صاحب_ایک_گڑیا_لے_دو

2017 ,دسمبر 5

بنتِ ہوا

بنتِ ہوا

تہذیب

bintehawa727@gmail.com



اس نے تیسری بار جام بنایا اور ایک ہی سانس میں پی گئی.
اُس کی آنکھوں کے سرخ ڈورے مزید گہرے اور سانسیں بے قابوھونے لگیں
اُس نے لڑکھڑاتے ہوئے ہاتھ ایک بار پھر جام کی طرف بڑھائے تو میں نے مداخلت کی ۔
اُس نے خمار آلود آنکھوں سے مجھے دیکھا اور کہا صاحب ہمارا دھندا ہی ایسا ہے.
آپ بھی ایک جام لگائیں تاکہ لگے دم مٹے غم.
میں نے معذرت کی تو اس نے بڑھا ہوا ہاتھ روکا اور خمار آلود آنکھوں سے میری طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔
صاحب کیا پروگرام ھے؟
میں نے کہا میں تم سے کچھ باتیں کرنا چاہتا ہوں. 
اُس نے بآواز بلند ہنسنا شروع کردیا ۔
صاحب ہمیں پیسے باتوں کے نہیں ملتے بلکہ دھندے کے ملتے ہیں اور آپ کیا پہلی رات کی دلہن سمجھ رہے ہیں مجھے؟.
میں نے پوچھا تم کتنا پڑھی لکھی ھو 
اس نے ہنستے ہوئے کہا۔۔
صاحب میں نے ٹھوکروں میں سولہ جماعتیں پاس کی ہیں اور طالب علموں سے لے کر اساتذە تک ہر عمر اور ہر قبیلے کے لوگ میرےاستاد ہیں
میں نے پوچھا کوئی ادھوری خواھش؟
اب اس کی آنکھوں میں آنسوؤں کی جھڑی لگ گئی۔
اُس نے روتے ھوئے میرا دامن پکڑا اورزور زور سے روناشروع کردیا.
میں نے بمشکل اس کو سنبھالا تو اس نے کہا
صاحب ایک گڑیا لے دو
بے زبان گڑیا 
جس سے دل بہلاؤں میں
اپناحال سناؤں میں 
وە میرے راز چھپائے گی 
بس سنتی سنتی جائے گی 
صاحب ایک گڑیالے دو 
یاپھر
زہر کی پڑیالے دو
میں وہاں سے نکل آیا راستے میں ہر چوراہے 
ہر گلی پر مجھے درجنوں آوازیں آئیں
صاحب ایک گڑیا لے دو یاپھر زہر کی پڑیا لے دو

نوٹ:اگر آپ بھی اپنا کوئی کالم،فیچر یا افسانہ ہماری ویب سائٹ پر چلوانا چاہتے ہیں تو اس ای ڈی پر میل کریں۔ای میل آئی ڈی ہے۔۔۔۔

bintehawa727@gmail.com

ہم آپ کے تعاون کے شکر گزار ہوں گے۔

متعلقہ خبریں