یادگار پُر خطر سفر...کالم فضل حسین اعوان

2018 ,مارچ 30



یادگار پُر خطر سفر
دنیا کی بلند ترین عمارت کی 125ویں منزل پر موجود دو سردار علم، حکمت اور دانش کے موتی بکھیر رہے تھے۔ تعلق غالباً انڈیا سے تھا۔ گفتگو سے باپ بیٹا لگتے تھے۔ مجھے انکے پنجابی بولنے سے دلچسپی تھی۔ باتیں ذرا غور سے سنیں تو زیادہ ہی دلچسپ لگیں۔ یہ دبئی کے برج الخلیفہ کی 162 میں سے 125 منزل تھی۔
نوجوان نے پوچھا ۔’’باپو! مجھے برج الخلیفہ نظر نہیں آ رہا‘‘۔ باپو نے باہر ادھر ادھر جھانکتے ہوئے کہا ۔’’پُت مجھے بھی نظر نہیں آ رہا‘‘۔ تھوڑی دیر سوچا، جیپ سے ٹکٹ نکالا اور دیکھتے ہوئے بولا ’’ہم برج الخلیفہ پر ہی کھڑے ہیں، نیچے دیکھو گاڑیاں کیڑی کی طرح چلتی دکھائی دیتی ہیں‘‘۔ دونوں نے شیشے کے ساتھ ماتھا ٹکا لیا اور باہر نیچے کا منظر دیکھنے لگے۔ اس سے ہٹے تو پھر فلسفیانہ گفتگو شروع کر دی۔
باپو نے کہا ’’اپنے پنڈ میں ایسا ہی ایک ٹاور بنائیں گے، بس دو مربعے گندم کاٹ لیں‘‘۔۔۔پُت ایک گوری کی پنڈلیوں کو دیکھتے ہوئے بولا۔ باپو! ’’کیا وہاں ایسی انگریزنیاں بھی آئیں گی‘‘۔۔۔باپو۔’’اتنا اونچا اور خوبصورت ہو گا کہ ان کا ’’باپ‘‘ بھی آئیگا‘‘۔۔۔’’پُت۔’’ مُسلے تو حقے کے دھوئیں سے لشکتے چمکتے بُرج کو کالا کر دینگے‘‘۔۔۔باپو۔ ’’مُسلوں کو گائوں سے نکال دینگے یا انکے حقے توڑ دینگے، اپنا ٹاور جب بنے گا تب دیکھیں گے، اب اسکی سیر کرتے ہیں‘‘۔ اسکے ساتھ ہی باپو نے کہا۔ ’’سنا تھا اس ٹاور سے دور تک نظر آتا ہے‘‘۔۔پُت۔’’ ہاں وہ تو نظر آ رہا ہے، وہ دیکھو دور تک سمندر اور صحرا ہی صحراہے‘‘۔۔باپو۔’’ پر اپنا پِنڈ تو نظر نہیں آتا‘‘۔ اسکے ساتھ ہی سردار نے وہاں تصویریں بناتے ایک نوجوان سے چھیننے کے انداز میں سٹینڈ پر لگا کیمرہ پکڑتے ہوئے کہا۔’’ ذرا ’دوربین‘ دینا، شاید اس سے اپنا پنڈ بھی نظر آ جائے‘‘۔
ہم نے اسی روز واپس آنا اور ابھی کئی جگہ جانا تھا، اس لئے وہاں سے نیچے آنیوالی لفٹ کی طرف آ گئے تاہم نوجوان کا آخری سوال کان میں ضرور پڑ گیا۔ ’’باپو بندہ نیچے گر جائے اسکے تو گوڈے گٹے ٹوٹ جائینگے‘‘۔
828 میٹر اونچے برج الخلیفہ میں 18 میٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے لفٹ چلتی ہے۔ لفٹ میں تیس افراد کے کھڑے ہونے کی گنجائش ہے۔ لفٹ سیر کرنے والوں کو گرائونڈ فلور سے 125ویں منزل تک بغیر رُکے لے جاتی ہے۔ ایک ٹکٹ کی قیمت ساڑھے 4 ہزار پاکستانی روپے کے برابر ہے۔ مزید اوپر جانا ہو تو ٹکٹ کی قیمت دُگنی ہے۔ برج الخلیفہ کے سامنے دنیا کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا شاپنگ سنٹر دبئی مول ہے۔ دونوں شہرت کی حامل عمارتوں کے درمیان واٹر ڈانسنگ کی سائٹ ہے۔ شام کے بعد برلبِ شب واٹر ڈانسنگ ایک حسین منظر ہوتا ہے جب آتشیں انار کی طرح پانی بیسیوں میٹر اوپر جاتا اور چاروں طرف لہراتا بل کھاتا اٹکھیلیاں کرتا پانی کیساتھ پانی ہوجاتا ہے۔ رات کو تو اس باراس مقام پر جانے کا موقع نہ مل سکا تاہم برج الخلیفہ میں لفٹ کی طرف بڑھتے ہوئے بے وقت واٹر ڈانسنگ کا منظر نظر آیا۔ یہ دھوپ میں بارش کی مانند تھا۔ دبئی مول میں خاصے کی چیز انڈرواٹر زو (پانی میں چڑیاگھر) ہے۔ دبئی میں متعدد بار ٹیکسی میں سفر کرنا پڑا۔ ٹیکسی ڈرائیور اپنے کام سے مطمئن نظر آئے۔ لگژری کاریں ٹیکسی کے طور پر چلتی ہیں۔ ٹیکسی آسان قسطوں پر مل جاتی ہے۔ BMW اور LEXUS زیادہ تر ٹیکسی کے طور پر چل رہی ہیں۔ ایک ڈرائیور نے بتایا کہ اس نے 45 لاکھ روپے (پاکستانی) میں لکسس خریدی، پاکستان میں یہ گاڑیاں دو گنا ٹیکس پر آتی ہیں۔
امارات میں ٹریفک کا بہترین نظام ہے‘ سڑکیں کشادہ مگر کبھی رش کی وجہ سے منٹوں کا سفر گھنٹوں میں طے ہوتا ہے۔ ہارن کا کم از استعمال ہوتا ہے۔ سگنل کی خلاف ورزی پر پانچ سو درہم (15 ہزار روپے) جرمانہ ہے۔ ڈرائیور کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر بیٹھے مسافر نے بیلٹ نہیں لگائی تو اس مسافر کو 5 سو درہم جرمانہ ہو گا۔ حادثے کی صورت میں پولیس قصوروار کا فیصلہ کر کے اسے موقع پرنقصان پورا کرنے کا حکم دینے کا اختیار رکھتی ہے۔قصور وار عموماً بیک سے ٹکرانے والا پاتا ہے کہ اس نے مناسب فاصلہ کیوں نہیں رکھا۔
امارات میں ہر قابل ذکر مقام پر ٹکٹ لگائی گئی ہے۔ خوبصورت مقامات اگر تخلیق کئے گئے ہیں تو ٹکٹ اس ملک کا حق بھی ہے۔ سیاحتی مقامات کی امارات میں کوئی کمی نہیں البتہ 2017ء میں سب سے زیادہ جبلِ جیش راس الخیمہ کا سیاحوں نے وزٹ کیا۔ یہ مری کی طرح صحت افزا مقام ہے۔ رواں سال کے آغاز پر جہاں برف باری بھی ہوتی رہی۔
شیخ زاید بن سلطان النہیان اور انکے جان نشینوں کے وژن نے صحرائوں کو گلشن اور گلستان میں بدل دیا۔ اس ملک میں روزگار کے بے شمار مواقع ہیں، قسمت آزمائی کرنیوالا کوئی بدقسمت ہی ہو گا جو وہاں گیا اور نامراد لوٹ آیا ہو۔ سڑکوں اور عمارات کی تعمیر تیزی سے جاری ہے، بڑے بڑے منصوبے جو دہائی قبل رُک گئے تھے وہ پھر شروع ہو چکے ہیں۔ ملازمتیں ہر شعبے میں موجود ہیں۔ اگر کوئی کسی بھی ہنر سے ناآشنا ہے تو لیبر میں ایڈجسٹ ہو سکتا ہے۔ دیرا دبئی اور بار دبئی سمندر میں چھوٹے بحری جہاز پھل، سبزیاں اور دیگر اشیاء لے کر جہاں لنگر انداز ہوتے ہیں ان پر مزدوری مل سکتی ہے۔ بات صرف کسی بھی شعبے میں ’’اِن‘‘ ہو کر سٹارٹ لینے کی ہے پھر آگے قدرت راستے بناتی رہتی ہے۔ بیٹے طاہر سمیت ایک ہفتہ دبئی میں گھومتے پھرتے گزارا۔ برج العرب دنیا کا سب سے زیادہ بلندی پر اور پہلا سیون سٹار ہوٹل ہے‘ اس کی چھت کی ایک سائیڈ پر ہیلی پیڈ بنا ہوا ہے۔اسکی دیواریں نہیں،جہاں ٹینس کے نمائشی میچ ہوچکے ہیں۔ کبھی برج العرب کی تصویر امارات کے کرنسی نوٹوں پر چھپتی تھی۔ ہوٹل دور سے صلیب کی مانند نظر آتا ہے۔ مقامی آبادی کا کہنا تھا کہ برطانوی ماہرینِ تعمیر نے منصوبے کے تحت ایسا ڈیزائن تیار کیا، اسکے بعد کرنسی نوٹوں سے یہ تصویر ہٹا دی گئی۔
بار دبئی میں میوزیم عربوں کی ثقافت کلچر اور تاریخ کا مظہر ہے۔ میوزیم میں جنگوں میں استعمال ہونیوالا اسلحہ بھی موجود ہے۔ یہ دیکھ کر حیرانی اور تاریخ پر ایک بار پھر نظر ڈالنے کی ضرورت محسوس ہوئی کہ اس اسلحہ سے عربوں نے کس کیخلاف جنگ لڑی۔
2011ء میں صحافیوں کیساتھ امارات ایئرلائنزکے فیملرائزیشن ٹرپ پر جانے کا اتفاق ہوا۔ امارات ائرلائنز کا 80 کی دہائی کے آخر میں پاکستان سے2 جہاز لیز پر لیکر آغاز ہوا، آج اس لائنز کے سینکڑوں جہاز ہیں۔ دبئی میں تین میں سے ایک ائرپورٹ امارات ائرلائنز کا اپنا ہے‘ جہاں ہر دو منٹ بعد ایک جہاز لینڈ کرتا نظر آیا تاہم واپسی کا سفر کوئی خوشگوار نہیں تھا۔برملا کہا جاسکتا ہے کہ دبئی کا خوبصورت، پُرخطر اور یادگار سفر تھا۔ جہاز نے بڑے اچھے طریقے سے ٹیک آف کیا۔ ہوا کے دباؤ میں کمی بیشی سے جھٹکوں کا محسوس ہونا ایک معمول ہے۔ پاکستان میں داخل ہوئے تو بارش ہو رہی تھی شاید اسکے باعث جھٹکے زیادہ ہی محسوس ہوئے۔ اسی پرواز میں شاہد آفریدی بھی تھے۔ اکانومی کلاس میں جاتے ہوئے بزنس کلاس سے گزرے تو آفریدی موبائل سے کھیل رہے تھے۔ سوچا کسی انہونی کی صورت میں جنید جمشید کی طرح اسی ایک سپوت کا چرچا ہو گا۔ جھٹکوں کے صدقے خدا یاد آتا رہا۔ گزشتہ ماہ روس میں ایک جہاز 71 مسافروں کو لے گرا تھا۔ اسکے انجن میں ممکنہ طور پر برف جم گئی تھی۔ وہ منظر بھی سامنے تھا جب 1972ء میں ایک خاندان کے 44 مسافر یوراگوئے سے چلی جا رہے تھے کہ جہاز برفانی چوٹی سے ٹکرا کر گر گیا۔ ‘ 15 بچ گئے جو کئی روز مرنے والوں کا گوشت کھا کر زندگی کی امید لگائے رہے۔موسم کی خرابی کے باعث جہاز کے لرزنے پر جان لیوا پریشانی اس لئے نہیں تھی کہ عملے کے لوگ معمول کیمطابق کام جاری رکھے ہوئے تھے۔ ایمرجنسی کی صورت میں ان میں بے چینی دیکھی جاتی ہے۔
لاہور ائرپورٹ پر بسلامت اترے تو بارش ہو رہی تھی‘ امارات کی رنگینیوں کی یاد تازہ تھی۔ رات اڑھائی بجے گھر پہنچے تو 47ء والا پاکستان نظر آیا۔ بجلی بند تھی،پانی بھی نہیںتھا جو دفتر جانے کے بعد دوپہر بارہ بجے بحال ہوئی۔ پھر بھی اپنا وطن اپنا وطن ہے جیسا بھی‘ جنت نظیر بن سکتا ہے۔ ہم نے یہیں رہنا ہے یہیں جینا ہے اور مرنا ہے کیونکہ ہم کوئی سیاستدان نہیں ہیں!

متعلقہ خبریں