اگر ایم کیو ایم پیچھے ہٹ جائے تو کیا واقعی عمران خان وزیراعظم نہیں رہیں گے ؟ کپتان کی باتوں میں قبل از انتخابات کا ذکر کیوں ؟ صف اول کے صحافی کا خصوصی تبصرہ

2018 ,دسمبر 14



لاہور (ویب ڈیسک) حکومت کے چند اہم رہنمائوں کی جانب سے دوٹوک اعلانات کے باوجود کہ ملک میں قبل از وقت انتخابات کا کوئی امکان نہیں، سیاسی حلقوں میں نئے قومی انتخابات پر بحث جاری ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ وزیر اعظم عمران خان‘ جنہوں نے ایک صحافی کے جواب میں قبل از وقت

نامور  کالم نگار  ڈاکٹر رشید احمد خان  روزنامہ دنیا میں اپنے ایک کالم میں  لکھتے  ہیں ۔۔۔۔۔ انتخابات کا اشارہ دیا تھا‘ کی جانب سے یا ان کے ترجمان کی طرف سے اس بیان پر مزید کچھ نہیں کہا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ کچھ حلقے قبل از انتخابات کے امکان کو واقعی ایک حقیقت سمجھ کر اس پر تبصرہ کر رہے ہیں اور حکومت کو اس بارے میں وارننگ بھی دے رہے ہیں‘ اور بعض حلقے اسے حکومت کی ناکامی قرار دے رہے ہیں۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف نے بھی کہا ہے کہ ان کی پارٹی قبل از وقت انتخابات کے لئے تیار ہے‘ حالانکہ مسلم لیگ (ن) اس وقت سخت دبائو میں ہے اور اس کی قیادت کے تقریباً تمام اہم ارکان‘ جن میں خود نواز شریف بھی شامل ہیں‘ نیب کے مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ نواز شریف کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو یقین ہے کہ اگر قبل از وقت انتخابات ہوتے ہیں تو ان کے نتائج (ن) لیگ کے حق میں ہوں گے کیونکہ موجودہ حکومت کی 100 دن کی کارکردگی سے عوام خوش نہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کا موقف بھی یہی ہے کہ اگر حکومت نے قبل از وقت انتخابات کروانے کا فیصلہ کیا تو 

اس سے اپوزیشن پارٹیاں خصوصاً (ن) لیگ اور پاکستان پیپلز پارٹی زیادہ مستفید ہوں گی۔کیا ملک میں واقعی قبل از وقت انتخابات ہونے جا رہے ہیں؟ اس سوال کا جواب دینے سے قبل وزیر اعظم کے اس بیان مع اس کے سیاق و سباق‘ کی وضاحت ضروری ہے جو اس بحث کا باعث بنا ۔ پاکستانی صحافیوں کے ایک گروپ سے بات چیت کے دوران ایک صحافی نے وزیر اعظم کی توجہ اس امکان کی طرف دلائی تھی کہ اگر موجودہ حکومت پنجاب کے جنوبی اضلاع پر مشتمل ایک الگ صوبہ بنائے گی تو باقی ماندہ یعنی سنٹرل پنجاب کی اسمبلی میں تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے اراکین اکثریت میں نہیں رہیں گی۔ اس طرح پنجاب میں پی ٹی آئی کی حکومت ختم ہو جائے گی۔ اس پر وزیر اعظم نے جواب دیا کہ ہو سکتا ہے اس سے قبل نئے انتخابات ہو جائیں۔ یاد رہے کہ اگر حکومت پنجاب کے جنوبی اضلاع سے تعلق رکھنے والے اراکین اسمبلی پر مشتمل نئے صوبے کی مجلس قانون ساز تشکیل دیتی ہے تو اس کیلئے نئے انتخابات لازمی نہیں‘ کیونکہ ماضی میں ایسی مثالیں موجود ہیں کہ ملک کی دو حصوں میں تقسیم کے باوجود نئی اسمبلیوں کے انتخابات نہیں کرائے گئے تھے۔

