جاؤ اپنے ربّ سے جا کر پوُچھو کہ"فرید"کون

2017 ,نومبر 3

بنتِ ہوا

بنتِ ہوا

تہذیب

bintehawa727@gmail.com



جب پاکپتن کے شہنشاہ زُہدُالانبیاء معراجُ السّالکین قُطبُ المشائخ سیدنا حضرت بابافریدُالدّین مسّعُود گنجِ شکر رحمتُہ اللّٰہ علیہ کا جب ظاہری وِصال ہوا تو آپ رحمتُہ اللّٰہ علیہ کے دونوں شہباز حضرت مخدُوم علاؤالدّین علی احمد صابِر پِیا کلیری رحمتُہ اللّٰہ علیہ اور خُواجہ نِظامُ الدّین اولیاء رحمتُہ اللّٰہ علیہ آپکی آرام گاہ پر موجُود تھے پاکپتن سے کُچھ لوگ آئے اور کہنے لگے آپ دونوں ولئ کامِل ہیں ہمیں بتائیے کہ قبر میں آپکے پیشوا کیساتھ کیا مُعاملہ پیش آیا ہے...
حضرتِ نِظامُ الدّین علیہ رحمہ نے کشف فرمایا 
کُچھ لمحُوں بعد جُھوم کر نعرہ لگایا....
حق فرید یا فرید حق فرید یا فرید...
لوگوں نے پُوچھا حضُور کیا ہوا آپ علیہ رحمہ نے فرمایا لوگوں .......
مُنکر نکیر آئے ہیں مُرشِدپاک کو اُٹھا کر بٹھایا ہے اور پوچھ رہے ہیں کہ " مَنْ رَبُکَ" اے فرید بتا تیرا ربّ کون ہے...
بابا فریدُالدّین رحمتہ اللّٰہ علیہ نے ایک بازُو مُنکر کا پکڑا اور دُوسرا بازُو نکیر اور فرمایا فرید نے 90سال لوگوں کو بتایا ہے کہ تمہارا ربّ کون ہے تُم فرید سے کیا پُوچھتے ہو کہ اُسکا ربّ کون ہے جاؤ اپنے ربّ سے جا کر پوُچھو کہ"فرید"کون ہے

نوٹ:اگر آپ بھی اپنا کوئی کالم،فیچر یا افسانہ ہماری ویب سائٹ پر چلوانا چاہتے ہیں تو اس ای ڈی پر میل کریں۔ای میل آئی ڈی ہے۔۔۔۔

bintehawa727@gmail.com

ہم آپ کے تعاون کے شکر گزار ہوں گے۔

متعلقہ خبریں