتل عام دب کر رہ گیا۔ چنانچہ سقوط مشرقی پاکستان کے بعد جب مجیب الرحمٰن رہا ہو کر ڈھاکہ پہنچا تو اس نے اعلان کیا کہ پاکستانی فوج نے 30لاکھ (تھری ملین) بنگالیوں کو گولیوں کا نشانہ بنایا۔ مجیب الرحمٰن کے جھوٹے دعوے اور ہندوستان کے زیر اثر عالمی پریس کے مبالغہ آمیز اعداد و شمار کا بھانڈا ایک بنگالی خاتون محقق شرمیلا بوس نے اپنی کتاب DEAD RECKONINGمیں پھوڑا ہے اور تحقیق سے ثابت کیا ہے کہ یہ سب جھوٹ تھا۔ آرمی ایکشن میں زیادہ سے زیادہ ساڑھے چار ہزار بنگالی قتل ہوئے۔ یہ کتاب پڑھنے کے لائق ہے مگر افسوس ابھی تک اس کا اردو ترجمہ نہیں ہوا کہ عوام تک پہنچ سکے۔ (ش س م) 
 

 

متعلقہ خبریں