للیتا، خانانی اور کالیئے

2016 ,دسمبر 7

فضل حسین اعوان

فضل حسین اعوان

شفق

awan368@yahoo.com



کالم نگار  |  فضل حسین اعوان....شفق

لاہور کی تاریخی بادشاہی مسجد کے سائے میں ایک چھوٹی بے نام اور بے آباد سی مسجد بھی ہے۔ گناہوں کی بستی میں مسجد کا کیا کام؟ بہرحال کسی نے بنوا دی۔ گاﺅں سے مولوی صاحب شہر آئے تو اس مسجد کو اپنا ٹھکانہ بنایا۔

ایک روز ایک خاتون اپنے پانچ بچوں کو مولوی صاحب کے پاس تعلیم کے لئے چھوڑ گئی۔ اس گھر سے مولانا کے لئے کبھی کھانا بھی آ جاتا تھا۔ محلے میں شیداں کنجری کے نام سے جانی جاتی تھی۔

خاتون نے اپنا نام شیداں بتایا تھا۔ ایک روز شیداں نے مولوی صاحب سے فتوی مانگا کہ وہ اپنی ”نیک کمائی“ سے حج کرنا چاہتی ہے۔ مولوی صاحب نے کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے اپنے علم کے مطابق کہا کہ اس پیشے کی کمائی سے حج نہیں ہو سکتا۔ اس پر شیداں بڑی آزردہ ہوئی۔ اسی سال ایسا سبب بنا کہ مولوی صاحب اور اہلیہ حج پر گئے۔ وہاں بھگدڑ مچی مولوی کہاں اور اہلیہ کہاں۔ دھکم پیل میں محترمہ زمین پر گری، اٹھنا ناممکن اور موت یقینی تھی۔ اسی دوران ایک عورت بجلی کی سی تیزی سے لپکی، اسے اچکا اور کھڑی کر دیا۔ بیوی نے حیرانگی سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا.... ”شیداں تو کہاں!“۔ شیداں نے اسے اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ وہ مولوی صاحب جا رہے ہیں، آپ ان کے ساتھ جائیں، الگ الگ ہو گئے تو پریشانی ہو گی، میں تیرے ساتھ نہیں جا سکتی مولوی صاحب ناراض ہوں گے۔ مولانا کو اہلیہ نے سارا ماجرا بتایا تو انہوں نے لاحول پڑھتے ہوئے کہا.... ”مورکھ پھر بھی حج پر چلی آئی“۔ فریضہ کے بعد دونوں پہلی پرواز سے لاہور آ گئے۔ گھر میں داخل ہوئے ہی تھے کہ کسی نے بتایا ”شیداں کنجری قتل ہو گئی“۔ میاں بیوی نے حیرانگی سے اور سراسیمگی میں ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ ساتھ ہی یہ بھی پتہ چلا کہ وہ حج کے لئے جمع پیسے کسی خیراتی ادارے کو دینے جا رہی تھی کہ وقوعہ ہو گیا۔ مولوی کی اہلیہ کی زبان سے بے ساختہ نکلا، ”شیداں یہ ہے تو وہ کون تھی؟“۔ مولوی صاحب بھی بے ساختہ کہہ اٹھے.... ”اللہ اکبر“۔ اور ساتھ ہی پانچوں بچوں کو اپنے سایہ عاطفت میں لے لیا۔

گزشتہ دنوں خانانی اینڈ کالیا منی ایکسچینج کے مالک جاوید خانانی نے زیر تعمیر گھر کی بالائی منزل سے چھلانگ لگا کر خودکشی کر لی، یہ قتل یا حادثہ بھی ہو سکتا ہے مگر وہ موت کی لکیر پار کر گئے۔ انہوں نے منی لانڈرنگ میں بڑا نام کمایا‘ انکے بھائی الطاف خانانی گزشتہ سال امریکہ میں منی لانڈرنگ پر پکڑے گئے تھے۔ ان کو 20 سال قید اور اڑھائی لاکھ ڈالر جرمانہ ہوا تھا۔ اصل ملزم پر پاکستان میں ابھی تحقیقات ہو رہی ہے کہ ان کا دم نکل گیا۔ کیا کام آئی ان کی دولت کی ریل پیل؟

بھارتی ریاست تامل ناڈو کی وزیراعلیٰ جے للیتا جے رام چل بسیں۔ اونپئر سلوام کوانکی جگہ وزیراعلیٰ بنادیا گیا، جے للیتا کے انتقال پر سینکڑوں افراد دھاڑیں مار مار کر روتے ہوئے سڑکوں اور گلیوں میں نکل آئے اپالو ہسپتال جہاں وہ داخل تھیں کے باہر بال نوچتی اور روتی ہوئی خواتین کا جم غفیر جمع ہو گیا۔ جے للیتا اپنی والدہ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اداکارہ کی حیثیت سے تامل فلموں میں 60 کی دہائی میں قدم رکھا اور اس وقت کے مشہور ہیرو ایم جی رام چندرن کے ساتھ پہلی مرتبہ ہیروئن آئیں۔ جی رام چندرن نے ڈی ایم کے کے نام سے سیاسی جماعت بنائی اور تامل ناڈو کے وزیراعلیٰ منتخب ہوئے توانہوں نے جے للیتا کو سیاست میں کھینچ لیا۔ للیتا نے 87 میں جی رام چندرن کے مرنے کے بعد پارٹی کا کنٹرول حاصل کیا۔ وہ غریب عوام کے لئے کئی فلاحی سکیمیں متعارف کرانے کے باعث ہر دلعزیز شخصیت بن گئیں۔ لوگ انہیں اماں کہنے اور دیوی کی طرح پوجنے لگے۔ وہ پانچ بار وزیراعلی بنیں۔

