ملک صاحب : 6 منزلہ پلازے کو آپ نے 66 منزلہ کیسے بنایا ؟ نئے پاکستان کے حمایتیوں کے اس سوال کا چیرمین بحریہ ٹاؤن ملک ریاض نے ایسا ستھرا جواب دیا کہ اخیر ہو گئی

2018 ,دسمبر 14



لاہور (ویب ڈیسک) سب سے پہلے ایک اچھا جملہ۔ نفسیہ شاہ نے کہا کہ نوازشریف کچھ بولتے نہیں تھے‘ عمران خان بہت بولتے رہتے ہیں۔ ہم نے سوچا تھا کہ مریم اورنگزیب سب سے کم عمر وفاقی وزیر ہیں ۔ اب خبر آئی کہ ان کے خلاف بھی نیب نے کرپشن کے حوالے سے انکوائری شروع کر دی ہے۔

نامور  کالم نگار ڈاکٹر اجمل نیازی اپنے ایک کالم میں  لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔ شاید انہیں گرفتار بھی کر لیا جائے۔ پاکستان میں یہ ایک مثال ہوگی کہ کسی خاتون حکمران کیلئے نیب نے تحقیقات شروع کی ہے۔ وہ گرفتار بھی ہوسکتی ہیں۔ وہ بہت کم عرصے میں بہت سرگرم ہو گئی ہیں۔ ترجمان (ن) لیگ کے طورپر وہ بہت آگے ہیں۔ بلکہ آگے آگے ہیں۔ وہ ان سیاستدانوں میں شامل ہو چکی ہیں جو ہر روز کسی نہ کسی خبر میں ہوتے ہیں اور ان کی تصویر بھی اخبارات میں ہوتی ہے۔ اچھی بات یہ بھی ہے کہ وہ مریم نواز کی دستِ راست ہیں۔جاوید ہاشمی سے اندھی محبت کرنے والے اورنگزیب عباسی مری میں رہتے ہیں۔ نجانے کیسے رہتے ہیں کہ راولپنڈی میں بھی بے پناہ سردی ہے۔ ابھی مجھے میری بہن کلثوم نے پنڈی سے فون کیا ہے اور انسانوں کو قلفی کی طرح جمتے ہوئے سردی کی واردات سنائی ہے۔ اورنگزیب کی زبان سے میں نے صرف جاوید ہاشمی کی بات ہی سنی ہے۔ اسے شاید جاوید ہاشمی کے علاوہ کوئی دوسرا سیاستدان نظر ہی نہیں آتا۔ عباسی صاحب نے بتایا ہے کہ واہ کینٹ سے لیگی رہنما شیخ مختار اشرف نے کہا ہے کہ جاوید ہاشمی ایک انقلابی لیڈر ہے۔ وہ اپنے لیڈر سے اقتدار کے عروج میں اختلاف نہیں کرتے‘ مشکل وقت میں ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں۔

جاوید ہاشمی ہمارا بھی دوست ہے۔ ہم پنجاب یونیورسٹی میں اکٹھے تھے۔ اس نے یہاں سے بڑے کمال کے ساتھ الیکشن جیتا تھا۔ برادرم مجیب شامی کے دفتر میں ایک نعرہ بنایا گیا تھا۔ ایک بہادر آدمی ہاشمی ہاشمی۔ تب شامی صاحب جاوید ہاشمی کو بہت ساتھ رکھتے تھے۔ اب کچھ دوریاں سی نجانے کیوں ہو گئی ہیں۔ اندر کھاتے کوئی خاص بات ہے؟ ہم شامی صاحب سے بھی بہت محبت رکھتے ہیں مگر وہ ہم سے پوچھے بغیر ہم سے ناراض ہو جاتے ہیں۔ مجید نظامی کے بعد ان کا نام ہمارے دلوں میں ہے۔ مگر نجانے کیا ہوا؟ ایک بات ہم تک پہنچی ہے مگر یقین نہیں آیا۔ برادرم عبدالستار عاصم نے بتایا ہے مگر یقین اسے بھی نہیں آتا ہے۔ کسی جگہ ملک ریاض سے کہاگیا کہ چھ منزلہ پلازے کو آپ نے 66 منزلہ کیسے بنا لیا۔ بات تو چھ کی ہے صرف یہ کہ چھ دو دفعہ ہو گیا ہے۔ ملک ریاض نے کہا کہ جیسے 20 سیٹ سے 120 سیٹ بنا لی گئی ہیں۔ اس میں بھی 20 تو ہے‘ اس کے ساتھ صرف ایک سو لگا لیا گیا ہے۔کرتارپور کا افتتاح عمران خان نے کیا ہے۔ وہاں بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کو آنا چاہئے تھا مگر بھارتی وزیرخارجہ سشماسوراج بھی نہ آئی۔ نجانے کس ڈر کے مارے دونوں نہ آئے۔ دونوںکا ڈر مختلف ہے۔ مسئلہ کشمیر کیلئے بھی ہر بھارتی حکمران کے دل میں کوئی نہ کوئی مختلف خیال ہوتا ہے۔

جاوید ہاشمی نے کہا ہے کہ مشکل سے عمران خان ایک سال نکالے گا۔ ہاشمی صاحب کو یاد ہوگا کہ وہ بھی عمران خان کی تحریک انصاف میںگئے تھے اور انہوں نے ایک سال بھی نہیں نکالا تھا۔ کیا اپنے اسی تجربے کی بنیاد پر یہ بات جاوید ہاشمی نے کہی ہے۔ ابھی ایک سال میں بہت وقت رہتا ہے۔ عمران خان نے پہلے سو دن دیئے تھے‘ اس میں تو کچھ خاص نہیں ہوا۔ اب پہلے ایک سال میں کر لیا جائے جو کچھ عمران خان کرنا چاہتے ہیں۔ انہیں سب سے پہلے اپنی ٹیم کی طرف توجہ دینا چاہئے۔ پھر ساری قوم ان کی توجہ کی منتظر ہے۔ بہت امیدیں قوم نے عمران خان کے ساتھ لگائی ہوئی ہیں۔خاتون اول بشریٰ بی بی کیلئے ہر طرف سے خراج تحسین آرہا ہے۔ تحریک انصاف کی ثروت روبینہ ان کی مداح ہیں۔ وہ بشریٰ بی بی سے مل چکی ہیں۔ اکثر شوہر اپنی بیویوں کی تعریف سرعام نہیں کرتے مگر عمران خان نے اپنی اہلیہ اور خاتون اول بشریٰ بی بی کی تعریف کی ہے۔ عمران خان ریاست مدینہ کی بات بھی کرتے ہیں۔ ریاست مدینہ کے سربراہ حضرت محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المومنین اپنی اہلیہ محترمہ حضرت خدیجہ کیلئے فرمایا کہ وہ مری محسنہ تھی۔ یہ بات انہوں نے ام المومنین حضرت عائشہ کی کسی بات کے جواب میں کہی۔ ’’وہ میری محسنہ تھی‘‘ کون ہے جو اپنی بیوی کیلئے محسنہ کے الفاظ استعمال کرے گا۔(ش س م) 
 

 

متعلقہ خبریں