ملائیشیا میں کچھ عرصہ قبل 40 فیصد لوگ مسجدوں میں نماز پڑھنے نہیں آتے تھے ، پھر حکومت نے ایسا شاندار قدم اٹھایا کہ چند دنوں میں مسجدیں نمازیوں سے بھر گئیں

2018 ,دسمبر 15



لاہور  (ویب ڈیسک) دبئی کے ایک ہوٹل میں کچھ لوگ ٹھہرے تھے۔ نماز کا وقت ہو گیا۔ لوگوں نے سوچا کہ باہر شدید گرمی ہے۔ لابی میں ہی جماعت کر لیتے ہیں۔ ایک اچھی سی محراب والی جگہ بھی مل گئی۔ اس میں ایک امام کھڑے ہوگئے۔ پیچھے جماعت نے نیت باندھ لی۔ 

نامور  کالم نگار علی عمران جونیئر  اپنے  ایک کالم میں  لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔عین رکعت کے درمیان امام نظروں سے اوجھل ہوگئے۔ نمازی ششدر رہ گئے۔ پھر وہ رکوع کراتے نظر آئے۔ اور پھر سجدے میں پھر نظروں سے غائب۔ حتی کہ ان کا مصلی بھی روپوش ہو گیا۔ لوگوں نے سوچا یار اتنے با کرامت بزرگ ہمارے درمیان موجود ہیں۔ ہمیں پتہ ہی نہیں تھا۔ زمان و مکاں کی حدود سے آزاد معلوم ہوتے ہیں۔ بس کبھی وہ آجاتے اور رکعت شروع کرواکے اوجھل ہوجاتے۔ جب آخر کار نماز ختم ہوئی تو مقتدیوں نے کہا۔۔ حضرت آج آپ کا راز فاش ہو گیا ہے تو یہ بتادیں یہ کیا کرامت ہے؟ بزرگ نے فرمایا۔۔ نامعقول لوگ بار بار لفٹ کا بٹن دبا رہے تھے۔۔ اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔انڈونیشیا میں حکومتی سطح پر مساجد کا سروے کیا گیا تو معلوم ہوا تقریبا %40 فیصد لوگ مسجد میں نماز پڑھنے نہیں آتے اسکی وجہ یا تو وہ نماز ہی نہیں پڑھتے یا نماز تو پڑھتے ہیں مگر گھروں میں پڑھتے ہیں پھر مزید تحقیق کی گئی تو پتہ چلا اصل وجہ آج کے دور میں سب سے بڑی نحوست انٹرنیٹ ہے جس نے نوجوان نسل کو اس قدر مصروف رکھا ہے کہ دس پندرہ منٹ نکال کر مسجد کا رخ کرنا ہی مشکل ہو چکا ہے۔  اس لئے پوری سوچ و بچار کے بعد انڈونشیا کی حکومت نے اعلان کیا کہ ملک کے تمام شہروں میں مقامی وقت کے مطابق نماز کے اوقات میں تقریبا آدھا گھنٹہ انٹرنیٹ سروسز یعنی تھری جی،فورجی کو بند کردیا جائے تاکہ عوام ان فرصت کے لمحات میں مساجد کا رخ کر سکے اور اسکے ساتھ مدارس کے کلاسز کی اوقات میں بھی انٹرنیٹ سسٹم کو بدستور معطل کیا جائے گا اور بڑی بات یہ ہے کہ کوئی بھی اس فیصلے کے خلاف نہیں سب نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا، اور اب مساجد میں نمازیوں کا رش لگاہوتا ہے۔۔ تبدیلی صرف قرآن سے اور نماز سے بس۔(ش س م) 
 

 

متعلقہ خبریں