ا±ن کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ انتخابات کے دنوں میں لوگوں کو مختلف تحائف جیسے الیکٹرانک بلینڈر، بکریاں، سونے کے زیورات تک تقسیم کرتی تھیں۔جے للیتا پر کئی بار بدعنوانی کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ ان الزامات کی وجہ سے جب ستمبر 2014 میں انھیں وزیر اعلی کے عہدے سے مستعفی ہونا پڑا تو انکے جانشین اونپئر سلوام نے وزیر اعلی کا عہدہ تو عارضی طور پرسنبھالا لیکن انکی کرسی پر بیٹھنے سے انکار کردیا تھا۔جے للیتا کی زندگی میں بہت سے نشیب و فراز آئے۔ کبھی جیل تو کبھی شاندار انتخابی کامیابیاں، انہیں شاید ایک ایسے حکمراں کے طور پر یاد کیا جائےگا جس کی سیاسی زندگی بھی فلمی تھی۔

ملک ریاض حسین کھرب پتی شخصیت ہیں وہ زندگی میں دو نمبریوں کا اعتراف کرتے ہیں ان کی شخصیت کا خیر خیرات کرنے کا پہلو بھی اہم ہے۔ ان کا ہاتھ کتنا کھلا ہے‘ اس کا اندازہ پاکستان کے امیر ترین آدمی آصف زرداری کو بحریہ ٹاﺅن میں کئی ایکڑ پر محیط محل بنا کر دینے سے لگایا جا سکتا ہے۔ کئی شہریوں میں ملک ریاض نے دسترخوان کھول رکھے ہیں۔ لاہور میں تکمیل کے بعد کراچی میں عظیم الشان مسجد کی تعمیر جاری ہے۔

آصف زرداری کی کھربوں ڈالر کی جائیداد انکی خاندانی وراثت سے لگا نہیں کھاتی۔ اگر یہ جائز بھی ہے تو کہاں لے جائیں گے۔ ادھر دوسرے امیر ترین آدمی میاں نواز شریف ہیں انکے بچے کہتے ہیں کہ 93 اور 96 میں لندن کے فلیٹ خریدے۔ انکی مالیت بھی اربوں میں ہے۔ شریف فیملی کی دولت کا بھی شمار نہیں۔ جائز یا ناجائز کی بحث کو ایک طرف رکھتے ہیں۔ آخر دولت کے انبار ان لوگوں نے کہاں لے جانے ہیں؟ پاکستان میں ایسے دولت مند حضرات لاتعداد ہیں۔ان میں مخیر حضرات بھی ہیں مگر بڑے مذکورہ خاندانوں کی طرف سے اپنی جیب سے عوامی منصوبوں کی تعمیر کی کبھی خبر سننے میں نہیں آئی۔ ایک خیرات میں محل لے لیتا ہے تو دوسرا ہسپتال کیلئے 525 بی ایم ڈبلیو منگوا لیتا ہے۔ تفصیلات رحمت شاہ آفریدی کے پاس ہیں۔

آپ کے پاس بم پروف اور بلٹ پروف گاڑیاں ہیں۔ زلزلہ پروف عمارتوں میں رہتے ہیں مگر ابھی تک موت پروف گاڑی بنی ہے نہ عمارت تعمیر ہوئی ہے۔ کراچی کے ریجنٹ پلازہ ہوٹل جیسا محفوظ ہوٹل کون سا ہو گا۔ اس میں جس طرح آگ لگی اور 12 افراد مارے گئے ایسا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا۔ حکمران ملک کو اٰپنی فیکٹریوں جیسی بھی اہمیت نہیں دیتے۔ سعید الزماں صدیقی کو گورنر لگا دیا وہ حلف برداری کے بعد آئی سی یو میں ہیں۔ دراصل ہر انسان آئی سی یو میں ہے۔ کائنات کو بنے 25 کروڑ سال ہو گئے ہیں اس میں سو سال کی زندگی کی بھی کیا اہمیت اور حیثیت ہے؟ آخر ایک دن اس دنیا سے جانا ہے۔ للیتا اپنے لوگوں میں محترم ہے۔ ملک ریاض کے کام ان کوزندہ رکھیں گے۔ زرداری دبئی میں جلا وطن بیٹھے ہیں ان کو کوئی پوچھتا نہیں۔ نوازشریف جدہ گئے تو مسلم لیگ ن، ق لیگ میں ڈھل گئی۔ اب بھی ایسا مرحلہ آیا تو خود شریف خاندان تنہا نظر آئےگا۔ آج ان کے درباری ماضی میں کسی اور کے تھے مستقبل میںجس کا دربار ہو گا اس میں خدمت گار ہوںگے۔ اپنے جائز اثاثے ہی سہی عوامی ملکیت بنا دیں تو لوگ پوجا کرینگے۔ ورنہ تو میاں صاحب کہتے ہیں پیچھے مڑ کر دیکھا تو کوئی بھی نہیں تھا۔

 

متعلقہ خبریں