 1971ء میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے باوجود، ذوالفقار علی بھٹو نے نئے انتخابات نہیں کرائے تھے۔ 1970ء کے انتخابات میں جو ارکان مغربی پاکستان سے منتخب ہوئے تھے انہی پر مشتمل قومی اسمبلی تشکیل دی گئی‘ جس نے بیک وقت قانون ساز اور آئین ساز ادارے کا کام کیا۔ اس لئے اگر حکومت جنوبی پنجاب کے نئے صوبے کی تشکیل پر عمل پیرا ہوتی ہے تو آئین کی رو سے اس کے لئے قبل از وقت انتخابات کرانا لازمی نہیں؛ البتہ سیاسی طور پر حکومت اسے ضروری قرار دے سکتی ہے کیونکہ پی ٹی آئی کسی قیمت پر پنجاب کو اپنے ہاتھ سے جاتے اور مسلم لیگ (ن) کی جھولی میں گرتے ہوئے نہیں دیکھ سکتی۔ یہ دونوں آبادی کے لحاظ سے پاکستان کی کل آبادی کے دو تہائی سے زیادہ ہیں۔ صرف کے پی اور بلوچستان کے ساتھ اسلام آباد میں حکومت نہیں کی جا سکتی۔ بعض حلقے موجودہ حکومت کے دور میں جنوبی پنجاب کے صوبے کے قیام کو مکمل طور پر خارج از امکان قرار دیتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ یہ کارنامہ اپوزیشن کے تعاون کے بغیر سرانجام نہیں دیا جا سکتا‘ اور اس وقت حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تعلقات کی جو نوعیت ہے

 اس کے پیش نظر اس بات کا بہت کم امکان ہے کہ دونوں اس مسئلے پر ایک دوسرے سے تعاون کریں۔ یہی مسئلہ قبل از وقت انتخابات کا باعث بھی بن سکتا ہے کیونکہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ڈیڈ لاک کی وجہ سے قانون سازی کا عمل مکمل طور پر تعطل کا شکار ہے۔گزشتہ دنوں وزیر اعظم نے ایک بیان میں دھمکی دی تھی کہ اگر قومی اسمبلی میں پبلک اکائونٹس کمیٹی کے چیئرمین کے انتخاب کے مسئلے پراپوزیشن اپنے موقف کو تبدیل نہیں کرتی اور اس کی وجہ سے قومی اسمبلی کی سٹینڈنگ کمیٹیوں کی تشکیل کا معاملہ بدستور معلق رہتا ہے تو حکمران پارٹی اسمبلی میں یک طرفہ طور پر اپنے ارکان پر مشتمل ان کمیٹیوں کو قائم کر دے گی۔ اس کے علاوہ حکومت نے اپوزیشن کو یہ پیغام بھی دیا کہ اگر کمیٹیوں کی عدم موجودگی کی وجہ سے قانون سازی کا عمل اسی طرح رکا رہا تو حکومت صدارتی آرڈیننس کے ذریعے، قانون سازی کا عمل شروع کر دے گی۔ مگر اپوزیشن کی طرف سے سخت ردعمل آنے کے بعد حکومت نے غالباً اپنا ارادہ بدل لیا ہے۔ اگر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ڈیڈ لاک جاری رہتا ہے اور حکومت یا اپوزیشن میں سے کوئی بھی اسے ختم کرنے کیلئے لچک کا مظاہرہ نہیں کرتی،

 تو اس صورت میں نئے یا قبل از وقت انتخابات ناگزیر ہو جائیں گے۔ وفاقی حکومت نے تو واضح کر دیا ہے کہ وہ کسی قیمت پر شہباز شریف کو قومی اسمبلی میں پبلک اکائونٹس کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے تسلیم نہیں کرے گی۔ استدلال یہ ہے کہ سابقہ وزیراعظم کے بھائی ہونے کے ناتے سے شہباز شریف، پبلک اکائونٹس کمیٹی کے چیئرمین بننے کے اہل نہیں۔ اس کے علاوہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ لیڈر آف دی اپوزیشن یعنی شہباز شریف کو متعدد مقدمات کا سامنا ہے اور اغلب امکان یہ ہے کہ جب تک پی ٹی آئی کی حکومت قائم رہتی ہے وہ مقدمات میں ہی الجھے رہیں گے۔ اس لئے پبلک اکائونٹس کمیٹی کے چیئرمین کے فرائض ادا کرنے کیلئے ان کے پاس وقت نہیں ہو گا۔ لیکن اگر شہباز شریف کی تمام مقدمات میں ضمانت ہو جاتی ہے تو حکومت کی دلیل میں وزن نہیں رہے گا۔ اس صورت میں حکومت کے سامنے دو ہی راستے ہوں گے کہ شہباز شریف کو بطور چیئرمین پبلک اکائونٹس کمیٹی تسلیم کرے یا پھر اسمبلیاں توڑ کر نئے انتخابات کروائے۔نئے یعنی قبل از وقت انتخابات کے آپشن کے حق میں ایک اور عنصر بھی موجود ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ (پاکستان) کے رہنمائوں کی 

