خدیجہ انصاف! قوم جمہوریت کی متلاشی

2018 ,جون 11



جیل کے گیٹ کے سامنے ہنستے، مسکراتے فاتحانہ انداز میں اتراتے پھولوں ، نوٹوں کے ہاروں سے لدے نوجوان کی لاش گرنے میں دس سیکنڈ بھی نہیں لگے۔ حملہ آور نے سنبھلنے تو کیا تڑپنے کا بھی موقع نہیں دیا۔ حملہ آور کا ا س مقتول سے کوئی بظاہر مقابلہ نہیں تھا۔ یہ تیس پینتیس سال کی عام سی جسامت کی عورت تھی۔ وہ بجلی کی سی تیزی سے دس بارہ افراد کی معیت میں چلنے اس نوجوان کی طرف لپکی گردن پر زور سے ہاتھ مارا اگلے لمحے وہ زمین پر گر پڑا۔ اس عورت نے سرعت کے ساتھ تین گولیاں اس کے دل میں اُتار دیں۔ عینی شاہد کے مطابق کسی کوکچھ سمجھنے کا موقع بھی نہ ملا۔ اپنا کام پورا کرکے اس نے گرفتاری دیدی۔ دو سال قبل اس عورت کے خاوند کا قتل ہوا، قاتل یہی نوجوان تھا۔ پیسے کی ریل پیل تھی تگڑا وکیل کیا جس نے شاید جج بھی کر لیا ہو۔ قتل کیس میں دو سال قید ہوئی۔ اڑھائی تین سال قبل قتل ہونے والے شخص کی بیوہ نے اگلی عدالت میں کیس کرنے کے بجائے کسی کمانڈو سے تربیت حاصل کی۔ آجکل ایسی ٹریننگ کے مراکز بھی کُھلے ہوئے ہیں۔ قاتل کی رہائی کی خوشی میں اس کے گھر والے جس رات جشن کی تیاریاں کر رہے مقتول کی بیوہ کے تن بدن میں آگ لگی تھی۔ اگلے روز نقاب اوڑھ کر وہ بھی موقع پر پہنچ گئی اور اپنے انتقام کی آگ ٹھنڈی کر لی۔ 
ہمارے معاشرے میں قانون کے سب سے زیادہ پابند اور احترام عدالتوں سے قتل جیسے قبیح جرائم کے متاثرین ہیں۔ انصاف نہ ملے تو ایسے لوگ خودکشی کرنے یا قانون کو ہاتھ میں لیتے دیکھے گئے ہیں۔ ملک مبارک کھوکھر ہنجروال لاہور کے رہائشی ہیں۔ اب ستر کے پیٹے میں ہیں۔ ان کے بڑے بھائی نے ایف اے کیا تو برادری کے حاسدوں نے اس پر ٹریکٹر چڑھوا دیا۔ مقتول کے باپ نے بیٹوں اور برادری کے دبائو کے باوجود مقدمہ درج نہیں کرایا بزدلی کے طعنے بھی سُننا پڑے۔ جس نوجوان نے ٹریکٹر سے ہلاک کیا تھا اسی کو پیسے دیکر قتل کرانے والے کو قابو کر کے مقتول کے ایک بھائی نے آنکھیں نکال دیں۔ قتل کی صورت میں پھانسی ہونی تھی اس جرم کی سزا سات سال ہے۔ جرائم پیشہ عناصر اس تحریر کو مجوزہ کہانی نہ سمجھیں۔ جان لیوا حملے یا بربریت پر دہشتگردی کی دفعات لگ سکتی ہیں جن کی سزا موت ہے۔ قتل سے بڑی دہشتگردی کیا ہو سکتی ہے۔ ہر قتل اقدام قتل، ریپ اور اغوا برائے تاوان پر دہشتگردی کی دفعات لگنی چاہئیں جس میں فریقین میں صلح کی گنجائش نہیں ہوتی۔ کراچی میں شاہ زیب قتل کیس اس کی مثال ہے۔ 
آج قانون دان خدیجہ صدیقی کو انصاف کی تلاش ہے۔ اسے تین مئی 2016ء کو دن دیہاڑے حملہ کر کے محاورتاً نہیں بلکہ حقیقت میں زخموں سے چُور کر دیا گیا تھا۔ حملہ آوروں نے اس کو 23 زخم لگائے۔حملہ آور کون تھا خدیجہ کے بقول اسے کلاس فیلو شاہ حسین نے نشانہ بنایا۔ 4مئی 2016ء کو شائع ہوالے والی خبر میں بتایا گیا ’’ڈیوس روڈ پر دو افراد نے خدیجہ کو چھری کے پے درپے وار کر کے زخمی کر دیا‘‘۔ یہ تفصیل سامنے نہیں آ سکی کہ خدیجہ نے شاہ حسین کا نام کب لیا تاہم مجسٹریٹ نے شاہ حسین کو سات سال سزا سنائی جو سیشن کورٹ نے پانچ سال کر دی اور اب ہائیکورٹ نے شاہ حسین کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا۔یہ بھی فیصلے کا حصہ ہے کہ خدیجہ نے چار صفحات کے خط میں شاہ حسین کو پرپوز کیا تھا۔ 
ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعدمجرم پھر ملزم بن گیا۔فیصلے کے تناظر میں تسلیم کرنا پڑے گا کہ خدیجہ کے ساتھ ایسا کوئی واقعہ نہیں ہوا مگر اس کے زخم گواہ ہیں۔ہوسکتا ہے حملہ شاہ حسین نے نہ کیا ہوتو پھر کس نے کیا،اس کا تعین نہیں کیا گیا۔سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس لیا ہے۔ اس پر بھی ردعمل آیا ہے۔ لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن (ایل ایچ سی بی اے) کے جنرل ہاؤس نے ایک قرارداد منظور کی ہے جس میں یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کا فل بینچ ازخود نوٹس لینے کے حوالے سے باقاعدہ اصول وضع کرے۔ یہ قرارداد ایڈووکیٹ تنویر ہاشمی کی جانب سے پیش کی گئی ملزم شاہ حسین کے والد ہیں۔ جسٹس سردار احمد نعیم کے فیصلے پر میڈیا میں طوفان مچا نظر آیا۔تواتر سے کہا جارہا ہے کہ ایک بڑے وکیل کے بیٹے کے خلاف مقدمے میں وکلا اثر انداز ہوئے۔ متاثرہ لڑکی یہ بات بلا دھڑک کہہ رہی ہے۔ خدیجہ صدیقی نے ’’ڈان نیوز‘‘ کے ٹاک شو میں حیران کن انکشافات کئے ہیں۔
آئین اور قانون کے مطابق انتخابات کا انعقاد ہو رہا ہے۔ شیڈول کا اعلان ہو چکا مگر انتخابات کے عدم انعقاد کی چہ میگوئیاں جاری ہیں۔ نگران حکومتیں مکمل ہو چکی ہیں۔ نگرانوں کا بظاہر کوئی ایسا ایجنڈا نہیں ہے۔ 
نگرانوں کے بارے میں ملاجلا ردّعمل سامنے آ رہا ہے۔ خیبر پی کے میں جسٹس (ر) دوست محمد کو وزیراعلیٰ الیکشن کمشن نے نامزد کیا۔ پنجاب میں حسن عسکری کی نامزدگی کوناصر کھوسہ کی طرح متنازعہ بنایا گیا۔ ناصرکھوسہ نے گریس دکھائی انہوں نے حلف اُٹھانے سے معذرت کر لی۔تمام تر شکوک و شبہات، افواہوں چہ میگوئیوں کے باوجود یقین ہے کہ انتخابات مقرر وقت پر ہونگے۔ کاغذات نامزدگی جمع ہو رہے ہیں سپریم کورٹ نے الگ سے بیان حلفی لگانے کوکہا ہے۔ یہ سیاستدانوں کے لئے ماضی کے مقابلے میں انتہائی کٹھن مرحلہ ہے۔ اکتوبر 2017ء میں ترمیم کے ذریعے امیدواروںکو معلومات دینے میں رعایت یا استثنیٰ دیا گیا تھا وہ اب کماحقہ دستیاب نہیں رہا۔ اب نہ صرف غلط بیانی پر کاغذات مسترد ہونگے بلکہ نااہلی ہوگی اورسزا بھی ملے گی۔
انتخابات میں کون جیتے گا وثوق سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ میاں نواز شریف کا ووٹ کوعزت دو کے بیانیے کو کامیابی کی کلید قرار دینے والوں کے اپنے مفادات ہیں۔ عمران کو کلین سویپ پوزیشن میں قرار دینے والوں کا یہ تجزیہ نہیں بلکہ خواہش ہے۔ سرویز بھی حقیقت کے عکاس نہیں ہو سکتے۔ امریکہ میں سارے سرویز ہلیری کو بڑی اکثریت سے کامیاب قرار دے رہے تھے۔ 
عمران خان کو ریحام کی کتاب سے کچھ نہ کچھ نقصان ضرور ہو گا کتاب نہ چھپی تو زیادہ نقصان ہو گا۔ پابندی کی صورت میں ریحام ہر روز ایک نئی سٹوری سامنے لائے گی، اس لئے ریحام کو کتاب کا سانپ نکال لینے دیا جائے۔ مسلم لیگ ن کو سب سے زیادہ نقصان حلف نامے میں تبدیلی پہنچا سکتی ہے۔ عمران خان نے پانچ جگہ سے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا ہے کیا ایک حلقے سے جیت کا یقین نہیں ہے۔ اگر ایک حلقہ مضبوط ہے تو پانچ سے کیوں؟ کئی اور لیڈر بھی کئی کئی حلقوں سے قسمت آزمائی کرتے اور جیت بھی جاتے ہیں۔ چھوڑی ہوئی نشستوں پر ضمنی انتخابات ہوتے ہیں۔ ان کے اخراجات سیٹ چھوڑنے والوں کے ذمہ کیوں نہ کئے جائیں۔ ایک حلقے سے پابندی ہو یا اخراجات برداشت کریں۔ 
سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عمر مختص ہے۔ جج 65 سال میں ریٹائر ہوتے ہیں۔ نوکری سے نجات یا فراغت کی عمر کیوں مختص کی گئی ہے؟ شاید اس لئے کہ اس عمر کے بعد کام، کارکردگی اور کمالات دکھانے کی پہلے جیسی انرجی نہیں رہتی۔ نگران عموماً ریٹائرڈ لوگوں سے چنے جاتے ہیں۔ ان کو آئین طاقتور بناتا ہے ویسے تو سارے نگران اور صدر مل کر سو کلو آٹے کی بوری نہیں اٹھا سکتے۔ ایسی طاقت ان سے عہدوں کی متقاضی بھی نہیں ہے مگر نگرانی کے لئے ریٹائرڈ لوگ ہی کیوں؟

متعلقہ خبریں