اس ملک کے بڑوں کا بھلا ہو جنہوں نے تحریک انصاف کو تحریک استقلال بننے سے بچا لیا ، مگر اب بھی عمران خان کی سب سے بڑی کمزوری کیا ہے

2018 ,دسمبر 14



لاہور (ویب ڈیسک )  موجودہ اسٹیبلشمنٹ نے تحریک انصاف کو تحریک استقلال کے انجام سے بچا لیا اور بھرپور معاونت سے حکمرانی کا چانس دلوا دیا۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن سے مایوسی اس کا اہم سبب ہے۔ ان دونوں نے ملک کی کو برے طریقے سے ہلایا ہے کہ

نامور  خاتون کالم نگار  طیبہ ضیاء اپنے ایک کالم میں  لکھتی ہیں ۔۔۔۔۔ وطن عزیز کا ہر فرد یہ بات سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ اب کوئی نجات دہندہ سیاسی لیڈر انہیں اس سیاسی و معاشی گرداب سے نکال سکتا ہے۔ عمران خان کو بطور نجات دہندہ قبول کرنا پڑا۔ کھیل کے میدان کے کپتان عمران خان نے سیاست کے میدان میں اترنے کے بعد عوام کو تبدیلی کی طرف مائل ہونے پر مجبور کیا۔ مجبور و بے بس عوام نے تحفہ خداوندی سمجھتے ہوئے عمران خان کی قائدانہ پکار پر لبیک کہا۔ خصوصاً نوجوان طبقہ نے بھرپور انداز میں کپتان کی ٹیم کا حصہ بننے کا یقین دلایا۔ کرپشن کے خلاف بلند آواز میں عوام نے اپنی حمایت کا یقین دلایا۔ عمران خان کی بنائی ہوئی سیاسی پارٹی پاکستان تحریک انصاف نے بنیادی سطح پرپڑھے لکھے قابل نوجوانوں کو پارٹی کی باگ ڈور دینے کا اعلان کیا مگر پی ٹی آئی پر بھی انہیں جاگیرداروں‘ نوابواں اور مفاد پرست سیاستدانوں نے غلبہ حاصل کر لیا۔ دوسری سیاسی پارٹیوں سے دھتکارے ہوئے افراد جوق در جوق پی ٹی آئی میں شمولیت کر کے آج حکومت میں وزیر و مشیر بنے بیٹھے ہیں۔ اورعمران خان نے اپنی ہی کہی ہوئی بات سچ ثابت کر دکھائی اب میں فرشتے کہاں سے لائوں۔کپتان نے سیاست کو بھی کھیل سمجھ کر میچ فکسنگ میں ہی اپنی عافیت سمجھی۔ اصغر خان بحیثیت ائرمارشل اپنے فیصلوں کو حرف آخر کہتے رہے ہیں بالکل اسی طرح عمران خان بھی اپنے منہ سے نکلی ہوئی ہر بات کو حرف آخر سمجھتے ہیں۔ وہ تو ملک کے بڑوں کا بھلا ہو جنہوں نے عمران خان کو اصغر خان اور تحریک انصاف کو تحریک استقلال بننے سے بچا لیا۔ البتہ تحریک انصاف میں پرانے پاپی حکومت گھسیٹنے سے معذور دکھائی دے رہے ہیں۔(ش س م) 
 

 

متعلقہ خبریں