طرف سے وفاقی حکومت سے شکایتوں اور مطالبات کا نیا سلسلہ شروع ہوگیا ہے‘ اور انہیں تسلیم کرنے کیلئے دبائو بھی ڈالا جا رہا ہے۔ اس تنظیم کے ایک مرکزی لیڈر عامر خان نے حال ہی میں ایک تقریر میں پی ٹی آئی کی وفاقی حکومت کو یاد دلایا کہ اس کی تشکیل میں ایم کیو ایم کے سات ارکان قومی اسمبلی کی حمایت نے فیصلہ کن کردار ادا کیا تھا اور یہ کہ اگر ایم کیو ایم موجودہ حکومت کی حمایت سے اپنا ہاتھ کھینچ لیتی ہے تو پھر عمران خاں وزیراعظم نہیں رہیں گے۔ دوسری طرف بی این پی کے ساتھ تعلقات میں بھی کھنچائو موجود ہے کیونکہ بی این پی کو شکایت ہے کہ قومی اسمبلی میں وزیراعظم کے انتخاب میں اس کے ارکان کی حمایت کے بدلے میں پی ٹی آئی نے اس کے ساتھ جو چھ نکاتی معاہدہ کیا تھا‘ اس کی اہم شقوں پر عمل درآمد کی رفتار انتہائی غیر تسلیم بخش ہے۔ ایم کیو ایم اور بی این پی موجودہ حکومت کی اتحادی پارٹیاں ہیں۔ ان کی حمایت حکومت کی بقا کیلئے نہایت اہم ہے۔ اسی وجہ سے یہ دونوں پارٹیاں حکومت پر دبائو ڈال کر اپنے مطالبات یا شرائط منوانے کی بہتر پوزیشن میں ہیں لیکن دونوں پارٹیوں کے مطالبات اور شرائط میں بعض بڑی حساس نوعیت کی ہیں

 اور حکومت کیلئے ان پر عمل کرنا آسان نہیں۔ مثلاً ایم کیو ایم کا مطالبہ یہ ہے کہ سندھ میں پیپلزپارٹی کی صوبائی حکومت کو بائی پاس کر کے کراچی میں ترقیاتی منصوبوں کیلئے علیحدہ پیکیج دیا جائے۔ بی این پی کی طرف سے لاپتہ افراد کے مسئلے پر دبائو حکومت کے لئے پریشان کن ہے۔ اس کے علاوہ حکومت قومی اسمبلی میں اپنی اپوزیشن کے تناظر میں ہر اس دبائو کاشکار ہے جو ایک مخلوط حکومت کو درپیش ہوسکتا ہے۔ پنجاب میں صورتحال اور بھی نازک ہے۔ یہاں پی ٹی آئی کو حکومت کی بقا کیلئے آزاد امیدواروں کے علاوہ مسلم لیگ (ق) جیسی تجربہ کار سیاسی پارٹی کی طرف سے دبائو کا نشانہ بننا پڑتا ہے۔ ان حالات میں اگرچہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سمیت دیگر اہم اراکین حکومت بھی قبل از انتخابات کو خارج از امکان قرار دے رہے ہیں‘ لیکن پاکستان میں تبدیلی لانے یعنی ایک نیا پاکستان بنانے کا جو وعدہ پی ٹی آئی نے قوم سے کر رکھا ہے اسے پورا کرنے کیلئے جس آزادی کی ضرورت ہے‘ وہ نہ صرف مرکز بلکہ پنجاب میں بھی دو تہائی اکثریت سے ہی حاصل ہوسکتی ہے اور اس کیلئے واحد آپشن نئے یا قبل ازوقت انتخابات ہی ہوسکتے ہیں۔(ش س م) 
 

 

متعلقہ خبریں