وحشت دل کی آوارگی

2017 ,اکتوبر 27



بہت سے دوستوں نے زندگی سے تنگ آ جانے والے سٹیٹس کے جواب میں مذہب کے قریب ہونے کا مشورہ دیا ہے ۔ سر آپ کے مشورہ سے اتفاق کرتا ہوں لیکن مذہب میرا اور خدا کا معاملہ ہے ۔ میں جانتا ہوں وہ میرے کتنا قریب ہے ۔ میں دور جاتا ہوں تو وہ مجھے کان سے پکڑ کر اپنے پاس لے آتا ہے اور پھر کہتا ہے ، ابے کدھر گیا تھا ؟ چل ادھر ٹک کر بیٹھ ۔ کچھ چاہئے تو مجھے بتا ، وہ شیطان تیری پھوپھو کا بیٹا ہے جس کے پاس جاتا ہے؟ شاید وہ مالک میری تمام تر خامیوں کے باوجود میرے والدین کی عبادتوں کا خیال رکھتا ہے ۔ زندگی سے تنگ آ نے کا مطلب خودکشی ہر گز نہیں ہوتا ۔یہ میری بےچین طبیعت کا خاصہ ہے ۔ یقینا میں بہت زیادہ مذہبی نہیں ہوں لیکن آپ اس حافظ قرآن کو بالکل ہی مذہب سے دور ہونا کیسے سمجھ سکتے ہیں جس کے گھر صبح کا مطلب رات 2 بجے ہے۔ میں 1 بجے گھر جاؤں تو دادی جی سجدے میں ملتی ہیں ۔ 2 بجے والد حضور تہجد کے لیے جاگ جاتے ہیں ڈھائی بجے کے قریب والدہ جبکہ ساڑھے تین بجے تک میرے چھوٹے بھائی بھی اٹھ چکے ہوتے ہیں ، میں نے بچپن سے اپنے گھر کا یہی معمول دیکھا ہے ، تہجد کے بعد چائے کے ساتھ رس کھائے جاتے ہیں پھر فجر تک وظائف اور تلاوت قرآن پاک کا وقت ہے اور فجر کے بعد سونے کا تصور نہیں ہے۔ البتہ میں مذہبی قائدین اور تنظیموں سے متنفر ہو چکا ہوں شاید اس لئے بھی کہ بہت سو سے زیادہ انہیں قریب سے جان چکا ہوں ۔ کل کی مثال لیجئے ۔ کل شام خبر ملی کہ فیصل آباد میں لبیک تحریک والوں نے سڑک بلاک کر رکھی ہے ۔ وجہ یہ تھی کہ ان کے بینرز پی ایچ اے والوں نے اتار دیے تھے اور وہ بینر اتارنے والوں کے خلاف مقدمہ درج کروانا چاہتے تھے۔ میں نے ذمہ داران سے بھی رابطہ کیا اور پولیس سے بھی معلومات لیں ۔ سچ کہوں تو اس حرکت پر لبیک والوں کے خلاف مقدمہ درج ہونا چاہیے تھا اور اسی سڑک پر انہیں چھتر بھی پڑنے چاہیے تھے جو میرے نبی سے نسبت جوڑ کر جرم کر رہے تھے ۔ صورت حال یہ تھی کہ انہوں نے پی ایچ اے کی بینر فیس ادا نہیں کی تھی۔ اس طرح فیس ادا کئے بنا بینر لگانا جرم ہے جو اتار لئے جاتے ہیں ۔ یہاں فیس ادا نہ کی گئی ہو تو حکمران جماعت کے بینر بھی اتر جاتے ہیں یہ الگ بات ہے کہ سرکاری محکموں کی جانب سے جو بینر لگائے جائیں اس کی سرکاری فنڈ سے فیس ادا کر دی جاتی ہے لہذا وہ بینر ہمیں چند روز تک لگے ملتے ہیں ۔ بہرحال یہ بھی سچ ہے کہ میں جرائم کی اس بستی میں رہتا ہوں جہاں نبی کو لبیک کہنے والے پہلے سینہ زوری کرتے ہیں ، ریاست کے قوانین توڑتے ہیں ، فیس ادا کرنے سے انکار کرتے ہیں اور پھر اگر روٹین کے مطابق ان کے بینر اتارے جائیں تو باقاعدہ غنڈہ گردی کرتے ہیں ۔ فرض ادا کرنے والے ملازمین کے خلاف مقدمہ درج کرنے اور انہیں گرفتار کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں ۔ جب پولیس بتاتی ہے کہ فرض کی ادائیگی پر کسی کے خلاف مقدمہ درج نہیں ہو سکتا تو تھانے کا بھی گھیرائو کر لیتے ہیں ۔ محترم لبیک والو! کیا آپ جانتے ہیں اس گناہ گار نے کس استاد سے قرآن حفظ کیا تھا ؟ قاری یوسف حقانی نام ہے اس ولی کا جسے میں نے آج تک کبھی جھوٹ بولتے بھی نہیں سنا کوئی جرم تو بہت دور کی بات ہے ۔ شاید آپ کو حیرت بھی نہ ہو کہ آپ گالیوں کا دفاع کرنا بھی سیکھ چکے ہیں لیکن مجھے آج بھی حیرت ہوتی ہے کہ اس دور غفلت میں کوئی عالم دین کیسے زندہ ہے جو جھوٹ تک نہیں بولتا کہ خدا ناراض ہو گا ۔ میں ان کے کردار کو دیکھتا ہوں اور پھر موجودہ مذہبی راہنمائوں اور ان کے فالورز کے کردار کو دیکھتا ہوں تو مجھے غیر مذہبی سیاسی جماعتیں اچھی لگنے لگتی ہیں کہ کم از کم خدا اور نبی کے نام پر تو جھوٹ نہیں بول رہیں ۔ جہاں تک زندگی سے تنگ آنے والی بات ہے تو یہ ایک حقیقت ہے ۔ آپ کہتے ہیں مذہب کے قریب ہو جائو لیکن جب میں مذہب کو قریب سے دیکھتا ہوں تو مجھے اس کمینی دنیا سے نفرت ہونے لگتی ہے ۔ زندگی کا کوئی خاص مقصد نظر نہیں آتا۔ مجھے آپ کے نظریات باطل لگنے لگتے ہیں اور مجھے خاص طور پر مذہبی جماعتوں اور قائدین سے نفرت ہونے لگتی ہے حالانکہ ان میں سے کئی ایک میرے بہت اچھے دوست ہیں ۔ خدا نے شاید مجھے بے چین فطرت سے نواز دیا ہے ۔ میں نے سکول کے دور میں بھی کبھی گرمیوں کی چھٹیوں میں چھٹیاں نہیں کیں بلکہ کوئی نہ کوئی کورس کرتا رہا ہوں ۔ پرانی ٹکٹوں کا شوق چرایا تو کئی نایاب ٹکٹوں تک رسائی حاصل کی ، پرانے سکے اکٹھے کرنے لگا تو متحدہ ہندوستان تک کے سکے حاصل کئے ۔ مارشل آرٹ سیکھی ، میجک سیکھا ، خطاطی سیکھی اور ایسے ہی کئی کام سیکھے ۔ پروفیشنل زندگی میں کالم نگاری ، فیچر رائیٹنگ ، میڈیا سیلز ، سکرپٹ رائیٹنگ ، تنظیموں اور یونین کے الیکشن ، پریس کلب کی کمیٹی کی رکنیت اور پھر کیفے درویش تک کا سفر اسی وجہ سے ہے ۔ وجہ یہ نہیں تھی کہ مجھے ان کی کوئی خاص ضرورت تھی یا کسی نے سر پر پستول رکھ دی تھی کہ یہی سب کرنا ہے بلکہ وجہ وہی تھی کہ ایک خاص عرصہ کے بعد میں زندگی کی روٹین سے تنگ آ جاتا ہوں ۔ اگر زندگی میں تبدیلی نہ آئے ، کچھ نئی مصروفیت نہ ملے تو مجھے وحشت ہونے لگتی ہے ۔ اور ان دنوں ایک بار پر 16 گھنٹے کی طے شدہ مصروفیت کے باوجود مجھے زندگی بور لگنے لگی ہے

(سید بدر سعید)

نوٹ:اگر آپ بھی اپنا کوئی کالم،فیچر یا افسانہ ہماری ویب سائٹ پر چلوانا چاہتے ہیں تو اس ای ڈی پر میل کریں۔ای میل آئی ڈی ہے۔۔۔۔

bintehawa727@gmail.com

ہم آپ کے تعاون کے شکر گزار ہوں گے۔

متعلقہ خبریں